قرآن مجيد
سورة يونس
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
51 |
کیا پھر جوںہی وہ (عذاب) آپڑے گا تو اس پر ایمان لاؤگے؟ کیا اب! حالانکہ یقینا تم اسی کو جلدی طلب کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
52 |
پھر ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا، کہا جائے گا چکھو ہمیشگی کا عذاب، تمھیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر اسی کا جو تم کمایا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
53 |
اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے؟ تو کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔
|
|
54 |
اور اگر ہر شخص کے لیے جس نے ظلم کیا ہے، وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے تو وہ اسے ضرور فدیے میں دے دے اور وہ پشیمانی کو چھپائیں گے، جب عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور وہ ظلم نہیں کیے جائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
55 |
سن لو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ سن لو! بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
|
|
56 |
وہی زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
57 |
اے لوگو! بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے عظیم نصیحت اور اس کے لیے سراسر شفا جو سینوں میں ہے اور ایمان والوں کے لیے سرا سر ہدایت اور رحمت آئی ہے۔
|
|
58 |
کہہ دے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی سے ہے، سو اسی کے ساتھ پھر لازم ہے کہ وہ خوش ہوں۔ یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
59 |
کہہ کیا تم نے دیکھا جو اللہ نے تمھارے لیے رزق اتارا، پھر تم نے اس میں سے کچھ حرام اور کچھ حلال بنا لیا ۔ کہہ کیا اللہ نے تمھیں اجازت دی ہے، یا تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
|
|
60 |
اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، قیامت کے دن میں؟ بے شک اللہ تو لوگوں پر بڑے فضل والا ہے اور لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
61 |
اور تو نہ کسی حال میں ہوتا ہے اور نہ اس کی طرف سے (آنے والے) قرآن میں سے کچھ پڑھتا ہے اور نہ تم کوئی عمل کرتے ہو، مگر ہم تم پر شاہد ہوتے ہیں، جب تم اس میں مشغول ہوتے ہو اور تیرے رب سے کوئی ذرہ برابر (چیز) نہ زمین میں غائب ہوتی ہے اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔
|
|
62 |
سن لو! بے شک اللہ کے دوست، ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
|
|
63 |
وہ جو ایمان لائے اور بچا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
64 |
انھی کے لیے دنیا کی زندگی میں خوش خبری ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
65 |
اور تجھے ان کی بات غمگین نہ کرے، بے شک عزت سب اللہ کے لیے ہے، وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
|
|
66 |
سن لو! بے شک اللہ ہی کے لیے ہے جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور جو لوگ اللہ کے غیر کو پکارتے ہیں وہ کسی بھی قسم کے شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے۔ وہ پیروی نہیں کرتے مگر گمان کی اور وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
67 |
وہی ہے جس نے تمھارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن۔ بے شک اسی میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
68 |
انھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔ وہ پاک ہے، وہی بے پروا ہے، اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں، کیا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو نہیں جانتے؟
|
|
69 |
کہہ دے بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
70 |
دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے، پھر ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے، پھر ہم انھیں بہت سخت عذاب چکھائیں گے، اس کی وجہ سے جو وہ کفر کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
71 |
اور ان پر نوح کی خبر پڑھ، جب اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اگر میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ میرا نصیحت کرنا تم پر بھاری گزرا ہے تو میں نے اللہ ہی پر بھروسا کیا ہے، سو تم اپنا معاملہ اپنے شرکا کے ساتھ مل کر پکا کر لو، پھر تمھارا معاملہ تم پر کسی طرح مخفی نہ رہے، پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔
|
|
72 |
پھر اگر تم منہ موڑ لو تو میں نے تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگی، میری مزدوری نہیں ہے مگر اللہ پر اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں سے ہوجاؤں۔
|
ابن کثیر ↑
|
73 |
پس انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے اسے نجات دی اور ان کو بھی جو اس کے ساتھ تھے کشتی میں اور انھیں جانشین بنایا اور ان لوگوں کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا۔ سو دیکھ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جنھیں ڈرایا گیا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
74 |
پھر اس کے بعد ہم نے کئی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے۔ سو وہ ہرگز ایسے نہ تھے کہ اس پر ایمان لاتے جسے اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والوں کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں۔
|
|
75 |
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر بھیجا تو انھوں نے بہت تکبر کیا اور وہ مجرم لوگ تھے۔
|
|
76 |
تو جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آیا تو کہنے لگے بے شک یہ تو کھلا جادو ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
77 |
موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے بارے میں (یہ) کہتے ہو، جب وہ تمھارے پاس آیا، کیا جادو ہے یہ؟ حالانکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
78 |
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس راہ سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور اس سر زمین میں تم دونوں ہی کو بڑائی مل جائے؟ اور ہم تم دونوں کو ہرگز ماننے والے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
79 |
اور فرعون نے کہا میرے پاس ہر ماہر فن جادوگر لے کر آؤ۔
|
|
80 |
تو جب جادوگر آگئے تو موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
81 |
تو جب انھوں نے پھینکا، موسیٰ نے کہا تم جو کچھ لائے ہو یہ تو جادو ہے، یقینا اللہ اسے جلدی باطل کر دے گا۔ بے شک اللہ مفسدوں کا کام درست نہیں کرتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
82 |
اور اللہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دیتاہے، خواہ مجرم برا ہی جانیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
83 |
تو موسیٰ پر اس کی قوم کے چند لڑکوںکے سواکوئی ایمان نہ لایا، (وہ بھی) فرعون اور ان کے سرداروں کے خوف کے باوجود کہ وہ انھیں آزمائش میں ڈال دے گا اور بے شک فرعون یقینا زمین میں سرکش ہے اور بے شک وہ یقینا حد سے گزرنے والوں سے ہے۔
|
|
84 |
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسا کرو، اگر تم فرماں بردار ہو۔
|
|
85 |
تو انھوں نے کہا ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
86 |
اور اپنی رحمت کے ساتھ ہمیں کافر لوگوں سے نجات دے۔
|
ابن کثیر ↑
|
87 |
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھروں کو ٹھکانا مقرر کر لو اور اپنے گھروں کو قبلہ رخ بنالو اور نماز قائم کرو، اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دے۔
|
|
88 |
اور موسیٰ نے کہا اے ہمارے رب! بے شک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں بہت سی زینت اور اموال عطا کیے ہیں، اے ہمارے رب! تاکہ وہ تیرے راستے سے گمراہ کریں، اے ہمارے رب! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں پر سخت گرہ لگا دے، پس وہ ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
|
|
89 |
فرمایا بلاشبہ تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، پس دونوں ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے راستے پر ہرگز نہ چلو جو نہیں جانتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
90 |
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کر دیا تو فرعون اور اس کے لشکروں نے سرکشی اور زیادتی کرتے ہوئے ان کا پیچھا کیا، یہاںتک کہ جب اسے ڈوبنے نے پا لیا تو اس نے کہا میں ایمان لے آیا کہ حق یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں سے ہوں۔
|
|
91 |
کیا اب؟ حالانکہ بے شک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
92 |
پس آج ہم تجھے تیرے (خالی) بدن کے ساتھ بچالیں گے، تاکہ تو ان کے لیے عظیم نشانی بنے جو تیرے بعد ہوں اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے یقینا غافل ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
93 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ٹھکانا دیا، باعزت ٹھکانا، اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا، پھر انھوں نے آپس میں اختلاف نہیں کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا، بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
|
|
94 |
پھر اگر تو اس کے بارے میں کسی شک میں ہے جو ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں، بلاشبہ یقینا تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے حق آیا ہے، سو تو ہرگز شک کرنے والوں سے نہ ہو۔
|
|
95 |
اور نہ کبھی ان لوگوں سے ہونا جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا، ورنہ تو خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
96 |
بے شک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
97 |
خواہ ان کے پاس ہر نشانی آجائے، یہاں تک کہ دردناک عذاب دیکھ لیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
98 |
سو کوئی ایسی بستی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لائی ہو، پھر اس کے ایمان نے اسے نفع دیا ہو، یونس کی قوم کے سوا، جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے ذلت کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور انھیں ایک وقت تک سامان دیا۔
|
|
99 |
اور اگر تیرا رب چاہتا تو یقینا جو لوگ زمین میں ہیں سب کے سب اکٹھے ایمان لے آتے۔ تو کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا، یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں؟
|
|
100 |
اورکسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو نہیں سمجھتے۔
|
ابن کثیر ↑
|