اور شیطان کہے گا، جب سارے کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا کہ بے شک اللہ نے تم سے وعدہ کیا، سچا وعدہاور میں نے تم سے وعدہ کیا تو میں نے تم سے خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی غلبہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تمھیں بلایا تو تم نے فوراً میرا کہنا مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمھاری فریاد کو پہنچنے والا ہوں اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو، بے شک میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے اس سے پہلے شریک بنایا۔ یقینا جو لوگ ظالم ہیں انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔[22]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَقَالَ
الشَّیۡطٰنُ
لَمَّا
قُضِیَ
الۡاَمۡرُ
اِنَّ
اللّٰہَ
وَعَدَکُمۡ
وَعۡدَ
الۡحَقِّ
وَوَعَدۡتُّکُمۡ
فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ
وَمَا
کَانَ
لِیَ
عَلَیۡکُمۡ
مِّنۡ سُلۡطٰنٍ
اِلَّاۤ
اَنۡ
دَعَوۡتُکُمۡ
فَاسۡتَجَبۡتُمۡ
لِیۡ
فَلَا
تَلُوۡمُوۡنِیۡ
وَلُوۡمُوۡۤا
اَنۡفُسَکُمۡ
مَاۤ
اَنَا
بِمُصۡرِخِکُمۡ
وَمَاۤ
اَنۡتُمۡ
بِمُصۡرِخِیَّ
اِنِّیۡ
کَفَرۡتُ
بِمَاۤ
اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ
مِنۡ قَبۡلُ
اِنَّ
الظّٰلِمِیۡنَ
لَہُمۡ
عَذَابٌ
اَلِیۡمٌ
اور کہے گا
شیطان
جب
فیصلہ کردیا جائے گا
کام کا
بےشک
اللہ تعالیٰ نے
وعدہ کیا تم سے
وعدہ
سچا
اور وعدہ کیا میں نے تم سے
تو خلاف کیا میں نے تم سے
اور نہ
تھا
میرے لئے
تم پر
کوئی زور
مگر
یہ کہ
بلایا میں نے تمہیں
پس قبول کرلیا تم نے
میرے لیے
پس نہ
تم ملامت کرو مجھے
بلکہ ملامت کرو
اپنے نفسوں کو
نہیں
میں
فریاد رسی کرنے والا تمہاری
اور نہ
تم
فریاد رسی کرنے والے ہو میری
بےشک میں
انکار کیا میں نے
اس کا جو
شریک ٹھہرایا تم نے مجھے
اس سے پہلے
بےشک
ظالم لوگ
ان کے لئے
عذاب ہے
درد ناک
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَقَالَ
الشَّیۡطٰنُ
لَمَّا
قُضِیَ
الۡاَمۡرُ
اِنَّ
اللّٰہَ
وَعَدَکُمۡ
وَعۡدَ
الۡحَقِّ
وَوَعَدۡتُّکُمۡ
فَاَخۡلَفۡتُکُمۡ
وَمَا
کَانَ
لِیَ
عَلَیۡکُمۡ
مِّنۡ سُلۡطٰنٍ
اِلَّاۤ
اَنۡ
دَعَوۡتُکُمۡ
فَاسۡتَجَبۡتُمۡ
لِیۡ
فَلَا
تَلُوۡمُوۡنِیۡ
وَلُوۡمُوۡۤا
اَنۡفُسَکُمۡ
مَاۤ
اَنَا
بِمُصۡرِخِکُمۡ
وَمَاۤ
اَنۡتُمۡ
بِمُصۡرِخِیَّ
اِنِّیۡ
کَفَرۡتُ
بِمَاۤ
اَشۡرَکۡتُمُوۡنِ
مِنۡ قَبۡلُ
اِنَّ
الظّٰلِمِیۡنَ
لَہُمۡ
عَذَابٌ
اَلِیۡمٌ
اور کہے گا
شیطان
جب
فیصلہ کر دیا جائے گا
کام کا
بلاشبہ
اللہ تعالیٰ نے
وعدہ کیا تھا تم سے
وعدہ
سچا
اور وعدہ کیا میں نے تم سے
سو میں نے تم سے خلاف ورزی کی
اور نہیں
تھا
میرا
تم پر
کوئی غلبہ
سوائے
اس کے کہ
میں نے بلایا تمہیں
تو کہا مان لیا تم نے
میرا
چنانچہ نہ
تم ملامت کرو مجھے
اور ملامت کرو
خود کو
نہیں
میں
فریاد رسی کرنے والا تمہاری
اور نہیں ہو
تم
فریاد رسی کرنے والے میری
یقیناً میں
میں انکار کرتا ہوں
ساتھ اس کے جو
شریک بنایا تھاتم نے مجھے
اس سے پہلے
یقیناً
ظالم
ان کے لیے
عذاب ہے
دردناک
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَقَالَ
الشَّيْطٰنُ
لَمَّا
قُضِيَ
الْاَمْرُ
اِنَّ اللّٰهَ
وَعَدَكُمْ
وَعْدَ الْحَقِّ
وَ
وَعَدْتُّكُمْ
فَاَخْلَفْتُكُمْ
وَمَا
كَانَ
لِيَ
عَلَيْكُمْ
مِّنْ سُلْطٰنٍ
اِلَّآ
اَنْ
دَعَوْتُكُمْ
فَاسْتَجَبْتُمْ
لِيْ
فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ
وَلُوْمُوْٓا
اَنْفُسَكُمْ
مَآ اَنَا
بِمُصْرِخِكُمْ
وَمَآ
اَنْتُمْ
بِمُصْرِخِيَّ
اِنِّىْ كَفَرْتُ
بِمَآ
اَشْرَكْتُمُوْنِ
مِنْ قَبْلُ
اِنَّ
الظّٰلِمِيْنَ
لَهُمْ
عَذَابٌ اَلِيْمٌ
اور بولا
شیطان
جب
فیصلہ ہوگیا
امر
بیشک اللہ
وعدہ کیا تم سے
سچا وعدہ
اور
میں نے وعدہ کیا تم سے
پھر میں نے اس کے خلاف کیا تم سے
اور نہ
تھا
میرا
تم پر
کوئی زور
مگر
یہ کہ
میں نے بلایا تمہیں
پس تم نے کہا مان لیا
میرا
لہٰذا نہ لگاؤ الزام مجھ پر تم
اور تم الزام لگاؤ
اپنے اوپر
نہیں میں
فریاد رسی کرسکتا تمہاری
اور نہ
تم
فریادرسی کرسکتے ہو میری
بیشک میں انکار کرتا ہوں
اس سے جو
تم نے شریک بنایا مجھے
اس سے قبل
بیشک
ظالم (جمع)
ان کے لیے
دردناک عذاب
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]