قرآن مجيد
سورة طه
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
51 |
اس نے کہا تو پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
52 |
کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
53 |
وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لیے اس میں راستے جاری کیے اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی قسمیں مختلف نباتات سے نکالیں۔
|
|
54 |
کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو چرائو، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
55 |
اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں ایک اور بار نکالیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
56 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے اپنی نشانیاں سب کی سب دکھلائیں، پس اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
57 |
کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہماری سر زمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دے اے موسیٰ!
|
|
58 |
تو ہم بھی ہر صورت تیرے پاس اس جیسا جادو لائیں گے، پس تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان وعدے کا ایک وقت طے کردے کہ نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تو، ایسی جگہ میں جو مساوی ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
59 |
کہا تمھارے وعدے کا وقت زینت کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
60 |
پس فرعون واپس لوٹا، پس اس نے اپنے دائو پیچ جمع کیے، پھر آگیا۔
|
|
61 |
موسیٰ نے ان سے کہا تمھاری بربادی ہو! اللہ پر کوئی جھوٹ نہ باندھنا، ورنہ وہ تمھیں عذاب سے ہلاک کردے گا اور یقینا ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
62 |
تو وہ اپنے معاملے میں آپس میں جھگڑ پڑے اور انھوں نے پوشیدہ سرگوشی کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
63 |
کہا بے شک یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں، چاہتے ہیں کہ تمھیں تمھاری سرزمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دیں اور تمھارا وہ طریقہ لے جائیں جو سب سے اچھا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
64 |
سو تم اپنی تدبیر پختہ کرو، پھر صف باندھ کر آجاؤ اور یقینا آج وہ کامیاب ہوگا جس نے غلبہ حاصل کر لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
65 |
انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو یہ کہ تو پھینکے اور یا یہ کہ ہم پہلے ہوں جو پھینکے۔
|
|
66 |
کہا بلکہ تم پھینکو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا، ان کے جادو کی وجہ سے کہ واقعی وہ دوڑ رہی ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
67 |
تو موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف محسوس کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
68 |
ہم نے کہا خوف نہ کر، یقینا تو ہی غالب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
69 |
اور پھینک جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، بے شک انھوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادوگر کی چال ہے اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں بھی آئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
70 |
تو جادو گر گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے، انھوں نے کہا ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
71 |
کہا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمھیں اجازت دوں، یقینا یہ تو تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، پس یقینا میں ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور ضرور ہر صورت تمھیں کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا اور یقینا تم ضرور جان لو گے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
|
|
72 |
انھوں نے کہا ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اس پر جس نے ہمیں پیداکیا ہے، سو فیصلہ کر جو تو فیصلہ کرنے والا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ تو اس دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
73 |
بے شک ہم اپنے رب پر اس لیے ایمان لائے ہیں کہ وہ ہمارے لیے ہماری خطائیں بخش دے اور جادو کے وہ کام بھی جن پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے اور اللہ بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
74 |
بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم ہے، نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔
|
|
75 |
اور جو اس کے پاس مومن بن کر آئے گا کہ اس نے اچھے اعمال کیے ہوںگے تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب سے بلند درجے ہیں۔
|
|
76 |
ہمیشگی کے باغات، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔
|
ابن کثیر ↑
|
77 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا، پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا، نہ توپکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ ڈرے گا۔
|
|
78 |
پس فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا تو انھیں سمندر سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے انھیں ڈھانپا۔
|
ابن کثیر ↑
|
79 |
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔
|
ابن کثیر ↑
|
80 |
اے بنی اسرائیل! بے شک ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سے نجات دی اور تمھیں پہاڑ کی دائیں جانب کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔
|
|
81 |
کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمھیں دی ہیں اور ان میں حد سے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب اترے گا اور جس پر میرا غضب اترا تو یقینا وہ ہلاک ہوگیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
82 |
اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔
|
ابن کثیر ↑
|
83 |
اور تجھے تیری قوم سے جلد کیا چیزلے آئی اے موسیٰ!؟
|
|
84 |
کہا وہ یہ میرے نشان قدم پر ہیں اور میں تیری طرف جلدی آگیا اے میرے رب! تاکہ تو خوش ہو جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
85 |
فرمایا پھر بے شک ہم نے تو تیری قوم کو تیرے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انھیں سامری نے گمراہ کر دیاہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
86 |
تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصے سے بھرا ہوا، افسوس کرتا ہوا، کہا اے میری قوم! کیا تمھارے رب نے تمھیں اچھا وعدہ نہ دیا تھا؟ پھر کیا وہ مدت تم پر لمبی ہوگئی، یا تم نے چاہا کہ تم پر تمھارے رب کی طرف سے کوئی غضب اترے؟ تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
87 |
انھوں نے کہا ہم نے اپنے اختیار سے تیرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی اور لیکن ہم پر لوگوں کے زیوروں کے کچھ بوجھ لاد دیے گئے تھے تو ہم نے انھیں پھینک دیا، پھر اس طرح سامری نے (بنا) ڈالا۔
|
ابن کثیر ↑
|
88 |
پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا، جو محض جسم تھا، اس کے لیے گائے کی آواز تھی، تو انھوں نے کہا یہی تمھارا معبود اور موسیٰ کا معبود ہے، سو وہ بھول گیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
89 |
تو کیا وہ دیکھتے نہیں کہ وہ نہ ان کی کسی بات کا جو اب دیتا ہے اور نہ ان کے کسی نقصان کا مالک ہے اور نہ کسی نفع کا۔
|
ابن کثیر ↑
|
90 |
اور بلاشبہ یقینا ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ اے میری قوم! بات یہی ہے کہ اس کے ساتھ تمھاری آزمائش کی گئی ہے اور یقینا تمھارا رب رحمان ہی ہے، سو میرے پیچھے چلو اور میرا حکم مانو۔
|
|
91 |
انھوں نے کہا ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
92 |
کہا اے ہارون! تجھے کس چیز نے روکا، جب تو نے انھیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔
|
|
93 |
کہ تو میری پیروی نہ کرے؟ تو کیا تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی؟
|
ابن کثیر ↑
|
94 |
اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! نہ میری ڈاڑھی پکڑ اور نہ میرا سر، میں تو اس سے ڈرا کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
95 |
کہا تو اے سامری! تیرا معاملہ کیا ہے؟
|
|
96 |
اس نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی، سو میں نے رسول کے پائوں کے نشان سے ایک مٹھی اٹھالی، پھر میں نے وہ ڈال دی اور میرے دل نے اسی طرح کرنا میرے لیے خوش نما بنادیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
97 |
کہا پس جا کہ بے شک تیرے لیے زندگی بھر یہ ہے کہ کہتا رہے ’’ایک دوسرے کو چھونا نہیں‘‘ اور بے شک تیرے لیے ایک اور بھی وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی تجھ سے ہرگز نہ کی جائے گی اور اپنے معبود کو دیکھ جس پر تومجاور بنا رہا، یقینا ہم اسے ضرور اچھی طرح جلائیں گے، پھر یقینا اسے ضرور سمندر میں اڑا دیں گے، اڑانا اچھی طرح۔
|
ابن کثیر ↑
|
98 |
تمھارا معبود تو اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
99 |
اسی طرح ہم تجھ سے کچھ وہ خبریں بیان کرتے ہیں جو گزر چکیں اور یقینا ہم نے تجھے اپنے پاس سے ایک نصیحت عطا کی ہے۔
|
|
100 |
جو اس سے منہ پھیرے گا تو یقینا وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|