🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ سُوءًا کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر
لفظ
آیت
1
سُوءًا
وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا [4-النساء:110]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ﻇلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جو بھی کوئی برا کام کرے، یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش مانگے وہ اللہ کوبے حد بخشنے والا، نہایت مہربان پائے گا۔
2
سُوءًا
لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا [4-النساء:123]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
حقیقت حال نہ تو تمہاری آرزو کے مطابق ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر موقوف ہے، جو برا کرے گا اس کی سزا پائے گا اور کسی کو نہ پائے گا جو اس کی حمایت ومدد، اللہ کے پاس کر سکے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو شخص برے عمل کرے گا اسے اسی (طرح) کا بدلا دیا جائے گا اور وہ خدا کے سوا نہ کسی کو حمایتی پائے گا اور نہ مددگار

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
نہ تمھاری آرزوئوں پر (موقوف ہے) اور نہ اہل کتاب کی آرزوئوں پر، جو بھی کوئی برائی کرے گا اسے اس کی جزا دی جائے گی اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست پائے گا اور نہ کوئی مدد گار۔
3
سُوءًا
وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ [6-الأنعام:54]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور یہ لوگ جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو (یوں) کہہ دیجیئے کہ تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کرلیا ہے کہ جو شخص تم میں سے برا کام کر بیٹھے جہالت سے پھر وه اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح رکھے تو اللہ (کی یہ شان ہے کہ وه) بڑی مغفرت کرنے واﻻ ہے بڑی رحمت واﻻ ہے

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) سلام علیکم کہا کرو خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو کہہ سلام ہے تم پر، تمھارے رب نے رحم کرنا اپنے آپ پر لازم کر لیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص جہالت سے کوئی برائی کرے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
4
سُوءًا
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِيصَهُ مِنْ دُبُرٍ وَأَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَى الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِكَ سُوءًا إِلَّا أَنْ يُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِيمٌ [12-يوسف:25]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے یوسف کا کرتا پیچھے کی طرف سے کھینچ کر پھاڑ ڈاﻻ اور دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا، تو کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا اراده کرے بس اس کی سزا یہی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا اور کوئی دردناک سزا دی جائے۔

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی اور دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس پایا، اس عورت نے کہا کیا جزا ہے اس کی جس نے تیری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے، یا دردناک سزا ہو۔
5
سُوءًا
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ [13-الرعد:11]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی سزا کا اراده کر لیتا ہے تو وه بدﻻ نہیں کرتا اور سوائے اس کے کوئی بھی ان کا کارساز نہیں

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بے شک اللہ نہیں بدلتا جو کسی قوم میں ہے، یہاں تک کہ وہ اسے بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کر لے تو اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مددگار نہیں۔
6
سُوءًا
قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُمْ مِنَ اللَّهِ إِنْ أَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا [33-الأحزاب:17]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
پوچھیئے! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روک سکے؟)، اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار

[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے تو (کون اس کو ہٹا سکتا ہے) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو نہ اپنا دوست پائیں گے اور نہ مددگار

[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کہہ دے وہ کون ہے جو تمھیں اللہ سے بچائے گا، اگر وہ تم سے کسی برائی کا ارادہ کرے، یا تم پر کسی مہربانی کا ارادہ کرے اور وہ اپنے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار۔