🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة الصافات
اِذۡ اَبَقَ اِلَی الۡفُلۡکِ الۡمَشۡحُوۡنِ ﴿۱۴۰﴾ۙ
جب وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گیا۔[140]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
140۔ جب وہ ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ [80] نکلے
[80] سیدنا یونس کی بلا اذن الٰہی ہجرت:۔

﴿اَبَقَ﴾ کا لفظ بالخصوص ایک غلام کا اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ کھڑا ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سیدنا یونسؑ بھی چونکہ اللہ کے حکم ہجرت کے بغیر اپنی قوم کے لوگوں سے بھاگ آئے تھے اس لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا اس میں لطیف اشارہ یہ ہے کہ ہر شخص حتیٰ کہ ہر نبی بھی اپنے پروردگار کا ہمہ وقتی غلام اور بندہ ہوتا ہے۔