🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب ومن سورة الصافات
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3228
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ دَاعٍ دَعَا إِلَى شَيْءٍ إِلَّا كَانَ مَوْقُوفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لَهُ لَا يُفَارِقُهُ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ {24} مَا لَكُمْ لا تَنَاصَرُونَ {25} سورة الصافات آية 24-25 ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جا سکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لكم لا تناصرون» انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا: کیا بات ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ (الصافات: ۲۴-۲۵)۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 248) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، التعليق الرغيب (1 / 50) ، ظلال الجنة (112) // ضعيف الجامع الصغير (5170) ، ضعيف ابن ماجة (36 - 208) يرويه عن أبي هريرة //
قال الشيخ زبير على زئي:(3228) إسناده ضعيف
ليث ضعيف (تقدم:218) وبشر: مجھول (تقدم:3126)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو سَلِمَةَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ فَأَرَادُوا النُّقْلَةَ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ: إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ سورة يس آية 12، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ آثَارَكُمْ تُكْتَبُ فَلَا تَنْتَقِلُوا "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَأَبُو سُفْيَانَ هُوَ طَرِيفٌ السَّعْدِيُّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ (قبیلہ کے لوگ) مدینہ کے کسی نواحی علاقہ میں رہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے منتقل ہو کر مسجد (نبوی) کے قریب آ کر آباد ہونے کا ارادہ کیا تو یہ آیت «إنا نحن نحي الموتى ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور وہ جو آگے بھیجتے ہیں اسے ہم لکھ لیتے ہیں اور (مسجد کی طرف آنے و جانے والے) آثار قدم بھی ہم (گن کر) لکھ لیتے ہیں (یس: ۱۲) نازل ہوئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے قدم لکھے جاتے ہیں، اس لیے تم اپنے گھر نہ بدلو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
ثوری سے مروی یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4358) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (785)
قال الشيخ زبير على زئي:(3226) إسناده ضعيف
أبوسفيان طريف بن شھاب : ضعيف (تقدم:238) وللحديث شواھد عند ابن ماجه (785) والبزار وابن أبى حاتم وغيرھم دون قوله: ”تنزلت ھذه الاية .“

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں