قرآن مجيد
سورة الأنبياء
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
51 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اسے جاننے والے تھے۔
|
|
52 |
اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمۡ لَہَا عٰکِفُوۡنَ ﴿۵۲﴾
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
53 |
انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرنے والے پایا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
54 |
کہا بلاشبہ یقینا تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی میں تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
55 |
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس حق لایا ہے، یا تو کھیلنے والوں سے ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
56 |
کہا بلکہ تمھارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، جس نے انھیں پیدا کیا ہے اور میں اس پر گواہی دینے والوں سے ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
57 |
اور اللہ کی قسم! میں ضرور ہی تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔
|
|
58 |
پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔
|
ابن کثیر ↑
|
59 |
انھوں نے کہا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ بلاشبہ وہ یقینا ظالموں سے ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
60 |
لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
61 |
انھوں نے کہا پھر اسے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لائو، تاکہ وہ گواہ ہو جائیں۔
|
|
62 |
انھوں نے کہا کیا تو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے اے ابراہیم!؟
|
ابن کثیر ↑
|
63 |
اس نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو، اگر وہ بولتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
64 |
تو وہ اپنے دلوں کی طرف لوٹے اور کہنے لگے یقینا تم خود ہی ظالم ہو۔
|
|
65 |
پھر وہ اپنے سروں پر الٹے کر دیے گئے، بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
66 |
کہا پھر کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمھیں کچھ نفع دیتی ہے اور نہ تمھیں نقصان پہنچاتی ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
67 |
اف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
68 |
انھوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو، اگر تم کرنے والے ہو۔
|
|
69 |
ہم نے کہا اے آگ! تو ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔
|
ابن کثیر ↑
|
70 |
اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا ارادہ کیا توہم نے انھی کو انتہائی خسارے والے کر دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
71 |
اور ہم نے اسے اور لوط کو اس سر زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی۔
|
|
72 |
اور ہم نے اسے اسحاق اور زائد انعام کے طور پر یعقوب عطا کیا اور سبھی کو ہم نے نیک بنایا۔
|
ابن کثیر ↑
|
73 |
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے ساتھ رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیکیاں کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
74 |
اور لوط، ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا اور اسے اس بستی سے نجات دی جو گندے کام کیا کرتی تھی۔ یقینا وہ برے لوگ تھے جو نافرمان تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
75 |
اور ہم نے اسے اپنی رحمت میں داخل کر لیا، یقینا وہ نیک لوگوں سے تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
76 |
اور نوح کو بھی جب اس نے اس سے پہلے پکارا تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پھر اسے اور اس کے گھر والوں کو بہت بڑی گھبراہٹ سے بچا لیا۔
|
|
77 |
اور ہم نے ان لوگوں کے خلاف اس کی مدد کی جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، بے شک وہ برے لوگ تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
78 |
اور داؤد اور سلیمان کو، جب وہ کھیتی کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے، جب اس میں لوگوں کی بکریاں رات چر گئیں اور ہم ان کے فیصلے کے وقت حاضر تھے۔
|
|
79 |
تو ہم نے وہ (فیصلہ) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے ہر ایک کو حکم اور علم عطا کیا اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کومسخر کر دیا، جو تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی اور ہم ہی کرنے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
80 |
اور ہم نے اسے تمھارے لیے زرہ بنانا سکھایا، تاکہ وہ تمھاری لڑائی سے تمھارا بچائو کرے۔ تو کیا تم شکر کرنے والے ہو؟
|
ابن کثیر ↑
|
81 |
اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تندوتیز تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے۔
|
|
82 |
اور کئی شیطان جو اس کے لیے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
83 |
وَ اَیُّوۡبَ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗۤ اَنِّیۡ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۳﴾
اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بے شک میں، مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم والا ہے۔
|
|
84 |
تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پس اسے جو بھی تکلیف تھی دور کر دی اور اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ ان کی مثل (اور) عطا کر دیے، اپنے پاس سے رحمت کے لیے اور ان لوگوں کی یاددہانی کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
85 |
اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو۔ ہر ایک صبر کرنے والوں سے تھا۔
|
|
86 |
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا۔ یقینا وہ نیک لوگوں سے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
87 |
اور مچھلی والے کو، جب وہ غصے سے بھرا ہوا چلا گیا، پس اس نے سمجھا کہ ہم اس پر گرفت تنگ نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکارا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، یقینا میں ظلم کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔
|
|
88 |
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
89 |
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب وارثوں سے بہتر ہے۔
|
|
90 |
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا، بے شک وہ نیکیوں میں بہت جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے ہی لیے عاجزی کرنے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
91 |
اور اس عورت کو جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا، تو ہم نے اس میں اپنی روح سے پھونکا اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہانوں کے لیے عظیم نشانی بنا دیا۔
|
|
92 |
بے شک یہ ہے تمھاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمھارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔
|
|
93 |
اور وہ اپنے معاملے میں آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
94 |
پس جو شخص کچھ نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو اس کی کوشش کی کوئی نا قدری نہیں اور یقینا ہم اس کے لیے لکھنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
95 |
اور لازم ہے اس بستی پر جسے ہم ہلاک کر دیں کہ وہ واپس نہیں لوٹیں گے۔
|
|
96 |
یہاں تک کہ جب یاجوج اورماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر اونچی جگہ سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
97 |
اور سچا وعدہ بالکل قریب آجائے گا تو اچانک یہ ہو گا کہ ان لوگوں کی آنکھیں کھلی رہ جائیں گی جنھوں نے کفر کیا۔ ہائے ہماری بربادی! بے شک ہم اس سے غفلت میں تھے، بلکہ ہم ظلم کرنے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
98 |
بے شک تم اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں، تم اسی میں داخل ہونے والے ہو۔
|
|
99 |
اگر یہ معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور یہ سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
100 |
ان کے لیے ا س میں گدھے جیسی آواز ہوگی اور وہ اس میں نہیں سنیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|