تاکہ وہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، ان لوگوں کے لیے آزمائش بنائے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظالم لوگ یقینا دور کی مخالفت میں ہیں۔[53]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
لِّیَجۡعَلَ
مَا
یُلۡقِی
الشَّیۡطٰنُ
فِتۡنَۃً
لِّلَّذِیۡنَ
فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ
مَّرَضٌ
وَّالۡقَاسِیَۃِ
قُلُوۡبُہُمۡ
وَاِنَّ
الظّٰلِمِیۡنَ
لَفِیۡ شِقَاقٍۭ
بَعِیۡدٍ
تا کہ وہ بنا دے
اسے جو
ڈالتا ہے
شیطان
ایک آزمائش
ان لوگوں کے لیے
جن کے دلوں میں
بیماری ہے
اور سخت ہیں
دل ان کے
اور یقینًا
ظالم لوگ
البتہ مخالفت میں ہیں
دور کی
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
لِّیَجۡعَلَ
مَا
یُلۡقِی
الشَّیۡطٰنُ
فِتۡنَۃً
لِّلَّذِیۡنَ
فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ
مَّرَضٌ
وَّالۡقَاسِیَۃِ
قُلُوۡبُہُمۡ
وَاِنَّ
الظّٰلِمِیۡنَ
لَفِیۡ شِقَاقٍۭ
بَعِیۡدٍ
تاکہ وہ بنا دے
جو
ڈالتا ہے
شیطان
ایک فتنہ
ان لوگوں کے لیے
جن کے دلوں میں
بیماری ہے
اور سخت ہیں
دل اُن کے
اور بے شک
ظالم
یقیناً مخالفت میں ہیں
دور کی
حافظ نذر احمد حفظه الله
لِّيَجْعَلَ
مَا يُلْقِي
الشَّيْطٰنُ
فِتْنَةً
لِّلَّذِيْنَ
فِيْ قُلُوْبِهِمْ
مَّرَضٌ
وَّ
الْقَاسِيَةِ
قُلُوْبُهُمْ
وَاِنَّ
الظّٰلِمِيْنَ
لَفِيْ شِقَاقٍ
بَعِيْدٍ
تاکہ بنائے وہ
جو ڈالا
شیطان
ایک آزمائش
ان لوگوں کے لیے
ان کے دلوں میں
مرض
اور
سخت
ان کے دل
اور بیشک
ظالم (جمع)
البتہ سخت ضد میں
دور۔ بڑی
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔