🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ آلَ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر
لفظ
آیت
1
آلَ
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ [2-البقرة:50]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا چیر (پھاڑ) دیا اور تمہیں اس سے پار کردیا اور فرعونیوں کو تمہاری نظروں کے سامنے اس میں ڈبو دیا

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا تم کو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب ہم نے تمھاری و جہ سے سمندر کو پھاڑ دیا، پھر ہم نے تمھیں نجات دی اور ہم نے فرعون کی قوم کو غرق کر دیا اور تم دیکھ رہے تھے۔
2
آلَ
أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا [4-النساء:54]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے، پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دی ہے اور بڑی سلطنت بھی عطا فرمائی ہے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم ؑ کو کتاب اور دانائی عطا فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے، تو ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور ہم نے انھیں بہت بڑی سلطنت عطا فرمائی۔
3
آلَ
وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ [7-الأعراف:130]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں، تاکہ وه نصیحت قبول کریں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا ہم نے فرعون کی آل کو قحط سالیوں اور پھلوں کی کمی کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
4
آلَ
كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَكُلٌّ كَانُوا ظَالِمِينَ [8-الأنفال:54]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
مثل حالت فرعونیوں کے اور ان سے پہلے کے لوگوں کے کہ انہوں نے اپنے رب کی باتیں جھٹلائیں۔ پس ان کے گناہوں کے باعﺚ ہم نے انہیں برباد کیا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ یہ سارے ﻇالم تھے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا (ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا) انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ اور وہ سب ظالم تھے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
(ان کا حال) فرعون کی آل اور ان لوگوں کے حال کی طرح (ہوا) جو ان سے پہلے تھے، انھوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا اور ہم نے فرعون کی آل کو غرق کیا اور وہ سب ظالم تھے۔
5
آلَ
إِلَّا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ [15-الحجر:59]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو تو ضرور بچا لیں گے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
سوائے لوط کے گھر والوں کے کہ یقینا ہم ان سب کو ضرور بچا لینے والے ہیں۔
6
آلَ
فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ [15-الحجر:61]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جب بھیجے ہوئے فرشتے آل لوط کے پاس پہنچے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
پھر جب فرشتے لوط کے گھر گئے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
پھر جب لوط کے گھر والوں کے پاس بھیجے ہوئے آئے۔
7
آلَ
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِنْ قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ [27-النمل:56]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
قوم کا جواب بجز اس کہنے کے اور کچھ نہ تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے شہر بدر کر دو، یہ تو بڑے پاک باز بن رہے ہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اس کے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو اپنے شہر سے نکال دو۔ یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تو اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو، بلاشبہ یہ ایسے لوگ ہیں جو بہت پاک باز بنتے ہیں۔
8
آلَ
يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ [34-سبأ:13]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔
9
آلَ
النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ [40-غافر:46]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام ﻻئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (فرمان ہوگا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یعنی) آتش (جہنم) کہ صبح وشام اس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ اور جس روز قیامت برپا ہوگی (حکم ہوگا کہ) فرعون والوں کو نہایت سخت عذاب میں داخل کرو

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
جو آگ ہے، وہ اس پر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی، آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔
10
آلَ
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ [54-القمر:34]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو ہم نے ان پر کنکر بھری ہوا چلائی مگر لوط کے گھر والے کہ ہم نے ان کو پچھلی رات ہی سے بچا لیا

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ایک ہوا بھیجی، سوائے لوط کے گھر والوں کے، انھیں ہم نے صبح سے کچھ پہلے نجات دی۔