مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. بَابٌ فِي الْعَمَلِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ .
کتاب و سنت پر عمل کرنا
حدیث نمبر: 778
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ، فَقَالَ:" أَنَا النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ - قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَجَوَامِعَهُ، وَعَلِمْتُ خَزَنَةَ النَّارِ وَحَمَلَةَ الْعَرْشِ، وَتُجُوِّزُ بِي، وَعُوفِيتُ وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي، فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، تو یوں محسوس ہو رہا تھا، جیسے آپ الوداع کہنے لگے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں امّی نبی ہوں“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی (اور پھر فرمایا:)“”“”میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، مجھے واضح اور جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں، مجھے جہنم کے نگران فرشتوں اور عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کا علم ہے، اور مجھے سہولت دی گئی، مجھے عافیت عطا کی گئی اور میری اُمت کو عافیت عطا کی گئی، جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں، تم لوگ اطاعت و فرمانبرداری کرو اور جب میں رخصت ہو جاؤں گا، تو تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی کرنا لازم ہے، تم اس کے حلال کو حلال قرار دینا اور اس کے حرام کو حرام قرار دینا۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 778]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى زوائد المستد 183»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 779
وَعَنِ ابْنِ شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالُوا: بَلَى. قَالَ:" إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ طَرْفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرْفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا، وَلَنْ تَهْلِكُوا بَعْدَهُ أَبَدًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابن شریح خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! (یعنی ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ قرآن، اس کی ایک طرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک طرف تمہارے ہاتھوں میں ہے، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو! اس کے بعد تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے اور کبھی بھی ہلاکت کا شکار نہیں ہو گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 779]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 779]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 188/22»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 780
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجُحْفَةِ، فَقَالَ:" أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَّ الْقُرْآنَ جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؟" قُلْنَا: بَلَى. قَالَ:" فَأَبْشِرُوا ; فَإِنَّ الْقُرْآنَ طَرْفُهُ بِيَدِ اللَّهِ وَطَرْفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَهْلِكُوا وَلَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جحفہ کے مقام پر موجود تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی معبود ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے، بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، بے شک قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے، ہم نے عرض کی: جی ہاں! (یعنی ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تم یہ خوشخبری حاصل کرو! اس قرآن کی ایک طرف، اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک طرف تمہارے ہاتھ میں ہے، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو! اس کے بعد تم کبھی ہلاکت کا شکار نہیں ہو گے اور کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 780]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1539 اخرجه الإمام الطبراني فى معجمه الصغير 98/2 أورده المؤلف فى كشف الاستار 120»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 781
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنِ اتَّبَعَ كِتَابَ اللَّهِ هَدَاهُ اللَّهُ مِنَ الضَّلَالَةِ وَوَقَاهُ سُوءَ الْحِسَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ; وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ: (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى) ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص اللہ کی کتاب کی پیروی کرے گا، اللہ تعالیٰ اُسے گمراہی سے (بچا کر) ہدایت نصیب کرے گا اور قیامت کے دن اسے برے حساب سے محفوظ رکھے گا، اس کی (دلیل) یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اور جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا، تو وہ گمراہ نہیں ہو گا اور بدنصیب نہیں ہو گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 781]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12437 اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5466»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 782
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" اعْمَلُوا بِالْقُرْآنِ، وَأَحِلُّو حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، وَاقْتَدُوا بِهِ وَلَا تَكْفُرُوا بِشَيْءٍ مِنْهُ، وَمَا تَشَابَهَ عَلَيْكُمْ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي ; كَيْمَا يُخْبِرُونَكُمْ، وَآمِنُوا بِالتَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ، لِيَشْفِيَكُمُ الْقُرْآنُ وَمَا فِيهِ مِنَ الْبَيَانِ ; فَإِنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، وَمَاحِلٌ مُصَدَّقٌ، وَلِكُلِّ آيَةٍ مِنْهُ نُورٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، أَمَا إِنِّي أُعْطِيتُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ مِنَ الذِّكْرِ، وَأُعْطِيتُ طه وَالطَّوْرَ مِنْ أَلْوَاحِ مُوسَى، وَأُعْطِيتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، وَأُعْطِيتُ الْمُفَصَّلَ نَافِلَةً".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ أَيْضًا:" فَمَا اشْتَبَهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ فَاسْأَلُوا عَنْهُ أَهْلَ الْعِلْمِ يُخْبِرُوكُمْ".
وَلَهُ إِسْنَادَانِ: فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ، وَفِي الْآخَرِ عِمْرَانَ الْقَطَّانَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَضَعَّفُهُ الْبَاقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ أَيْضًا:" فَمَا اشْتَبَهَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ فَاسْأَلُوا عَنْهُ أَهْلَ الْعِلْمِ يُخْبِرُوكُمْ".
وَلَهُ إِسْنَادَانِ: فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ، وَفِي الْآخَرِ عِمْرَانَ الْقَطَّانَ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَضَعَّفُهُ الْبَاقُونَ.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قرآن پر عمل کرو! اس کے حلال کو حلال قرار دو، اس کے حرام کو حرام قرار دو، اس کی پیروی کرو، اس کی کسی چیز کا انکار نہ کرو، جو چیز تمہارے سامنے مشتبہ ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف اور میرے بعد اولی الامر کی طرف لوٹا دو، تاکہ وہ تمہیں اس حوالے سے خبر دیدیں، تم لوگ تورات، انجیل، زبور اور انبیاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے جو کچھ دیا گیا، اُس پر ایمان رکھو! قرآن اور اُس میں جو بیان موجود ہے، وہ تمہیں شفا دے، کیونکہ یہ (قرآن) شفاعت کرنے والا ہے، جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور بحث کرنے والا ہے جس کی تصدیق کی جائے گی، اس کی ہر ایک آیت میں قیامت تک کے لیے نور موجود ہے ”ذکر“ میں سے سورہ بقرہ مجھے عطا کی گئی، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی ”الواح“ میں سے سورہ طہٰ اور سورہ طور مجھے عطا کی گئی ہیں، سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری آیات، عرش کے نیچے موجود خزانے سے مجھے عطا کی گئی ہیں، اور مجھے اضافی طور پر ”مفصل“ عطا کی گئی۔“ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اُن کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اس کے حوالے سے جو شبہ تمہیں لاحق ہو، اُس کے بارے میں تم اہل علم سے سوال کرو، وہ تمہیں بتا دیں گے۔“
اس روایت کی دو اسناد ہیں، جن میں سے ایک میں عبداللہ بن ابوحمید نامی راوی ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے اور دوسری میں عمران القطان نامی راوی ہے، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے، جبکہ باقی حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 782]
اس روایت کی دو اسناد ہیں، جن میں سے ایک میں عبداللہ بن ابوحمید نامی راوی ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے اور دوسری میں عمران القطان نامی راوی ہے، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب الثقات میں کیا ہے، جبکہ باقی حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 782]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 783
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ [ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ] قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ [ بِالْهَاجِرَةِ ] مَرْعُوبٌ فَقَالَ:" أَطِيعُونِي مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، وَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے: ”ایک مرتبہ دن چڑھے کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ پریشان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تک میں تمھارے درمیان موجود ہوں، تم میری اطاعت کرو اور تم پر اللہ کی کتاب (کی پیروی کرنا) لازم ہے، تم اُس کے حلال کو حلال قرار دو اور اُس کے حرام کو حرام قرار دو۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 783]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 38/18»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 784
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنِّي تَرَكْتُ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ، وَأَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَى الْحَوْضِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں تمہارے درمیان دو چیزیں نائب کے طور پر چھوڑ کے جا رہا ہوں، اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض (کوثر) پر آ جائیں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 784]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 784]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 4921»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 785
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ مَشَى إِلَى سُلْطَانِ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لِيُذِلَّهُ أَذَلَّ اللَّهُ رَقَبَتَهُ مَعَ مَا يُدَّخَرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، زَادَ مُسَدِّدٌ:" وَسُلْطَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ: كِتَابُ اللَّهِ - تَعَالَى - وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَزَعَمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ رَجُلُ صِدْقٍ. قُلْتُ: وَمَنْ أَبُو مِحْصِنٍ مَعَ هَؤُلَاءِ؟!
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَزَعَمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ رَجُلُ صِدْقٍ. قُلْتُ: وَمَنْ أَبُو مِحْصِنٍ مَعَ هَؤُلَاءِ؟!
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص زمین میں اللہ کے مقرر کردہ سلطان کی طرف چل کر جاتا ہے، تاکہ اُسے ذلت کا شکار کرے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو ذلت کا شکار کر دیتا ہے اور جو کچھ اُس کے لیے آخرت میں (عذاب) تیار کیا گیا ہے، وہ اس کے علاوہ ہے۔“ مسدد نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں: ”زمین میں اللہ تعالیٰ کے سلطان سے مراد، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ابوعلی رحبی ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ، امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: ایک صاحب جن کا نام ابومحصن ہے، ان کا یہ کہنا ہے: وہ (یعنی حسین بن قیس ابوعلی رحبی) سچے آدمی ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان حضرات (یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد وغیرہ) کے مقابلے میں ابومحصن نامی شخص کون ہے؟ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 785]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ابوعلی رحبی ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ، امام أحمد اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: ایک صاحب جن کا نام ابومحصن ہے، ان کا یہ کہنا ہے: وہ (یعنی حسین بن قیس ابوعلی رحبی) سچے آدمی ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ان حضرات (یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اور امام أحمد وغیرہ) کے مقابلے میں ابومحصن نامی شخص کون ہے؟ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 785]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 11534»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 786
وَعَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَلَا إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامَ دَائِرَةٌ". قَالَ: كَيْفَ نَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: اعْرِضُوا حَدِيثِي عَلَى الْكِتَابِ، فَمَا وَافَقَهُ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا قُلْتُهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”خبردار! اسلام کی چکی گھومتی رہے گی، راوی نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ سے منسوب حدیث کو کتاب اللہ پر پیش کرو، جو (حدیث) اس (کتاب اللہ) کے مطابق ہو گی، وہ میری طرف سے ہو گی اور میں نے ہی وہ بات کہی ہو گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک اور منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 786]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ ہے اور وہ متروک اور منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 786]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 787
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" سُئِلَتِ الْيَهُودُ عَنْ مُوسَى فَأَكْثَرُوا فِيهِ وَزَادُوا وَنَقَصُوا حَتَّى كَفَرُوا، وَسُئِلَتِ النَّصَارَى عَنْ عِيسَى فَأَكْثَرُوا فِيهِ وَزَادُوا وَنَقَصُوا حَتَّى كَفَرُوا بِهِ، وَإِنَّهُ سَتَفْشُو عَنِّي أَحَادِيثُ، فَمَا أَتَاكُمْ مِنْ حَدِيثِي فَاقْرَءُوا كِتَابَ اللَّهِ فَاعْتَبِرُوهُ، فَمَا وَافَقَ كِتَابَ اللَّهِ فَأَنَا قُلْتُهُ، وَمَا لَمْ يُوَافِقْ كِتَابَ اللَّهِ فَلَمْ أَقُلْهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو حَاضِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو حَاضِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”یہودیوں سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے اُن کے بارے میں کثرت کی اور کمی و بیشی کی، یہاں تک کہ اُنہوں (یعنی یہودیوں) نے کفر کیا، عیسائیوں سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے ان کے بارے میں کثرت کی اور کمی و بیشی کی، یہاں تک کہ انہوں (یعنی عیسائیوں) نے کفر کر دیا، عنقریب میرے حوالے سے احادیث پھیل جائیں گی، تمہارے پاس میری جو بھی حدیث آئے، تو تم اللہ کی کتاب کی تلاوت کرو! اور اُس سے موازنہ کرو، جو حدیث اللہ کی کتاب کے مطابق ہو گی، وہ میں نے کہی ہو گی، اور جو حدیث اللہ کی کتاب کے مطابق نہیں ہو گی، وہ میں نے نہیں کہی ہو گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوحاضر عبدالملک بن عبدربہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 787]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوحاضر عبدالملک بن عبدربہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 13224»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف