قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ
أَصْحَابِ
کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر |
لفظ |
آیت |
1 |
أَصْحَابِ |
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ [2-البقرة:119]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے واﻻ اور ڈرانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور جہنمیوں کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں ہوگی
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور تجھ سے جہنم والوں کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
|
2 |
أَصْحَابِ |
إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ [5-المائدة:29]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناه اور اپنے گناه اپنے سر پر رکھ لے اور دوزخیوں میں شامل ہوجائے، ﻇالموں کا یہی بدلہ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ لے کر لوٹے، پھر تو آگ والوں میں سے ہو جائے اور یہی ظالموں کی جزا ہے۔
|
3 |
أَصْحَابِ |
وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُهُمْ تِلْقَاءَ أَصْحَابِ النَّارِ قَالُوا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ [7-الأعراف:47]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو ان ﻇالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب ان کی نگاہیں آگ والوں کی طرف پھیری جائیں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ مت کر۔
|
4 |
أَصْحَابِ |
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ [35-فاطر:6]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یاد رکھو! شیطان تمہارا دشمن ہے، تم اسے دشمن جانو وه تو اپنے گروه کو صرف اس لئے ہی بلاتا ہے کہ وه سب جہنم واصل ہو جائیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو۔ وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ دوزخ والوں میں ہوں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک شیطان تمھارا دشمن ہے تو اسے دشمن ہی سمجھو ۔ وہ تو اپنے گروہ والوں کو صرف اس لیے بلاتا ہے کہ وہ بھڑکتی آگ والوں سے ہو جائیں۔
|
5 |
أَصْحَابِ |
وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَنْدَادًا لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِهِ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ [39-الزمر:8]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وه خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرمادیتا ہے تو وه اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا اسے (بالکل) بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے (اوروں کو بھی) اس کی راه سے بہکائے، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائده کچھ دن اور اٹھالو، (آخر) تو دوزخیوں میں ہونے واﻻ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس حال میں کہ اس کی طرف رجوع کرنے والا ہو تا ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنی طرف سے کو ئی نعمت عطا کرتا ہے تو وہ اس (مصیبت) کو بھول جاتا ہے، جس کی جانب وہ اس سے پہلے پکارا کرتا تھااور اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے، تاکہ اس کے راستے سے گمرا ہ کردے۔ کہہ دے اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے، یقینا تو آگ والوں میں سے ہے۔
|
6 |
أَصْحَابِ |
أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ [46-الأحقاف:16]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہی وه لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بداعمال سے درگزر کر لیتے ہیں، (یہ) جنتی لوگوں میں ہیں۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا تھا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہل جنت میں (ہوں گے) ۔ (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو ان سے کیا جاتا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہی وہ لوگ ہیں کہ ہم ان سے وہ سب سے اچھے عمل قبول کرتے ہیں جو انھوں نے کیے اور ان کی برائیوں سے در گزر کرتے ہیں، جنت والوں میں، سچے وعدے کے مطابق جو ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
|
7 |
أَصْحَابِ |
وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ [56-الواقعة:90]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور جو شحص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور اگر وہ دائیں ہاتھ والوں میں سے ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور لیکن اگر وہ دائیں ہاتھ والوں سے ہوا۔
|
8 |
أَصْحَابِ |
فَسَلَامٌ لَكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ [56-الواقعة:91]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
تو بھی سلامتی ہے تیرے لیے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو (کہا جائے گا کہ) تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تو (کہا جائے گا) تجھ پر سلام (کہ تو) دائیں ہاتھ والوں سے ہے۔
|
9 |
أَصْحَابِ |
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ كَمَا يَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ [60-الممتحنة:13]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اے مسلمانو! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ کا غضب نازل ہوچکا ہے جو آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں جیسے کہ مرده اہل قبر سے کافر ناامید ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
مومنو! ان لوگوں سے جن پر خدا غصے ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اُٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت (کے آنے) کی امید نہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو دوست مت بناؤ جن پر اللہ غصے ہو گیا، جو آخرت سے اسی طرح ناامید ہو چکے ہیں جس طرح وہ کافر ناامید ہو چکے ہیں جو قبروں والے ہیں۔
|
10 |
أَصْحَابِ |
وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ [67-الملك:10]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے یا عقل رکھتے ہوتے تو دوزخیوں میں (شریک) نہ ہوتے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو دوزخیوں میں نہ ہوتے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے ۔
|