🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الشعراء
وَ فَعَلۡتَ فَعۡلَتَکَ الَّتِیۡ فَعَلۡتَ وَ اَنۡتَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۹﴾
اور تو نے اپنا وہ کام کیا، جو تو نے کیا اور تو ناشکروں میں سے ہے۔[19]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
19۔ نیز تو نے وہ کام کیا جو کر کے چلا گیا اور تو تو ہے ہی ناشکرا [13]
[13] موسیٰؑ اور فرعون کا مکالمہ:۔

فرعون نے اللہ کا پیغام سننے کے بعد اس پیغام کا کچھ جواب دینے کے بجائے وہی کچھ کہنا شروع کر دیا جس کا موسیٰؑ کو پہلے سے خطرہ تھا۔ اس نے کہا کہ بچپن میں تمہاری پرورش ہم نے ہی کی تھی۔ تمہاری جوانی ہمارے درمیان گزری ہے۔ ہم تو تمہاری رگ رگ سے واقف ہیں۔ پھر تم ہمارے مجرم بھی ہو۔ اب تم نے یہ پیغمبری کا ڈھونگ رچا ڈالا ہے اور ہم پر دباؤ ڈالنے آ گئے ہو۔ تمہیں تو ہمارا ممنون احسان ہونا چاہئے تھا تم اٹھ کر رسالت کا دعویٰ کر کے اب ہمیں آنکھیں دکھانے لگے ہو تم جیسا بھی کوئی احسان فراموش شخص ہو سکتا ہے؟ ﴿أَنتَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾ کا ترجمہ بعضوں نے یوں کیا ہے کہ آج جن لوگوں کو تم کافر کہہ رہے ہو اس پیغمبری کے دعویٰ سے پہلے تو تم خود بھی انہیں جیسے کافر تھے۔ (نعوذ باللہ) فرعون کی اس گفتگو سے ضمناً یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ یہ فرعون وہ فرعون نہیں تھا جس نے حضرت موسیٰؑ کی تربیت کی تھی۔ بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا ورنہ ہم نے پرورش کرنے کی بجائے میں نے پرورش کی تھی کہتا۔ اور یہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔