🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ بِالْحَقِّ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر
لفظ
آیت
61
بِالْحَقِّ
لَقَدْ جِئْنَاكُمْ بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ [43-الزخرف:78]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت رکھنے والے تھے؟

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے ہیں لیکن تم اکثر حق سے ناخوش ہوتے رہے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بلاشبہ ہم تو تمھارے پاس حق لے کر آئے ہیں اور لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔
62
بِالْحَقِّ
وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [43-الزخرف:86]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں جو علم ویقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں (وہ سفارش کرسکتے ہیں)

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور وہ لوگ جنھیں یہ اس کے سوا پکارتے ہیں، وہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے حق کے ساتھ شہادت دی اور وہ جانتے ہیں۔
63
بِالْحَقِّ
مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ [44-الدخان:39]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ان کو ہم نے تدبیر سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
ہم نے ان دونوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
64
بِالْحَقِّ
تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ [45-الجاثية:6]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان ﻻئیں گے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ تو یہ خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟
65
بِالْحَقِّ
وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ [45-الجاثية:22]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور آسمانوں اور زمین کو اللہ نے بہت ہی عدل کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کام کا پورا بدلہ دیا جائے اور ان پر ﻇلم نہ کیا جائے گا

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا ہے اور تاکہ ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
66
بِالْحَقِّ
هَذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [45-الجاثية:29]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ ہے ہماری کتاب جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے، ہم تمہارے اعمال لکھواتے جاتے تھے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ ہماری کتاب تمہارے بارے میں سچ سچ بیان کردے گی۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم لکھواتے جاتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ ہماری کتاب ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے، بے شک ہم لکھواتے جاتے تھے ، جو تم عمل کرتے تھے۔
67
بِالْحَقِّ
مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنْذِرُوا مُعْرِضُونَ [46-الأحقاف:3]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی تمام چیزوں کو بہترین تدبیر کے ساتھ ہی ایک مدت معین کے لئے پیدا کیا ہے، اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منھ موڑ لیتے ہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں میں ہے مبنی برحکمت اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور کافروں کو جس چیز کی نصیحت کی جاتی ہے اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان ہے حق اور مقرر ہ میعاد ہی کے ساتھ پیداکیا ہے اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اس چیز سے جس سے وہ ڈرائے گئے، منہ پھیرنے والے ہیں۔
68
بِالْحَقِّ
وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَلَيْسَ هَذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَى وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ [46-الأحقاف:34]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
وه لوگ جنہوں نے کفر کیا جس دن جہنم کے سامنے ﻻئے جائیں گے (اور ان سے کہا جائے گا کہ) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہاں قسم ہے ہمارے رب کی (حق ہے) (اللہ) فرمائے گا، اب اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزه چکھو

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جس روز آگ کے سامنے کئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے؟ تو کہیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم (حق ہے) حکم ہوگا کہ تم جو (دنیا میں) انکار کیا کرتے تھے (اب) عذاب کے مزے چکھو

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جس دن وہ لوگ جنھوںنے کفر کیا، آگ پر پیش کیے جائیں گے، کیا یہ حق نہیں ہے؟ کہیں گے کیوں نہیں، ہمارے رب کی قسم! وہ کہے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔
69
بِالْحَقِّ
لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا [48-الفتح:27]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی کہ تم مسجد حرام میں ضرور بالضرور داخل ہو گے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے، ڈرتے نہیں ہو گے، تو اس نے جانا جو تم نے نہیں جانا تو اس نے اس سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔
70
بِالْحَقِّ
بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [50-ق:5]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا ہے جبکہ وه ان کے پاس پہنچ چکی پس وه ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بلکہ (عجیب بات یہ ہے کہ) جب ان کے پاس (دین) حق آ پہنچا تو انہوں نے اس کو جھوٹ سمجھا سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں (پڑ رہے) ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بلکہ انھوں نے سچ کو جھٹلادیا جب وہ ان کے پاس آیا۔ پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں ۔