اور وہ تمھارے بوجھ اس شہر تک اٹھا کرلے جاتے ہیں جس میں تم کبھی پہنچنے والے نہ تھے، مگر جانوں کی مشقت کے ساتھ، بے شک تمھارا رب یقینا بہت نرمی کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔[7]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَتَحۡمِلُ
اَثۡقَالَکُمۡ
اِلٰی بَلَدٍ
لَّمۡ
تَکُوۡنُوۡا
بٰلِغِیۡہِ
اِلَّا
بِشِقِّ
الۡاَنۡفُسِ
اِنَّ
رَبَّکُمۡ
لَرَءُوۡفٌ
رَّحِیۡمٌ
اور وہ اٹھا لے جاتے ہیں
بوجھ تمہارے
طرف اس شہر کے
نہ
تھے تم
پہنچنے والے اس تک
مگر
ساتھ مشقت کے
جانوں کی
بیشک
رب تمہارا
البتہ بہت شفقت کرنے والا ہے
نہایت رحم کرنے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَتَحۡمِلُ
اَثۡقَالَکُمۡ
اِلٰی بَلَدٍ
لَّمۡ تَکُوۡنُوۡا
بٰلِغِیۡہِ
اِلَّا
بِشِقِّ
الۡاَنۡفُسِ
اِنَّ
رَبَّکُمۡ
لَرَءُوۡفٌ
رَّحِیۡمٌ
اوراٹھا لے جاتے ہیں
بوجھ تمہارے
شہر تک
کبھی نہیں تھے تم
پہنچنے والے اس کو
بغیر
مشقت کے
جانوں کی
یقیناً
رب تمہارا
یقینابہت نرمی کرنےوالا
نہایت رحم والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَتَحْمِلُ
اَثْقَالَكُمْ
اِلٰى
بَلَدٍ
لَّمْ تَكُوْنُوْا
بٰلِغِيْهِ
اِلَّا
بِشِقِّ
الْاَنْفُسِ
اِنَّ
رَبَّكُمْ
لَرَءُوْفٌ
رَّحِيْمٌ
اور وہ اٹھاتے ہیں
تمہارے بوجھ
طرف
شہر (جمع)
نہ تھے تم
ان تک پہنچنے والے
بغیر
ہلکان کر کے
جانیں
بیشک
تمہارا رب
انتہائی شفیق
رحم کرنے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]