🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة طه
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
51
قال فما بال القرون الأولى
اس نے کہا تو پہلے زمانوں کے لوگوں کا کیا حال ہے؟
ابن کثیر ↑
52
قال علمها عند ربي في كتاب لا يضل ربي ولا ينسى
کہا ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ بھٹکتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔
ابن کثیر ↑
53
الذي جعل لكم الأرض مهدا وسلك لكم فيها سبلا وأنزل من السماء ماء فأخرجنا به أزواجا من نبات شتى
وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور تمھارے لیے اس میں راستے جاری کیے اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی قسمیں مختلف نباتات سے نکالیں۔
54
كلوا وارعوا أنعامكم إن في ذلك لآيات لأولي النهى
کھاؤ اور اپنے چوپایوں کو چرائو، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
ابن کثیر ↑
55
منها خلقناكم وفيها نعيدكم ومنها نخرجكم تارة أخرى
اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں ایک اور بار نکالیں گے۔
ابن کثیر ↑
56
ولقد أريناه آياتنا كلها فكذب وأبى
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اسے اپنی نشانیاں سب کی سب دکھلائیں، پس اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔
ابن کثیر ↑
57
قال أجئتنا لتخرجنا من أرضنا بسحرك يا موسى
کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں ہماری سر زمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دے اے موسیٰ!
58
فلنأتينك بسحر مثله فاجعل بيننا وبينك موعدا لا نخلفه نحن ولا أنت مكانا سوى
تو ہم بھی ہر صورت تیرے پاس اس جیسا جادو لائیں گے، پس تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان وعدے کا ایک وقت طے کردے کہ نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تو، ایسی جگہ میں جو مساوی ہو۔
ابن کثیر ↑
59
قال موعدكم يوم الزينة وأن يحشر الناس ضحى
کہا تمھارے وعدے کا وقت زینت کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں۔
ابن کثیر ↑
60
فتولى فرعون فجمع كيده ثم أتى
پس فرعون واپس لوٹا، پس اس نے اپنے دائو پیچ جمع کیے، پھر آگیا۔
61
قال لهم موسى ويلكم لا تفتروا على الله كذبا فيسحتكم بعذاب وقد خاب من افترى
موسیٰ نے ان سے کہا تمھاری بربادی ہو! اللہ پر کوئی جھوٹ نہ باندھنا، ورنہ وہ تمھیں عذاب سے ہلاک کردے گا اور یقینا ناکام ہوا جس نے جھوٹ باندھا۔
ابن کثیر ↑
62
فتنازعوا أمرهم بينهم وأسروا النجوى
تو وہ اپنے معاملے میں آپس میں جھگڑ پڑے اور انھوں نے پوشیدہ سرگوشی کی۔
ابن کثیر ↑
63
قالوا إن هذان لساحران يريدان أن يخرجاكم من أرضكم بسحرهما ويذهبا بطريقتكم المثلى
کہا بے شک یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں، چاہتے ہیں کہ تمھیں تمھاری سرزمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دیں اور تمھارا وہ طریقہ لے جائیں جو سب سے اچھا ہے۔
ابن کثیر ↑
64
فأجمعوا كيدكم ثم ائتوا صفا وقد أفلح اليوم من استعلى
سو تم اپنی تدبیر پختہ کرو، پھر صف باندھ کر آجاؤ اور یقینا آج وہ کامیاب ہوگا جس نے غلبہ حاصل کر لیا۔
ابن کثیر ↑
65
قالوا يا موسى إما أن تلقي وإما أن نكون أول من ألقى
انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو یہ کہ تو پھینکے اور یا یہ کہ ہم پہلے ہوں جو پھینکے۔
66
قال بل ألقوا فإذا حبالهم وعصيهم يخيل إليه من سحرهم أنها تسعى
کہا بلکہ تم پھینکو، تو اچانک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں، اس کے خیال میں ڈالا جاتا تھا، ان کے جادو کی وجہ سے کہ واقعی وہ دوڑ رہی ہیں۔
ابن کثیر ↑
67
فأوجس في نفسه خيفة موسى
تو موسیٰ نے اپنے دل میں ایک خوف محسوس کیا۔
ابن کثیر ↑
68
قلنا لا تخف إنك أنت الأعلى
ہم نے کہا خوف نہ کر، یقینا تو ہی غالب ہے۔
ابن کثیر ↑
69
وألق ما في يمينك تلقف ما صنعوا إنما صنعوا كيد ساحر ولا يفلح الساحر حيث أتى
اور پھینک جو تیرے دائیں ہاتھ میں ہے، وہ نگل جائے گا جو کچھ انھوں نے بنایا ہے، بے شک انھوں نے جو کچھ بنایا ہے وہ جادوگر کی چال ہے اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتا جہاں بھی آئے۔
ابن کثیر ↑
70
فألقي السحرة سجدا قالوا آمنا برب هارون وموسى
تو جادو گر گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے، انھوں نے کہا ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔
ابن کثیر ↑
71
قال آمنتم له قبل أن آذن لكم إنه لكبيركم الذي علمكم السحر فلأقطعن أيديكم وأرجلكم من خلاف ولأصلبنكم في جذوع النخل ولتعلمن أينا أشد عذابا وأبقى
کہا تم اس پر اس سے پہلے ایمان لے آئے کہ میں تمھیں اجازت دوں، یقینا یہ تو تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، پس یقینا میں ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پائوں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور ضرور ہر صورت تمھیں کھجور کے تنوں پر بری طرح سولی دوں گا اور یقینا تم ضرور جان لو گے کہ ہم میں سے کون عذاب دینے میں زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
72
قالوا لن نؤثرك على ما جاءنا من البينات والذي فطرنا فاقض ما أنت قاض إنما تقضي هذه الحياة الدنيا
انھوں نے کہا ہم تجھے ہرگز ترجیح نہ دیں گے ان واضح دلائل پر جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اس پر جس نے ہمیں پیداکیا ہے، سو فیصلہ کر جو تو فیصلہ کرنے والا ہے، اس کے سوا کچھ نہیں کہ تو اس دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرے گا۔
ابن کثیر ↑
73
إنا آمنا بربنا ليغفر لنا خطايانا وما أكرهتنا عليه من السحر والله خير وأبقى
بے شک ہم اپنے رب پر اس لیے ایمان لائے ہیں کہ وہ ہمارے لیے ہماری خطائیں بخش دے اور جادو کے وہ کام بھی جن پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے اور اللہ بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
74
إنه من يأت ربه مجرما فإن له جهنم لا يموت فيها ولا يحيى
بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو اپنے رب کے پاس مجرم بن کر آئے گا تو یقینا اسی کے لیے جہنم ہے، نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جیے گا۔
75
ومن يأته مؤمنا قد عمل الصالحات فأولئك لهم الدرجات العلى
اور جو اس کے پاس مومن بن کر آئے گا کہ اس نے اچھے اعمال کیے ہوںگے تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب سے بلند درجے ہیں۔
76
جنات عدن تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها وذلك جزاء من تزكى
ہمیشگی کے باغات، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے اور یہ اس کی جزا ہے جو پاک ہوا۔
ابن کثیر ↑
77
ولقد أوحينا إلى موسى أن أسر بعبادي فاضرب لهم طريقا في البحر يبسا لا تخاف دركا ولا تخشى
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا، پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا، نہ توپکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ ڈرے گا۔
78
فأتبعهم فرعون بجنوده فغشيهم من اليم ما غشيهم
پس فرعون نے اپنے لشکروں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا تو انھیں سمندر سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے انھیں ڈھانپا۔
ابن کثیر ↑
79
وأضل فرعون قومه وما هدى
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔
ابن کثیر ↑
80
يا بني إسرائيل قد أنجيناكم من عدوكم وواعدناكم جانب الطور الأيمن ونزلنا عليكم المن والسلوى
اے بنی اسرائیل! بے شک ہم نے تمھیں تمھارے دشمن سے نجات دی اور تمھیں پہاڑ کی دائیں جانب کا وعدہ دیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔
81
كلوا من طيبات ما رزقناكم ولا تطغوا فيه فيحل عليكم غضبي ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى
کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمھیں دی ہیں اور ان میں حد سے نہ بڑھو، ورنہ تم پر میرا غضب اترے گا اور جس پر میرا غضب اترا تو یقینا وہ ہلاک ہوگیا۔
ابن کثیر ↑
82
وإني لغفار لمن تاب وآمن وعمل صالحا ثم اهتدى
اور بے شک میں یقینا اس کو بہت بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھے راستے پر چلے۔
ابن کثیر ↑
83
وما أعجلك عن قومك يا موسى
اور تجھے تیری قوم سے جلد کیا چیزلے آئی اے موسیٰ!؟
84
قال هم أولاء على أثري وعجلت إليك رب لترضى
کہا وہ یہ میرے نشان قدم پر ہیں اور میں تیری طرف جلدی آگیا اے میرے رب! تاکہ تو خوش ہو جائے۔
ابن کثیر ↑
85
قال فإنا قد فتنا قومك من بعدك وأضلهم السامري
فرمایا پھر بے شک ہم نے تو تیری قوم کو تیرے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انھیں سامری نے گمراہ کر دیاہے۔
ابن کثیر ↑
86
فرجع موسى إلى قومه غضبان أسفا قال يا قوم ألم يعدكم ربكم وعدا حسنا أفطال عليكم العهد أم أردتم أن يحل عليكم غضب من ربكم فأخلفتم موعدي
تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصے سے بھرا ہوا، افسوس کرتا ہوا، کہا اے میری قوم! کیا تمھارے رب نے تمھیں اچھا وعدہ نہ دیا تھا؟ پھر کیا وہ مدت تم پر لمبی ہوگئی، یا تم نے چاہا کہ تم پر تمھارے رب کی طرف سے کوئی غضب اترے؟ تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کی۔
ابن کثیر ↑
87
قالوا ما أخلفنا موعدك بملكنا ولكنا حملنا أوزارا من زينة القوم فقذفناها فكذلك ألقى السامري
انھوں نے کہا ہم نے اپنے اختیار سے تیرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی اور لیکن ہم پر لوگوں کے زیوروں کے کچھ بوجھ لاد دیے گئے تھے تو ہم نے انھیں پھینک دیا، پھر اس طرح سامری نے (بنا) ڈالا۔
ابن کثیر ↑
88
فأخرج لهم عجلا جسدا له خوار فقالوا هذا إلهكم وإله موسى فنسي
پس اس نے ان کے لیے ایک بچھڑا نکالا، جو محض جسم تھا، اس کے لیے گائے کی آواز تھی، تو انھوں نے کہا یہی تمھارا معبود اور موسیٰ کا معبود ہے، سو وہ بھول گیا۔
ابن کثیر ↑
89
أفلا يرون ألا يرجع إليهم قولا ولا يملك لهم ضرا ولا نفعا
تو کیا وہ دیکھتے نہیں کہ وہ نہ ان کی کسی بات کا جو اب دیتا ہے اور نہ ان کے کسی نقصان کا مالک ہے اور نہ کسی نفع کا۔
ابن کثیر ↑
90
ولقد قال لهم هارون من قبل يا قوم إنما فتنتم به وإن ربكم الرحمن فاتبعوني وأطيعوا أمري
اور بلاشبہ یقینا ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیاتھا کہ اے میری قوم! بات یہی ہے کہ اس کے ساتھ تمھاری آزمائش کی گئی ہے اور یقینا تمھارا رب رحمان ہی ہے، سو میرے پیچھے چلو اور میرا حکم مانو۔
91
قالوا لن نبرح عليه عاكفين حتى يرجع إلينا موسى
انھوں نے کہا ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔
ابن کثیر ↑
92
قال يا هارون ما منعك إذ رأيتهم ضلوا
کہا اے ہارون! تجھے کس چیز نے روکا، جب تو نے انھیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔
93
ألا تتبعن أفعصيت أمري
کہ تو میری پیروی نہ کرے؟ تو کیا تو نے میرے حکم کی نافرمانی کی؟
ابن کثیر ↑
94
قال يا ابن أم لا تأخذ بلحيتي ولا برأسي إني خشيت أن تقول فرقت بين بني إسرائيل ولم ترقب قولي
اس نے کہا اے میری ماں کے بیٹے! نہ میری ڈاڑھی پکڑ اور نہ میرا سر، میں تو اس سے ڈرا کہ تو کہے گا تو نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔
ابن کثیر ↑
95
قال فما خطبك يا سامري
کہا تو اے سامری! تیرا معاملہ کیا ہے؟
96
قال بصرت بما لم يبصروا به فقبضت قبضة من أثر الرسول فنبذتها وكذلك سولت لي نفسي
اس نے کہا میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی، سو میں نے رسول کے پائوں کے نشان سے ایک مٹھی اٹھالی، پھر میں نے وہ ڈال دی اور میرے دل نے اسی طرح کرنا میرے لیے خوش نما بنادیا۔
ابن کثیر ↑
97
قال فاذهب فإن لك في الحياة أن تقول لا مساس وإن لك موعدا لن تخلفه وانظر إلى إلهك الذي ظلت عليه عاكفا لنحرقنه ثم لننسفنه في اليم نسفا
کہا پس جا کہ بے شک تیرے لیے زندگی بھر یہ ہے کہ کہتا رہے ’’ایک دوسرے کو چھونا نہیں‘‘ اور بے شک تیرے لیے ایک اور بھی وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی تجھ سے ہرگز نہ کی جائے گی اور اپنے معبود کو دیکھ جس پر تومجاور بنا رہا، یقینا ہم اسے ضرور اچھی طرح جلائیں گے، پھر یقینا اسے ضرور سمندر میں اڑا دیں گے، اڑانا اچھی طرح۔
ابن کثیر ↑
98
إنما إلهكم الله الذي لا إله إلا هو وسع كل شيء علما
تمھارا معبود تو اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔
ابن کثیر ↑
99
كذلك نقص عليك من أنباء ما قد سبق وقد آتيناك من لدنا ذكرا
اسی طرح ہم تجھ سے کچھ وہ خبریں بیان کرتے ہیں جو گزر چکیں اور یقینا ہم نے تجھے اپنے پاس سے ایک نصیحت عطا کی ہے۔
100
من أعرض عنه فإنه يحمل يوم القيامة وزرا
جو اس سے منہ پھیرے گا تو یقینا وہ قیامت کے دن ایک بڑا بوجھ اٹھائے گا۔
ابن کثیر ↑