🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة المعارج
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
سأل سائل بعذاب واقع
ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کے متعلق سوا ل کیا جو واقع ہونے والا ہے۔
2
للكافرين ليس له دافع
کافروں پر، اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔
ابن کثیر ↑
3
من الله ذي المعارج
اللہ کی طرف سے، جو سیڑھیوں والا ہے۔
ابن کثیر ↑
4
تعرج الملائكة والروح إليه في يوم كان مقداره خمسين ألف سنة
فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں، ( وہ عذاب ) ایک ایسے دن میں(ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار سال ہے۔
ابن کثیر ↑
5
فاصبر صبرا جميلا
پس تو صبر کر، بہت اچھا صبر۔
ابن کثیر ↑
6
إنهم يرونه بعيدا
بے شک وہ اسے دور خیال کر رہے ہیں۔
ابن کثیر ↑
7
ونراه قريبا
اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔
ابن کثیر ↑
8
يوم تكون السماء كالمهل
جس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا۔
9
وتكون الجبال كالعهن
اور پہاڑ رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
10
ولا يسأل حميم حميما
اور کوئی دلی دوست کسی دلی دوست کو نہیں پوچھے گا۔
ابن کثیر ↑
11
يبصرونهم يود المجرم لو يفتدي من عذاب يومئذ ببنيه
حالانکہ وہ انھیں دکھائے جا رہے ہوں گے۔ مجرم چاہے گا کاش کہ اس دن کے عذاب سے (بچنے کے لیے) فدیے میں دے دے اپنے بیٹوں کو۔
ابن کثیر ↑
12
وصاحبته وأخيه
اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو۔
ابن کثیر ↑
13
وفصيلته التي تؤويه
اور اپنے خاندان کو، جو اسے جگہ دیا کرتا تھا۔
ابن کثیر ↑
14
ومن في الأرض جميعا ثم ينجيه
اور ان تمام لوگوں کو جو زمین میں ہیں، پھر اپنے آپ کو بچا لے۔
ابن کثیر ↑
15
كلا إنها لظى
ہرگز نہیں! یقینا وہ (جہنم) ایک شعلہ مارنے والی آگ ہے۔
ابن کثیر ↑
16
نزاعة للشوى
منہ اور سر کی کھال کو اتار کھینچنے والی ہے۔
ابن کثیر ↑
17
تدعو من أدبر وتولى
وہ(ہر) اس شخص کو پکارے گی جس نے پیٹھ پھیری اور منہ موڑا۔
ابن کثیر ↑
18
وجمع فأوعى
اور(مال) جمع کیا اور اسے بند رکھا۔
ابن کثیر ↑
19
إن الإنسان خلق هلوعا
بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔
20
إذا مسه الشر جزوعا
جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
21
وإذا مسه الخير منوعا
اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
22
إلا المصلين
سوائے نماز ادا کرنے والوں کے۔
ابن کثیر ↑
23
الذين هم على صلاتهم دائمون
وہ جو اپنی نماز پر ہمیشگی کرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
24
والذين في أموالهم حق معلوم
اور وہ جن کے مالوں میں ایک مقرر حصہ ہے۔
ابن کثیر ↑
25
للسائل والمحروم
سوال کرنے والے کے لیے اور (اس کے لیے) جسے نہیں دیا جاتا۔
ابن کثیر ↑
26
والذين يصدقون بيوم الدين
اور وہ جو جزا کے دن کو سچا مانتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
27
والذين هم من عذاب ربهم مشفقون
اور وہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
28
إن عذاب ربهم غير مأمون
یقینا ان کے رب کا عذاب ایسا ہے جس سے بے خوف نہیں ہوا جا سکتا۔
ابن کثیر ↑
29
والذين هم لفروجهم حافظون
اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
30
إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين
مگر اپنی بیویوں پر، یا جس کے مالک ان کے دائیں ہاتھ ہیں، تو یقینا وہ ملامت کیے ہوئے نہیں۔
ابن کثیر ↑
31
فمن ابتغى وراء ذلك فأولئك هم العادون
پھر جو اس کے علاوہ کوئی راستہ ڈھونڈے تو وہی حد سے گزرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
32
والذين هم لأماناتهم وعهدهم راعون
اور وہ جو اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
33
والذين هم بشهاداتهم قائمون
اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
34
والذين هم على صلاتهم يحافظون
اور وہ جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
35
أولئك في جنات مكرمون
یہی لوگ جنتوں میں عزت دیے جانے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
36
فمال الذين كفروا قبلك مهطعين
پھر ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، کیا ہے کہ تیری طرف دوڑتے چلے آنے والے ہیں۔
37
عن اليمين وعن الشمال عزين
دائیں اور بائیں طرف سے ٹولیاں بن کر۔
ابن کثیر ↑
38
أيطمع كل امرئ منهم أن يدخل جنة نعيم
کیا ان میں سے ہر آدمی طمع رکھتا ہے کہ اسے نعمت والی جنت میں داخل کیا جائے گا؟
ابن کثیر ↑
39
كلا إنا خلقناهم مما يعلمون
ہرگز نہیں! یقیناً ہم نے انھیں اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
40
فلا أقسم برب المشارق والمغارب إنا لقادرون
پس نہیں! میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی! کہ بےشک ہم یقیناً قدرت رکھنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
41
على أن نبدل خيرا منهم وما نحن بمسبوقين
اس پر کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم ہرگز عاجز نہیں ہیں۔
ابن کثیر ↑
42
فذرهم يخوضوا ويلعبوا حتى يلاقوا يومهم الذي يوعدون
پس انھیں چھوڑ دے کہ وہ بے ہودہ باتوں میں لگے رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن کو جا پہنچیں جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں۔
43
يوم يخرجون من الأجداث سراعا كأنهم إلى نصب يوفضون
جس دن وہ قبروں سے تیز دوڑتے ہوئے نکلیں گے، جیسے وہ کسی گاڑے ہوئے نشان کی طرف دوڑے جا رہے ہیں۔
ابن کثیر ↑
44
خاشعة أبصارهم ترهقهم ذلة ذلك اليوم الذي كانوا يوعدون
ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی، ذلت انھیں گھیرے ہوئے ہو گی، یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
ابن کثیر ↑