قرآن مجيد
سورة طه
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
101 |
ہمیشہ اس میں رہنے والے ہوں گے اور وہ ان کے لیے قیامت کے دن برا بوجھ ہوگا۔
|
ابن کثیر ↑
|
102 |
جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس دن اس حال میں اکٹھا کریں گے کہ نیلی آنکھوں والے ہوں گے۔
|
|
103 |
آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہوں گے تم دس راتوں کے سوا نہیں ٹھہرے۔
|
ابن کثیر ↑
|
104 |
ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہوں گے، جب ان کا سب سے اچھے طریقے والا کہہ رہا ہوگا کہ تم ایک دن کے سوا نہیں ٹھہرے۔
|
ابن کثیر ↑
|
105 |
اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں پوچھیں گے تو توُکہہ دے میرا رب انھیں اڑا کر بکھیر دے گا۔
|
|
106 |
پھر انھیں ایک چٹیل میدان بنا کرچھوڑے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
107 |
جس میں تو نہ کوئی کجی دیکھے گا اور نہ کوئی ابھری جگہ۔
|
ابن کثیر ↑
|
108 |
اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے چلے آئیں گے، جس کے لیے کوئی کجی نہ ہوگی اور سب آوازیں رحمان کے لیے پست ہو جائیں گی، سو تو ایک نہایت آہستہ آواز کے سوا کچھ نہیں سنے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
109 |
اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر جس کے لیے رحمان اجازت دے اور جس کے لیے وہ بات کرنا پسند فرمائے۔
|
|
110 |
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ علم سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
111 |
اور سب چہرے اس زندہ رہنے والے، قائم رکھنے والے کے لیے جھک جائیں گے اور یقینا ناکام ہوا جس نے بڑے ظلم کا بوجھ اٹھایا۔
|
ابن کثیر ↑
|
112 |
اور جو شخص کچھ نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو وہ نہ کسی بے انصافی سے ڈرے گا اور نہ حق تلفی سے۔
|
ابن کثیر ↑
|
113 |
اور اسی طرح ہم نے اسے عربی قرآن بنا کرنازل کیا اور اس میں ڈرانے کی باتیں پھیر پھیر کر بیان کیں، شاید کہ وہ ڈر جائیں، یا یہ ان کے لیے کوئی نصیحت پیدا کردے۔
|
|
114 |
پس بہت بلند ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے، اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر، اس سے پہلے کہ تیری طرف اس کی وحی پوری کی جائے اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔
|
ابن کثیر ↑
|
115 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکید کی، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔
|
|
116 |
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، اس نے انکار کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
117 |
تو ہم نے کہا اے آدم! بے شک یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے، سو کہیں تم دونوں کو جنت سے نہ نکال دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
118 |
بے شک تیرے لیے یہ ہے کہ تو اس میں نہ بھوکا ہو گا اور نہ ننگا ہوگا۔
|
ابن کثیر ↑
|
119 |
اور یہ کہ تو اس میں نہ پیاسا ہو گا اور نہ دھوپ کھائے گا۔
|
|
120 |
پس شیطان نے اس کے دل میں خیال ڈالا، کہنے لگا اے آدم ! کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور ایسی بادشاہی بتاؤں جو پرانی نہ ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
121 |
پس دونوں نے اس میں سے کھا لیا تو دونوں کے لیے ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں اور وہ دونوں اپنے آپ پر جنت کے پتے چپکانے لگے اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
122 |
پھر اس کے رب نے اسے چن لیا، تو اس پر مہربانی فرمائی اور ہدایت دی۔
|
ابن کثیر ↑
|
123 |
فرمایا تم دونوں اکٹھے اس سے اتر جائو، تم میں سے بعض بعض کا دشمن ہے، پھر اگر کبھی واقعی تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جس نے میری ہدایت کی پوری طرح پیروی کی تو نہ وہ گمراہ ہوگا اور نہ مصیبت میں پڑے گا۔
|
|
124 |
اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
125 |
کہے گا اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کر کے کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھنے والا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
126 |
وہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیات آئیں تو توُ انھیں بھول گیا اور اسی طرح آج تو بھلایا جائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
127 |
اور اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیتے ہیں جو حد سے گزرے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہ لائے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
|
|
128 |
پھر کیا اس بات نے ان کی رہنمائی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کر دیے، جن کے رہنے کی جگہوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں، بے شک اس میں عقلوں والوں کے لیے یقینا کئی عظیم نشانیاں ہیں۔
|
|
129 |
اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی اور ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو وہی (پہلے لوگوں والا عذاب) لازم ہوجاتا ۔
|
ابن کثیر ↑
|
130 |
سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور رات کے کچھ اوقات میں بھی پس تسبیح کر اور دن کے کناروں میں، تاکہ تو خوش ہو جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
131 |
اور اپنی آنکھیں ان چیزوں کی طرف ہرگز نہ اٹھا جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو دنیا کی زندگی کی زینت کے طور پر برتنے کے لیے دی ہیں، تاکہ ہم انھیں اس میں آزمائیں اور تیرے رب کا دیا ہوا سب سے اچھا اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔
|
|
132 |
اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
133 |
اور انھوں نے کہا یہ ہمارے پاس اپنے رب سے کوئی نشانی کیوں نہیں لاتا اور کیا ان کے پاس وہ واضح دلیل نہیں آئی جو پہلی کتابوں میں ہے؟
|
|
134 |
اور اگر ہم انھیں اس سے پہلے کسی عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو یہ لوگ ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ہوں اور رسوا ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
135 |
کہہ دے ہر ایک منتظر ہے، سو تم انتظار کرو، پھر تم جلد ہی جان لو گے کہ سیدھے راستے والے کون ہیں اور کون ہے جس نے ہدایت پائی۔
|
ابن کثیر ↑
|