سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب : الصلاة في الإزار
باب: تہبند میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 768
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، قال: لَمَّا رَجَعَ قَوْمِي مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: إِنَّهُ قَالَ:" لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قِرَاءَةً لِلْقُرْآنِ". قَالَ: فَدَعَوْنِي فَعَلَّمُونِي الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ، وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ مَفْتُوقَةٌ فَكَانُوا يَقُولُونَ لِأَبِي: أَلَا تُغَطِّي عَنَّا اسْتَ ابْنِكَ؟.
عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میرے قبیلہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹ کر آئے تو کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم میں جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرائے“، تو ان لوگوں نے مجھے بلا بھیجا، اور مجھے رکوع اور سجدہ کرنا سکھایا تو میں ان لوگوں کو نماز پڑھاتا تھا، میرے جسم پر ایک پھٹی چادر ہوتی، تو وہ لوگ میرے والد سے کہتے تھے کہ تم ہم سے اپنے بیٹے کی سرین کیوں نہیں ڈھانپ دیتے؟۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 768]
حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میری قوم کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لوٹے تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”تمہاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوا ہو۔“ تو انہوں نے مجھے بلایا (کیونکہ مجھے زیادہ قرآن یاد تھا) اور مجھے رکوع اور سجدے کا طریقہ سکھایا تو میں انہیں نماز پڑھایا کرتا تھا اور مجھ پر ایک پھٹی ہوئی چادر تھی۔ لوگ میرے والد سے کہتے تھے: ”کیا تم ہماری نظروں سے اپنے بیٹے کی شرم گاہ نہیں ڈھانپ سکتے؟“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 637 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 637
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، فَقَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ: هُوَ حَيٌّ أَفَلَا تَلْقَاهُ؟ قال أَيُّوبُ: فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمَّا كَانَ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ فَذَهَبَ أَبِي بِإِسْلَامِ أَهْلِ حِوَائِنَا فَلَمَّا قَدِمَ اسْتَقْبَلْنَاهُ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَقَالَ:" صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا".
ایوب کہتے ہیں کہ ابوقلابہ نے مجھ سے کہا کہ عمرو بن سلمہ زندہ ہیں تم ان سے مل کیوں نہیں لیتے، (کہ براہ راست ان سے یہ حدیث سن لو) تو میں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے ملا، اور میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے کہا: جب فتح (مکہ) کا واقعہ پیش آیا، تو ہر قبیلہ نے اسلام لانے میں جلدی کی، تو میرے باپ (بھی) اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گئے، جب وہ (واپس) آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، میں اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں، انہوں نے فرمایا ہے: ”فلاں نماز فلاں وقت اس طرح پڑھو، فلاں نماز فلاں وقت اس طرح، اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 637]
حضرت ایوب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے پہلے یہ روایت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کی، پھر ابو قلابہ رحمہ اللہ کہنے لگے کہ ”عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ زندہ ہیں تم ان سے مل کیوں نہیں لیتے!“ ایوب رحمہ اللہ نے کہا: میں ان سے جا کر ملا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب فتح مکہ کا واقعہ ہوا تو ہر قوم نے اپنے اعلانِ اسلام میں ایک دوسرے سے سبقت کی کوشش کی۔ میرے والد محترم بھی ہماری بستی والوں کے اسلام کا اعلان کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ جب وہ واپس آئے تو ہم ان کے استقبال کے لیے گئے، انہوں نے کہا: «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آ رہا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”فلاں نماز فلاں وقت پڑھو اور فلاں نماز فلاں وقت اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے وہ امامت کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 53 (4302) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 61 (585، 586، 587)، (تحفة الأشراف: 4565)، مسند احمد 3/475، و5/29، 30، 71، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 768، 790 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 781
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: أَنْبَأَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ فِي الْهِجْرَةِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا تَؤُمَّ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ".
ابومسعود (عقبہ بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرے جسے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) سب سے زیادہ یاد ہو، اور سب سے اچھا پڑھتا ہو ۱؎، اور اگر قرآن پڑھنے میں سب برابر ہوں تو جس نے ان میں سے سب پہلے ہجرت کی ہے وہ امامت کرے، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کرے ۲؎، اور اگر سنت (کے جاننے) میں بھی برابر ہوں تو جو ان میں عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، اور تم ایسی جگہ آدمی کی امامت نہ کرو جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو، اور نہ تم اس کی مخصوص جگہ ۳؎ پر بیٹھو، إلا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دیدے“ ۴؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 781]
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرائے جو ان میں سے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو زیادہ پڑھنے والا ہو۔ اگر وہ قراءت میں برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو۔ اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زیادہ جانتا ہو۔ اگر سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو۔ اور تو کسی شخص کی سلطنت و اختیار میں اس کی امامت نہ کرا اور نہ اس کی مسندِ عزت پر بیٹھ، مگر یہ کہ وہ تجھے اجازت دے۔“ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 53 (673)، سنن ابی داود/الصلاة 61 (582، 583، 584)، سنن الترمذی/الصلاة 60 (235)، الأدب 24 (2772)، سنن ابن ماجہ/إقامة 46 (980)، (تحفة الأشراف: 9976)، مسند احمد 4/118، 121، 122، 5/272، ویأتی عند المؤلف برقم: 784 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اس صورت میں ہے جب وہ قرآن سمجھتا ہو (واللہ اعلم) ۲؎: کیونکہ ہجرت میں سبقت اور پہل کے شرف کا تقاضا ہے کہ اسے آگے بڑھایا جائے صحیح مسلم کی روایت (جو ابومسعود رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے) میں سنت کے جانکار کو ہجرت میں سبقت کرنے والے پر مقدم کیا گیا ہے، ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے (واللہ اعلم)۔ ۳؎: مثلاً کسی کی مخصوص کرسی یا مسند وغیرہ پر۔ ۴؎: «إلا ا ٔن یاذن لکم» کا تعلق دونوں فعلوں یعنی امامت کرنے اور مخصوص جگہ پر بیٹھنے سے ہے، لہٰذا اس استثناء کی روسے مہمان میزبان کی اجازت سے اس کی امامت کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 790
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ الْجَرْمِيُّ، قال: كَانَ يَمُرُّ عَلَيْنَا الرُّكْبَانُ فَنَتَعَلَّمُ مِنْهُمُ الْقُرْآنَ فَأَتَى أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا فَجَاءَ أَبِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا فَنَظَرُوا فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ".
عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان سے قرآن سیکھتے تھے (جب) میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو“، تو جب میرے والد لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو“، تو لوگوں نے نگاہ دوڑائی تو ان میں سب سے بڑا قاری میں ہی تھا، چنانچہ میں ہی ان کی امامت کرتا تھا، اور اس وقت میں آٹھ سال کا بچہ تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 790]
حضرت عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ قافلے ہمارے پاس سے گزرا کرتے تھے، ہم ان سے قرآن سیکھ لیتے تھے۔ میرے والد محترم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اپنی قوم کا نمائندہ بن کر) گئے۔ (واپسی کے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے امامت وہ کرائے جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو۔“ میرے والد واپس آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تمہاری امامت وہ شخص کرائے جو قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو۔“ لوگوں نے تلاش کیا تو میں ان سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تھا، لہٰذا میں ان کی امامت کراتا تھا حالانکہ میں آٹھ سال کا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 637 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداؤد کی روایت میں ۷ سال کا ذکر ہے، اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ غیر مکلف نابالغ بچہ مکلف لوگوں کی امامت کر سکتا ہے، اس لیے کہ «یؤم القوم أقراہم لکتاب اللہ» کہ عموم میں صبی ممیز (باشعور بچہ) بھی داخل ہے، اور کتاب و سنت میں کوئی بھی نص ایسا نہیں جو اس سے متعارض و متصادم ہو، رہا بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ نے انہیں اپنے اجتہاد سے اپنا امام بنایا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہیں تھی، تو یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نزول وحی کا یہ سلسلہ ابھی جاری تھا، اگر یہ چیز درست نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دے دی جاتی، اور آپ اس سے ضرور منع فرما دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح