🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر القرآن الکریم
سورة الرحمٰن
یَطُوۡفُوۡنَ بَیۡنَہَا وَ بَیۡنَ حَمِیۡمٍ اٰنٍ ﴿ۚ۴۴﴾
وہ اس کے درمیان اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر کاٹتے رہیں گے۔[44]
تفسیر القرآن الکریم
(آیت 44) {يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ: اٰنٍ أَنٰي يَأْنِيْ إِنًي} (ض) سے اسم فاعل ہے، جیسا کہ { قَاضٍ} ہے، انتہائی گرم، کھولنے والا۔ سورۂ غاشیہ میں ہے: «تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ» ‏‏‏‏ [الغاشیۃ:۵] وہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔ { إِنًي} کھانے کا پک کر تیار ہونا، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ» [ الأحزاب: ۵۳ ] اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہوں۔ { يَطُوْفُوْنَ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۶۶ تا ۶۸)۔