🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب : ذكر النهى عن نبيذ الدباء والحنتم والنقير
باب: کدو کی تونبی سبز روغنی گھڑا اور لکڑی کے برتن میں بنی نبیذ کے ممنوع ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5635
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ فَرْوَةَ، يُقَالُ لَهُ: ابْنُ كُرْدِيٍّ بَصْرِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی، لاکھ کے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5635]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، روغنی مٹکے اور کھجور کی جڑ سے بنائے گئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الَٔشربة 6 (1997)، (تحفة الأشراف: 7082) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5617
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟، قَالَ: نَعَمْ"، قَالَ طَاوُسٌ: وَاللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اسے میں نے ان سے (ابن عمر سے) سنا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5617]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ حضرت طاؤس رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ (الفاظ) ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے سنے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔمشربة 6 (1997)، سنن الترمذی/الٔلشربة 4 (1867)، (تحفة الٔعشراف: 7098)، مسند احمد (2/29، 35، 47، 56، 101، 106، 115، 155) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے خطرہ رہتا ہے کہ فوراً نشہ پیدا ہو جائے اور آدمی کو پتہ نہ چلے اور نشہ لانے والی نبیذ پی بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5618
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ , قَالَا: سَمِعْنَا طَاوُسًا، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" أَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟، قَالَ: نَعَمْ"، زَادَ إِبْرَاهِيمُ فِي حَدِيثِهِ: وَالدُّبَّاءِ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے برتن کی نبیذ سے منع فرمایا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابراہیم بن میسرہ نے اپنی حدیث میں «والدباء» مزید کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5618]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ (ایک راوی) ابراہیم بن میسرہ نے اپنی حدیث میں کدو کے برتن کا بھی ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی کدو کی تونبی سے بھی منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5620
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، قُلْتُ: مَا الْحَنْتَمُ؟، قَالَ: الْجَرُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز رنگ کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: «حنتم» کیا ہوتا ہے؟ کہا: مٹی کا برتن۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5620]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْحَنْتَمِ» (میں «النَّبِيذِ» بنانے) سے منع فرمایا ہے۔ (جبلہ بن سحیم نے کہا:) میں نے پوچھا کہ «الْحَنْتَمُ» کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: مٹی کا مٹکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الِٔشربة 6 (1997)، (تحفة الأشراف: 6670)، مسند احمد (2/27، 42) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5627
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5627]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5628
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5628]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5634
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَالْقَرْعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغنی برتن اور کدو کی تونبی سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5634]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تارکول لگے ہوئے برتن اور کدو کے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8221)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الٔاشربة 13 (3402)، مسند احمد (2/3، 54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5637
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی برتن اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5637]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن، روغنی مٹکے اور تارکول لگے ہوئے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الٔیشربة 6 (1997)، (تحفة الأشراف: 7410) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5648
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَاذَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَوْعِيَةِ وَفَسِّرْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَنْتَمِ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْجَرَّةَ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَهُوَ الَّذِي تُسَمُّونَهُ أَنْتُمُ الْقَرْعَ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَهِيَ النَّخْلَةُ يَنْقُرُونَهَا، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَهُوَ الْمُقَيَّرُ".
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے درخواست کی کہ مجھ سے کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برتنوں کے سلسلے میں سنی ہو اور اس کی شرح و تفسیر بھی بیان کیجئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لاکھی برتن سے روکا اور یہ وہی ہے جسے تم «جرہ» (گھڑا) کہتے ہو۔ «دباء» سے روکا، جسے تم «قرع» (کدو کی تُو نبی) کہتے ہو، «نقیر» سے روکا اور یہ کھجور کے درخت کی جڑ ہے جسے تم کھودتے ہو (اور برتن بنا لیتے ہو) اور «مزفت» جو «مقیر» ۱؎ ہے اس سے بھی روکا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5648]
حضرت زاذان سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گزارش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان برتنوں کے بارے میں سنی ہو، اس کی وضاحت بھی فرمائیے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْحَنْتَمِ» حنتم سے منع فرمایا اور اسے تم مٹکا کہتے ہو۔ اور «الدُّبَّاءِ» دباء سے منع فرمایا، جسے تم کدو کا برتن کہتے ہو۔ اور «النَّقِيرِ» نقیر سے منع فرمایا۔ یہ کھجور کی جڑ ہوتی ہے جسے لوگ اندر سے کرید کرید کر برتن بنا لیتے ہیں، نیز آپ نے «الْمُزَفَّتِ» مزفت سے منع فرمایا اور یہ وہ برتن ہوتا ہے جسے تارکول یا لاکھ مل دی گئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الّٔشربة 6 (1997)، سنن الترمذی/الْٔشربة 5 (1868)، (تحفة الأشراف: 6716)، مسند احمد (2/56) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: پینٹ کیا ہوا روغن چڑھایا ہوا برتن۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں