سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : اختلاف نية الإمام والمأموم
باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 837
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَبِالَّذِينَ جَاءُوا رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی، (پھر وہ چلے گئے) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 837]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف پڑھائی، آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے تھے دو رکعتیں پڑھائیں اور جو بعد میں آئے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں، اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور ان سب کی دو دو رکعتیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 288 (1248) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11663)، مسند احمد 5/39، 49، ویأتی عند المؤلف برقم: 1552 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتوں میں سے پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئیں، جب کہ ان دو رکعتوں میں آپ کے جو مقتدی تھے انہوں نے اپنی فرض پڑھی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح — شاهد: صحيح مسلم (843/ 312)
حدیث نمبر: 1530
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قال: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي بِطَبَرِسْتَانَ وَمَعَنَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ , فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا فَوَصَفَ , فَقَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِطَائِفَةٍ رَكْعَةً صَفٍّ خَلْفَهُ وَطَائِفَةٍ أُخْرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّتِي تَلِيهِ رَكْعَةً , ثُمَّ نَكَصَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ , وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً".
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، ہمارے ساتھ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، سعید نے پوچھا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ تو خذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے، تو انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو جو آپ کے پیچھے صف باندھے تھا ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرا گروہ آپ کے اور دشمنوں کے مابین ڈٹا ہوا تھا، تو جو گروہ آپ کے ساتھ تھا اسے آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہوں پر چلے گئے جو دشمن کے سامنے صف باندھے تھے، اور وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے تو آپ نے انہیں (بھی) ایک رکعت پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1530]
حضرت ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم طبرستان میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور ہمارے ساتھ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «صَلَاةُ الْخَوْفِ» ”خوف کی نماز“ پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے، پھر انہوں نے آپ کی نماز کا طریقہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف ایک گروہ کو، جس نے آپ کے پیچھے صف باندھی تھی، ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ آپ کے اور دشمن کے درمیان تھا (تاکہ دشمن نماز کی حالت میں حملہ نہ کر سکے)۔ تو آپ نے اس گروہ کو جو آپ کے پیچھے تھا، ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ گروہ دوسرے گروہ کی لڑائی کی جگہ میں پہنچ گیا اور وہ گروہ ان کی جگہ آگیا۔ آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 287 (1246) مختصراً، مسند احمد 5/385، 395، 399، 404، 406، (تحفة الأشراف: 3304) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1531
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قال: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي بِطَبَرِسْتَانَ , فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، فَقَامَ حُذَيْفَةُ" فَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ , وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا".
ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم سعید بن عاصی کے ساتھ طبرستان میں تھے، تو انہوں نے پوچھا: تم لوگوں میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز کس نے پڑھی ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے، پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور لوگوں نے ان کے پیچھے دو صف بنائی، ایک صف ان کے پیچھے تھی، اور ایک صف دشمن کے مقابلہ میں تھی، تو انہوں نے ان لوگوں کو جو ان کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر لوٹ گئے، اور وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے، پھر انہوں نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور ان لوگوں نے قضاء نہیں کی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1531]
حضرت ثعلبہ بن زہدم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں (جہاد کر رہے) تھے۔ انہوں نے کہا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے، پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور لوگوں کی دو صفیں بنائیں۔ اپنے پیچھے والی صف کو آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ ان کی جگہ چلے گئے اور وہ (آپ کے پیچھے) آگئے۔ آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر انہوں نے دوسری رکعت نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت ہی پر بس کیا کسی نے دوسری رکعت نہیں پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1534
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى بِذِي قَرَدٍ وَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ , وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی قرد ۱؎ میں نماز پڑھی، لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں، ایک صف آپ کے پیچھے اور ایک دشمن کے مقابلے میں، تو آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے کھڑے تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دوسری صف والوں کی جگہ پر چلے گئے، اور وہ لوگ ان کی جگہ پر آ گئے، تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، اور لوگوں نے قضاء نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1534]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ذی قرد میں نماز (خوف) پڑھی۔ لوگوں نے آپ کے پیچھے دو صفیں بنائیں۔ ایک صف آپ کے پیچھے اور ایک صف دشمن کے مقابل، پھر آپ نے اپنے پیچھے والی صف کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ ان کی جگہ چلے گئے اور وہ آ گئے؛ آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی۔ لوگوں نے پھر دوسری رکعت نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5862)، مسند احمد 1/232، 357 و5/183 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ سے دو منزل کی دوری پر ایک جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1535
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قال:" قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ أُنَاسٌ مِنْهُمْ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَسَجَدُوا وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي صَلَاةٍ يُكَبِّرُونَ وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خوف کی نماز پڑھانے) کھڑے ہوئے، لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور لوگوں نے بھی اللہ اکبر کہا، پھر آپ نے رکوع کیا، اور ان میں سے بھی کچھ لوگوں نے رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو جن لوگوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کر لیا تھا وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے بھائیوں کی حفاظت میں لگ گئے، اور دوسرا گروہ آیا پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع کیا، اور سجدہ کیا، اور سبھی لوگ نماز ہی میں تھے، اللہ اکبر کہتے تھے، لیکن ایک دوسرے کی حفاظت (بھی) کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1535]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ آپ نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا اور لوگوں نے بھی «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا، پھر آپ نے رکوع فرمایا اور ان میں سے کچھ لوگوں (پہلی صف) نے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو جنہوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ کر اپنے ساتھیوں کی حفاظت کرنے لگے اور دوسرا گروہ آ گیا (پچھلی صف آگے آ گئی)۔ اب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (دوسری رکعت کا) رکوع اور سجدے کیے اور سب لوگ نماز میں تھے اور تکبیریں کہتے تھے لیکن ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخوف 3 (944)، (تحفة الأشراف: 5847) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1536
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَمِّي، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ هَؤُلَاءِ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ عُقَبًا، قَامَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ وَهُمْ جَمِيعًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّسْلِيمِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ خوف کی نماز صرف دو سجدوں پر مشتمل تھی، جیسے آج کل تمہارے ان اماموں کی پیچھے تمہارے نگہبان پڑھتے ہیں، مگر وہ باری باری آگے پیچھے آئے، اس طرح کہ پہلے ایک گروہ (نماز کے لیے آپ کے ساتھ) کھڑا ہوا حالانکہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ ان میں سے ایک گروہ نے سجدہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر آپ نے رکوع کیا، اور سبھی لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، تو آپ کے ساتھ ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ کے ساتھ پہلی بار کھڑے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جنہوں نے آپ کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا تھا بیٹھے تو جو لوگ کھڑے تھے (اور سجدہ نہیں کیا تھا) انہوں نے خود سے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ بیٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1536]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نمازِ خوف صرف دو رکعتیں ہے جیسے آج کل تمہارے (حکام کے) محافظ تمہارے اماموں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، مگر وہ باری باری سجدے کرتے تھے۔ (اس طرح کہ) ان میں سے ایک گروہ کھڑا رہتا، حالانکہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور ایک گروہ کے لوگ (اگلی صف والے) آپ کے ساتھ سجدے کرتے تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور وہ سب آپ کے ساتھ کھڑے ہوجاتے، پھر آپ رکوع فرماتے اور وہ سب آپ کے ساتھ رکوع میں جاتے، پھر آپ سجدہ کرتے تو آپ کے ساتھ وہ لوگ سجدہ کرتے جو پہلی رکعت میں کھڑے رہے تھے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ سجدہ کرنے والے نماز کے آخر میں بیٹھتے تو جو لوگ کھڑے رہے تھے، انہوں نے اپنے طور پر سجدے کیے، پھر وہ بھی بیٹھ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیک وقت) ان سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6078)، مسند احمد 1/265 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1537
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَّ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُصَافُّو الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلَاءِ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامُوا فَقَضَوْا رَكْعَةً رَكْعَةً".
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے پیچھے بنی اور ایک صف دشمن کے بالمقابل بنی، پھر آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسری صف والے آئے تو آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر لوگ کھڑے ہوئے، اور انہوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1537]
حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ خوف (اس طرح) پڑھائی (کہ) آپ نے ایک صف اپنے پیچھے کھڑی کر لی اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی رہی، آپ نے اپنے پیچھے والی صف کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ (دشمن کے مقابلے میں) چلے گئے اور وہ دوسرے آگئے، آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ اٹھے اور ان سب (دونوں گروہوں) نے ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 32 (4131)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (841، 842)، سنن ابی داود/الصلاة 282 (1237، 1238)، 283 (1239)، سنن الترمذی/الصلاة 281 (الجمعة 46) (566)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 151 (1259)، (تحفة الأشراف: 4645)، موطا امام مالک/ صلاة الخوف 1 (2)، مسند احمد 3/448، سنن الدارمی/الصلاة 185 (1563)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1554 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1538
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ:" أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً , ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ , ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ".
صالح بن خوات اس شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع کے دن خوف کی نماز پڑھی (وہ بیان کرتے ہیں) کہ ایک گروہ نے آپ کے ساتھ صف بنائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل رہا، آپ نے ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ تھے ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ کھڑے رہے، اور ان لوگوں نے خود سے دوسری رکعت پوری کی، پھر وہ لوگ لوٹ کر آئے، اور دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو آپ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ کی نماز سے باقی رہ گئی تھی، پھر آپ بیٹھے رہے، اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت خود سے پوری کی، پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1538]
حضرت صالح بن خوات نے اس صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا جس نے غزوۂ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی تھی کہ ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں رہا۔ آپ نے اپنے ساتھ والے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ کھڑے رہے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت پڑھ لی، پھر وہ چلے گئے اور دشمن کے مقابلے میں صف بندی کر لی اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے آگیا۔ آپ نے انہیں باقی ماندہ (دوسری) رکعت پڑھا دی، پھر آپ بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت مکمل کر لی، پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1539
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْطَلَقُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ وَقَامَ هَؤُلَاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کو ایک رکعت نماز پڑھائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں رہا، پھر یہ لوگ جا کر ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے، اور وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے، تو آپ نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنی باقی ایک رکعت پوری کی (اور اسی طرح) وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے بھی اپنی رکعت پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1539]
حضرت سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل تھا، پھر یہ (پہلا گروہ) ان کی جگہ چلا گیا اور وہ آ گئے، آپ نے ان کو دوسری رکعت پڑھا دی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ کھڑے ہوئے اور اپنی دوسری رکعت پڑھی، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخوف 1 (942)، 2 (943)، المغازي 32 (4133)، تفسیر البقرة 4 (4535)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (839)، سنن ابی داود/الصلاة 285 (1243)، سنن الترمذی/الصلاة 281 (الجمعة 46) (564)، (تحفة الأشراف: 6931)، مسند احمد 2/147، 150، سنن الدارمی/الصلاة 185 (1562) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1541
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ، قال: أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَّ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا وَأَقْبَلَتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ، فَرَكَعَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ فَصَلَّى لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اور ہم میں سے ایک گروہ نے آپ کے پیچھے صف بنائی، اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکوع اور دو سجدے کرائے، پھر یہ لوگ پلٹے اور دشمن کے مقابلہ میں آ گئے، اور دوسرا گروہ آیا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے (اس کے ساتھ بھی) اسی طرح کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر دونوں گروہوں میں سے ہر آدمی کھڑا ہوا، اور اس نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1541]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہا۔ ہم میں سے ایک گروہ نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گروہ کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے (یعنی ایک رکعت پڑھائی)، پھر وہ چلے گئے اور دشمن کے مقابل صف آرا ہو گئے اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز شروع کر دی۔ آپ نے اسی طرح کیا (یعنی ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی)۔ پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر دونوں گروہوں میں سے ہر شخص اٹھا اور اس نے اپنے طور پر ایک رکوع اور دو سجدے کر لیے (یعنی ایک ایک رکعت پڑھ لی)۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7448) (صحیح) (اس سند میں زہری اور ابن عمر کے درمیان انقطاع ہے، مگر پچھلی سند متصل ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1542
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، وَأَبِي أَيُّوب , عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ قَامَ فَكَبَّرَ فَصَلَّى خَلْفَهُ طَائِفَةٌ مِنَّا وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ انْصَرَفُوا وَلَمْ يُسَلِّمُوا وَأَقْبَلُوا عَلَى الْعَدُوِّ فَصَفُّوا مَكَانَهُمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ , ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَمَّ رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ فَصَلَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ لِنَفْسِهِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ" قَالَ: أَبُو بَكْرِ بْنُ السُّنِّيِّ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثَيْنِ وَلَمْ يَسْمَعْ هَذَا مِنْهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی، تو آپ کھڑے ہوئے، اور اللہ اکبر کہا، تو آپ کے پیچھے ہم میں سے ایک گروہ نے نماز پڑھی، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر وہ لوگ پلٹے حالانکہ انہوں نے ابھی سلام نہیں پھیرا تھا، اور دشمن کے بالمقابل آ گئے، اور ان کی جگہ صف بستہ ہو گئے، اور دوسرا گروہ آیا، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اس حال میں کہ آپ نے دو رکوع اور چار سجدے مکمل کر لیے تھے، پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے، اور ان میں سے ہر شخص نے خود سے ایک رکوع اور دو سجدے کیے۔ ابوبکر بن السنی کہتے ہیں: زہری نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے دو حدیثیں سنی ہیں، لیکن یہ حدیث انہوں نے ان سے نہیں سنی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1542]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ خوف پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہا تو ہم میں سے ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے لگا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ سلام پھیرے بغیر چلے گئے اور دوسروں کی جگہ دشمن کے سامنے کھڑے ہو گئے، پھر دوسرے گروہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکوع اور چار سجدے (یعنی دو رکعتیں) مکمل فرما چکے تھے، پھر دونوں گروہ اٹھے اور ان میں سے ہر شخص نے اپنے اپنے طور پر ایک رکوع اور دو سجدے کر لیے۔ (امام نسائی رحمہ اللہ کے شاگرد) ابوبکر بن سنی بیان کرتے ہیں کہ امام زہری نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے صرف دو حدیثیں سنی ہیں لیکن یہ روایت ان میں شامل نہیں (گویا اس روایت کی سند میں انقطاع ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (سند میں حسب سابق انقطاع ہے، نیز اس کے راوی ابو ایوب شامی‘ مجہول ہیں، لیکن رقم: 1540 کی سند متصل اور صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: زہری کی ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے یا نہیں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے صحیح یہ ہے کہ ملاقات نہیں ہے، زہری ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بیٹے سالم کے واسطہ ہی سے ان سے روایت کرتے ہیں، معمر کی جن دو روایتوں کے متعلق آیا ہے کہ اسے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے سنا ہے، یہ صحیح نہیں، کیونکہ معمر کے علاوہ دوسرے لوگوں نے اسے زہری سے روایت کیا ہے، اس میں زہری اور ابن عمر کے درمیان سالم کا واسطہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1543
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً , ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض غزوات میں خوف کی نماز پڑھی، تو ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ میں رہا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ تھے انہیں آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ چلے گئے، اور دوسرے لوگ آ گئے تو آپ نے انہیں (بھی) ایک رکعت پڑھائی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1543]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جنگ کے دنوں میں نمازِ خوف پڑھائی تو ایک گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر وہ چلے گئے اور دوسرے آ گئے، آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھا دی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 2 (943)، تفسیر البقرة 4 (4535)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (839)، (تحفة الأشراف: 8456)، مسند احمد 1/132، 155 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1544
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , وَذَكَرَ آخَرَ, قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ , قَالَ: مَتَى؟ قَالَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَابِلُونَ الْعَدُوَّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً وَرَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ , ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ".
مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ تو ابوہریرہ نے کہا: ہاں پڑھی ہے، انہوں نے پوچھا: کب؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نجد کے غزوہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا، اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا، اور ان کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، تو جو آپ کے ساتھ تھے اور جو دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے سبھوں نے اللہ اکبر کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا، اور اس گروہ نے بھی جو آپ کے ساتھ تھا رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور اس گروہ نے بھی سجدہ کیا جو آپ کے ساتھ تھا، اور دوسرے لوگ دشمن کے مقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور وہ گروہ جو آپ کے ساتھ تھا، پھر یہ لوگ جا کر دشمن کے بالمقابل کھڑے ہو گئے، پھر وہ گروہ جو دشمن کے بالمقابل تھا آیا، چنانچہ ان لوگوں نے (بھی) رکوع کیا، اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے جیسے تھے، پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا رکوع کیا، تو ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، آپ نے سجدہ کیا، اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا، پھر وہ گروہ آیا جو دشمن کے مقابل میں کھڑا تھا، تو اس نے بھی رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ تھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر سلام پھیرنے (کا وقت آیا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، اور تمام لوگوں نے سلام پھیرا، تو اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعت ہوئی، اور دونوں گروہوں کے ہر ہر فرد کی (بھی) دو دو رکعت ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1544]
حضرت مروان بن حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف پڑھی ہے؟“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: ”کب؟“ انہوں نے فرمایا: ”غزوۂ نجد کے سال۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز کے لیے اٹھے اور ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوا جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابل تھا اور ان کی پشت قبلے کی طرف تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا (یعنی نماز شروع کرلی) آپ کے ساتھ والوں نے بھی اور انہوں نے بھی جو دشمن کے مقابل تھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا تو آپ کے ساتھ والے گروہ نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ فرمایا تو آپ کے ساتھ والے گروہ نے بھی سجدہ کیا جبکہ دوسرے گروہ والے دشمن کے مقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ والے بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ دشمن کی طرف جا کر ان کے مقابل کھڑے ہو گئے اور جو پہلے دشمن کے مقابل تھے انہوں نے آپ کے پیچھے آ کر اپنا رکوع اور سجود کیا (یعنی ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔) اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کھڑے رہے (جس طرح آپ کھڑے تھے۔)، پھر وہ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کا رکوع فرمایا انہوں نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ فرمایا تو انہوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدے کیے، پھر وہ گروہ بھی آگیا جو دشمن کے مقابل تھا۔ انہوں نے (اپنے طور پر) رکوع اور سجود کیے۔ (یعنی اپنی بقیہ رکعت پڑھ لی۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والے اس دوران میں بیٹھے رہے۔ پھر سلام کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور سب (دونوں گروہوں) نے سلام پھیر دیا، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو گئیں اور دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کی بھی دو رکعتیں ہو گئیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 284 (1240)، (تحفة الأشراف: 14606)، مسند احمد 2/320 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1545
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قال:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلًا بَيْنَ ضَجْنَانَ وَ عُسْفَانَ مُحَاصِرَ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَبْكَارِهِمْ أَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ ثُمَّ مِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ نِصْفَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِطَائِفَةٍ مِنْهُمْ وَطَائِفَةٌ مُقْبِلُونَ عَلَى عَدُوِّهِمْ قَدْ أَخَذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ يَتَأَخَّرَ هَؤُلَاءِ وَيَتَقَدَّمَ أُولَئِكَ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ رَكْعَةً تَكُونُ لَهُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً رَكْعَةً , وَلِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضجنان اور عسفان کے درمیان اترے آپ مشرکین کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، مشرکین نے (آپس میں) کہا: ان لوگوں کی ایک ایسی نماز ہے جو انہیں اپنی اولاد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے، تو ایسا کرو تم سب تیار رہو (جب یہ نماز پڑھنے لگیں) تو یکبارگی ان پر پل پڑو، تو جبرائیل علیہ السلام (آپ کے پاس) آئے، اور انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صحابہ کو دو حصوں میں بانٹ دیں، ان میں سے ایک گروہ کو آپ نماز پڑھائیں، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل اپنے بچاؤ کی چیز اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے، آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، پھر یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں، اور وہ لوگ آگے آ جائیں جو دشمن کے مقابل ہوں، تو پھر آپ انہیں ایک رکعت پڑھائیں، تو لوگوں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو گی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1545]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ ضجنان اور عسفان کے درمیان قیام فرما تھے اور مشرکین کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ مشرکوں نے کہا (پروگرام بنایا) کہ ان مسلمانوں کی ایک نماز ایسی ہے (نمازِ عصر) جو انہیں اپنے نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں سے بھی زیادہ پیاری ہے، تو تم بات طے کر لو (پختہ پروگرام بنا لو) اور (اس نماز کے دوران میں) ان پر یکبارگی حملہ کر دو۔ ادھر سے جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ کو حکم دیا کہ آپ اپنے صحابہ کے دو گروہ بنا دیں۔ آپ ان میں سے ایک گروہ کو نماز پڑھائیں اور دوسرا گروہ دشمن کی طرف متوجہ رہے۔ وہ محتاط رہیں اور اپنا اسلحہ پہنے رہیں۔ آپ پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھا دیں، پھر وہ پیچھے ہٹ جائیں (اور دشمن کے مقابل چلے جائیں) اور دوسرے آ جائیں، پھر ایک رکعت آپ ان کو پڑھا دیں تو اس طرح ان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایک رکعت ہو جائے گی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو جائیں گی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر النساء (3035)، (تحفة الأشراف: 13566)، مسند احمد 2/522 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1546
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَقَامَ صَفٌّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَصَفٌّ خَلْفَهُ صَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ حَتَّى قَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَقَامُوا مَقَامَ هَؤُلَاءِ، وَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک صف آپ کے آگے کھڑی ہوئی، اور ایک صف آپ کے پیچھے، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر یہ لوگ آگے چلے گئے یہاں تک کہ جا کر اپنے ساتھیوں کی جگہ میں کھڑے ہو گئے، اور وہ لوگ آ کر ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ (بھی) ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر آپ نے سلام پھیرا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں، اور لوگوں کی ایک ایک۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1546]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف پڑھائی۔ ایک صف آپ کے آگے (دشمن کے مقابل) کھڑی ہو گئی اور دوسری آپ کے پیچھے۔ آپ نے اپنے پیچھے کھڑے ہونے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ آگے چلے گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ کھڑے ہو گئے اور وہ آ گئے اور (آپ کے پیچھے) ان کی جگہ کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہو گئیں اور ان کی ایک ایک۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3142)، مسند احمد 3/298 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1547
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، قال: أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ:" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وَجْهِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم (ایک غزوہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (نماز کا وقت ہوا) تو نماز کھڑی کی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہوا، اور ایک گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا، آپ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ کے پیچھے تھے ایک رکوع اور دو سجدے کیے، پھر وہ چلے گئے، اور ان لوگوں کی جگہ آ کر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے بالمقابل تھے، اور وہ گروہ آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بھی ایک رکوع اور دو سجدے کئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو آپ کے پیچھے والوں نے بھی سلام پھیرا، اور ان لوگوں نے بھی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1547]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایک جنگ میں) تھے۔ نماز کی اقامت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کا ایک گروہ بھی آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابل رہا۔ آپ نے اپنے پیچھے کھڑے ہونے والوں کو ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر وہ چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے جو دشمن کے مقابلے میں تھے اور وہ دوسرا گروہ آ گیا۔ آپ نے انہیں بھی ایک رکوع اور دو سجدے، یعنی ایک رکعت پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، آپ کے پیچھے والے لوگوں نے بھی اور دوسروں نے بھی سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1548
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ" فَقُمْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ وَرَكَعْنَا وَرَفَعَ وَرَفَعْنَا، فَلَمَّا انْحَدَرَ لِلسُّجُودِ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ يَلُونَهُ وَقَامَ الصَّفُّ الثَّانِي حِينَ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، ثُمَّ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي حِينَ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْكِنَتِهِمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِينَ كَانُوا يَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْآخَرُ فَقَامُوا فِي مَقَامِهِمْ وَقَامَ هَؤُلَاءِ فِي مَقَامِ الْآخَرِينَ قِيَامًا , وَرَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكَعْنَا ثُمَّ رَفَعَ وَرَفَعْنَا فَلَمَّا انْحَدَرَ لِلسُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ يَلُونَهُ سَجَدَ الْآخَرُونَ ثُمَّ سَلَّمَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز میں موجود تھے، ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، اور ہم نے دو صفیں کیں، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہی، اور ہم نے بھی کہی، آپ نے رکوع کیا ہم نے بھی رکوع کیا، آپ (رکوع سے) اٹھے اور ہم بھی اٹھے، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ کے قریب (یعنی پہلی صف میں) تھے سجدہ کیا، اور دوسری صف اس وقت تک کھڑی رہی جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سر اٹھایا، پھر دوسری صف نے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، اپنی جگہوں پر سجدہ کیا، پھر جو صف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تھی پیچھے ہٹ گئی، اور پیچھے والی صف آگے آ گئی، اور آ کر ان کی جگہوں میں کھڑی ہو گئی، اور یہ لوگ پچھلے والوں کی جگہوں میں جا کر کھڑے ہو گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، اور ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا اور ہم نے بھی اٹھایا، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھے، اور دوسرے کھڑے رہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور ان لوگوں نے جو آپ سے قریب تھے (سجدے سے سر) اٹھایا تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1548]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر ہوئے، ہم آپ کے پیچھے دو صفوں میں کھڑے ہو گئے، دشمن ہمارے اور قبلے کے درمیان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، ہم سب نے بھی «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا، پھر آپ نے رکوع کیا تو ہم نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا تو ہم نے بھی (رکوع سے) سر اٹھایا، پھر جب آپ سجدے کے لیے جھکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے ساتھ قریبی (پہلی) صف میں تھے جبکہ دوسری صف والے کھڑے رہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سجدے سے) سر اٹھایا اور اس صف والوں نے جو آپ کے قریب تھی تو دوسری صف نے اپنی جگہ ہی اپنے سجدے ادا کیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والی صف والے پیچھے ہٹ گئے اور دوسری صف والے آگے ہو کر پہلی صف والوں کی جگہ کھڑے ہو گئے اور وہ ان کی جگہ کھڑے ہو گئے، پھر (دوسری رکعت میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا تو ہم نے بھی آپ کے ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے (رکوع سے) سر اٹھایا تو سب نے بھی (رکوع سے) سر اٹھایا، جب آپ سجدے کے لیے زمین کی طرف جھکے تو آپ کے ساتھ والی صف نے سجدے کیے اور دوسری صف والے کھڑے رہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والوں نے اپنے طور پر سجدے کر لیے، پھر آپ نے (سب کے ساتھ بیک وقت) سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، (تحفة الأشراف: 2441)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 281 (1236) تعلیقاً، مسند احمد 3/219 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1549
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ" فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ مَكَانَهُمُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ , ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلَاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ فَرَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا , ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ , فَلَمَّا سَجَدُوا وَجَلَسُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ مَكَانَهُمْ ثُمَّ سَلَّمَ" , قَالَ جَابِرٌ: كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكُمْ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ کھجور کے باغات میں تھے، اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، تو سبھوں نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے رکوع کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ کھڑے ہو گئے تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں پر جہاں وہ تھے سجدہ کیا، پھر وہ لوگ ان لوگوں کی جگہ پر آگے آ گئے ۱؎ پھر آپ نے رکوع کیا، تو سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر آپ نے (رکوع سے سر) اٹھایا تو سبھوں نے سر اٹھایا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا، اور اس صف نے جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے ان کی پہریداری کرتے رہے، پھر جب وہ لوگ سجدہ کر چکے اور (سجدہ کے بعد) بیٹھ گئے، تو دوسروں نے بھی اپنی جگہوں میں سجدہ کیا، پھر آپ نے سلام پھیرا، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس طرح تمہارے امراء کرتے ہیں، (یعنی سلام پھیرتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1549]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مقامِ نخل (مدینے سے دو رات کے فاصلے پر) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جبکہ دشمن ہمارے اور قبلے کے درمیان تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی تو سب مسلمانوں نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع فرمایا تو ان سب نے بھی رکوع کیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا جبکہ دوسری صف والے کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ سجدوں کے بعد اٹھے تو پچھلی صف والوں نے اپنی جگہ ہی میں سجدے (مکمل) کر لیے، پھر یہ ان کی جگہ چلے گئے (اور وہ آگئے)۔ پھر آپ نے (دوسری رکعت کا) رکوع کیا تو سب نے رکوع کیا۔ پھر آپ نے سر اٹھایا تو ان سب نے بھی اپنے سر اٹھائے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ والی صف نے سجدہ کیا اور دوسرے کھڑے ان کی حفاظت کرتے رہے۔ جب وہ سجدوں سے فارغ ہو کر بیٹھ گئے تو پچھلی صف والوں نے اپنی جگہ ہی میں سجدے کر لیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسے تمہارے امراء (کے پہرے دار) کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2759) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گئے، اور جو لوگ آپ سے قریب تھے ان کی جگہ پر چلے گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قال شُعْبَةُ: كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ يُحَدِّثُ وَلَكِنِّي حَفِظْتُهُ، قال ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: حِفْظِي مِنَ الْكِتَابِ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُصَافَّ الْعَدُوِّ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ , قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ" فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ خَلْفَهُ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِرُكُوعِهِمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ , فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي مَقَامِ صَاحِبِهِ , ثُمَّ رَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ , ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عسفان میں دشمن کے مقابلہ میں صف آرا تھے، مشرکین کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، تو مشرک آپ سے میں کہنے لگے کہ ان کی اس نماز کے بعد جو نماز ہے وہ انہیں اپنے اموال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے، (چنانچہ جب عصر کا وقت ہوا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، تو آپ نے اپنے پیچھے ان کی دو صفیں بنائیں، پھر آپ نے ان سبھوں کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب لوگوں نے اپنے سروں کو رکوع سے اٹھا لیا تو (آپ کے ساتھ) اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے کھڑے رہے، پھر جب ان لوگوں نے اپنے سروں کو سجدے سے اٹھا لیا تو پچھلی صف نے بھی سجدہ کیا اپنے اس رکوع کے ساتھ جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی، اور پچھلی صف آگے بڑھ آئی، ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا، پھر جب لوگوں نے رکوع سے اپنے سر اٹھا لیے تو وہ صف جو آپ سے قریب تھی سجدہ میں گئی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدے سے فارغ ہو گئے، تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھوں کے ساتھ سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1550]
حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے علاقے میں دشمن کے ساتھ جنگ کی حالت میں تھے۔ مشرکین کے امیر خالد بن ولید تھے۔ (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکین نے کہا: اس نماز کے بعد ایک ایسی نماز ہے (نماز عصر) جو ان مسلمانوں کو اپنے مال و منال اور اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ (لہٰذا اس نماز میں ان پر حملہ کردو۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو عصر کی نماز اس طرح پڑھائی کہ اپنے پیچھے ان کی دو صفیں بنالیں، پھر آپ نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا (اور آپ سجدے میں گئے) تو آپ کے ساتھ والی (یعنی پہلی) صف ہی نے سجدے کیے اور دوسری صف والے کھڑے رہے۔ جب انہوں نے سجدوں سے سر اٹھائے تو دوسری صف نے سجدے کیے جبکہ رکوع تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر چکے تھے، پھر اگلی صف پیچھے ہوگئی اور پچھلی آگے اور وہ ایک دوسرے کی جگہ میں کھڑے ہوگئے، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا۔ جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھائے تو آپ کے ساتھ صرف آپ کے ساتھ والی صف نے سجدے کیے جبکہ دوسرے کھڑے رہے، پھر جب وہ اپنے سجدوں سے فارغ ہوئے تو پچھلی صف والوں نے (اپنے) سجدے ادا کیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 281 (1236)، (تحفة الأشراف: 3784)، مسند احمد 4/59، 60 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”مقام عسفان“ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1551
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ , فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ غِرَّةً وَلَقَدْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ غَفْلَةً فَنَزَلَتْ، يَعْنِي صَلَاةَ الْخَوْفِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،" فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَفَرَّقَنَا فِرْقَتَيْنِ , فِرْقَةً تُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِرْقَةً يَحْرُسُونَهُ، فَكَبَّرَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ وَالَّذِينَ يَحْرُسُونَهُمْ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ هَؤُلَاءِ وَأُولَئِكَ جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَتَأَخَّرَ هَؤُلَاءِ وَالَّذِينَ يَلُونَهُ، وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا , ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ بِهِمْ جَمِيعًا الثَّانِيَةَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ وَبِالَّذِينَ يَحْرُسُونَهُ , ثُمَّ سَجَدَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ ثُمَّ تَأَخَّرُوا فَقَامُوا فِي مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ، وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَكَانَتْ لِكُلِّهِمْ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ مَعَ إِمَامِهِمْ" , وَصَلَّى مَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ.
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اس وقت مشرکین کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، مشرکوں نے (آپ سے میں) کہا: ہم نے انہیں دھوکہ دینے اور انہیں غفلت میں (دبوچنے کا) موقع پا لیا ہے، تو ظہر اور عصر کے درمیان خوف کی نماز نازل ہوئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی تو ہم دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا، اور ایک گروہ ان کی حفاظت کرتا رہا، آپ نے جو آپ کے ساتھ کھڑے تھے، اور جو آپ کی حفاظت میں لگے تھے سبھوں کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو ان لوگوں نے اور ان لوگوں نے سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر جو آپ کے قریب تھے ان لوگوں نے سجدہ کیا، اور سجدہ کر کے وہ پیچھے ہٹ گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے، پھر انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر جو آپ کے قریب تھے اور جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے سبھوں کے ساتھ مل کر آپ نے دوسرا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنے پاس والوں کے ساتھ سجدہ کیا، پھر وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے ساتھیوں کی صف میں کھڑے ہو گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے اور انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے ان پر سلام پھیرا، تو ان میں سے ہر ایک کی امام کے ساتھ دو دو رکعت ہو گئی، اور ایک بار آپ نے بنی سلیم کی سر زمین میں (بھی) خوف کی نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1551]
حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان کے مقام پر تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ ان دنوں مشرکین کے امیر خالد بن ولید تھے۔ مشرکین نے کہا: افسوس! ہم نے انہیں غافل پایا تھا۔ (کاش ہم حملہ کردیتے) تو ظہر اور عصر کے درمیان نمازِ خوف کا حکم اترا۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عصر کی نماز پڑھائی کہ ہمارے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا اور دوسرا گروہ ان کی حفاظت کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ تکبیر کہی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور جو ان کی حفاظت کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا تو دونوں گروہوں نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والے گروہ نے سجدے کیے، پھر ساتھ والے پیچھے ہٹ آئے اور دوسرے آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے سجدے مکمل کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری رکعت کے لیے) اٹھے اور سب کے ساتھ رکوع کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور جو ان کی حفاظت کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کے ساتھ سجدے کیے، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ میں کھڑے ہوگئے اور دوسرے آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے سجدے پورے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک کی اپنے امام کے ساتھ دو دو رکعتیں ہوگئیں، اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوسلیم کے علاقے میں نمازِ خوف پڑھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِالْقَوْمِ فِي الْخَوْفِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ صَلَّى بِالْقَوْمِ الْآخَرِينَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو خوف کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر آپ نے دوسرے لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت پڑھی (اور لوگوں نے دو دو رکعت)۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1552]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو نمازِ خوف دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر سلام پھیر دیا۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وعنعن. وحديث مسلم (843) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
حدیث نمبر: 1553
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِطَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ صَلَّى بِآخَرِينَ أَيْضًا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک گروہ کو (خوف کی نماز) دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر دوسرے لوگوں کو بھی آپ نے دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1553]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12224)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 57 (843) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة و الحسن البصري عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
حدیث نمبر: 1555
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وُجُوهُهُمْ قِبَلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامُوا مَقَامَ الْآخَرِينَ وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک گروہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ایک گروہ کے چہرے دشمن کے مقابل رہے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ اٹھ کر دوسرے لوگوں کی جگہ میں جا کھڑے ہوئے، اور دوسرے ان کی جگہ آ گئے تو آپ نے انہیں (بھی) دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1555]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نمازِ خوف پڑھائی، ان میں سے ایک گروہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور دوسرے گروہ کے چہرے دشمن کی طرف تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھا دیں، پھر وہ دوسرے گروہ کی جگہ چلے گئے اور دوسرے آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2225) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1556
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَالَّذِينَ جَاءُوا بَعْدُ رَكْعَتَيْنِ , فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے تھے انہیں نماز خوف دو رکعت پڑھائی، اور جو اس کے بعد آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو (اس طرح) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت ہوئی، اور لوگوں کی دو دو رکعت ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1556]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر جو ان کے بعد آئے، انھیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور ان کی دو دو۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن