🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
سورة النازعات
قَالُوۡا تِلۡکَ اِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ ﴿ۘ۱۲﴾
انھوں نے کہا یہ تو اس وقت خسارے والا لوٹنا ہو گا۔[12]
تفسیر عبدالرحمٰن کیلانی
12۔ کہتے ہیں: یہ واپسی تو [9] بڑے گھاٹے کی بات ہو گی
[9] قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے وہ اس دن بڑے خسارے میں رہیں گے۔ کافر ایسی ہی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے اگر واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کیا گیا تو پھر تو ہم مارے گئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ہمیں دوبارہ زندہ کر کے اس دنیا میں بھیجا گیا تو ہماری زمین اور مکانوں کے تو کئی وارث بن چکے ہوں گے۔ ایک ایک جائداد کے کئی مدعی ہوں گے اور جھگڑے ہی پڑے رہیں گے اس لحاظ سے تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہو گا۔