🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

43. بَابُ الصَّدَاقِ .
مہر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7486
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ. قَالَ:" فَهَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" عَلَى كَمْ؟" قَالَ: عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ؟ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ".
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں نے انصار سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کر لی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اسے دیکھا ہے؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کتنے مہر کے عوض میں کی ہے؟ اس نے جواب دیا: چار اوقیہ کے عوض میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار اوقیہ کے عوض میں؟ یہ تو یوں ہے، جیسے تم اس پہاڑ سے چاندی چھیل کر اتارتے ہو۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے۔
یہ روایت امام بزار نے أحمد بن ابان کے حوالے سے نقل کی ہے، میں اُس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7486]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1425)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7487
وَعَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَعِينُهُ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ قَالَ:" كَمْ أَمْهَرْتَهَا؟" قَالَ: مِائَتَيْ دِرْهَمٍ. قَالَ:" لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تاکہ عورت کو مہر ادا کرنے کے سلسلے میں آپ سے مدد حاصل کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم نے اسے کتنا مہر دینا ہے؟ انہوں نے عرض کی: دو سو درہم، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بطحان بھر کر بھی دو، تو تم زیادہ نہیں دو گے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7487]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (352/22) اخرجه احمد فى المسند (448/3)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7488
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ عَلَى مَتَاعٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ایسے سامان (کے مہر ہونے) کے عوض میں، شادی کی تھی، جس کی قیمت دس درہم تھی۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے، امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7488]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1426) اخرجه أبو يعلى فى المسند (3385) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (247/23)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7489
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ عَلَى مَتَاعِ بَيْتٍ قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْأَزْهَرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ گھر کے سامان (کے مہر ہونے) کی شرط پر شادی کی تھی، جس کی قیمت دس درہم تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ازہر ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7489]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7490
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَتَاعٍ يَسْوَى أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایسے سامان کے عوض میں شادی کی تھی، جس کی قیمت چالیس درہم بنتی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7490]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7491
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ صَحْفَةٌ فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ النِّسَاءَ وَيَقُولُ:" لَكِ كَذَا وَكَذَا وَجَفْنَةُ سَعْدٍ تَدُورُ مَعِي كُلَمَّا دُرْتُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ روزانہ رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف (کھانے کا) ایک پیالہ بھجوایا کرتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی خاتون کو شادی کا پیغام دیتے تھے، تو یہ فرماتے تھے: تمہیں یہ، یہ اور یہ (چیزیں) ملیں گی، اور سعد کا پیالہ بھی ملے گا، جو میرے ساتھ جاتا ہے، جہاں بھی میں جاتا ہوں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن بن عباس بن سہل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7491]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5701)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7492
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ حَبِيبَةَ وَأَصْدَقَ مِنْ مَالِهِ مِائَتَيْ دِينَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ رَوَّادِ بْنِ الْجَرَّاحِ، وَرَوَّادٌ فِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَإِسْمَاعِيلُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ هَذَا ثِقَاتٌ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نجاشی نے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کروائی تھی، اور اپنے مال میں سے دو سو دینار (مہر کے طور پر) دیے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے ایک راوی اسماعیل بن علی انصاری ہے، اس نے رواد بن جراح سے
یہ روایت نقل کی ہے، رواد میں ضعف پایا جاتا ہے، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اسماعیل نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں، اس روایت کی دوسری سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7492]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1671)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7493
وَعَنْ صَفِيَّةَ قَالَتْ: أَعْتَقَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَعَلَ عِتْقِي صَدَاقِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَالَ فِي الْأَوْسَطِ: لَا يُرْوَى عَنْ صَفِيَّةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آزاد کر دیا اور میری آزادی کو میرا مہر قرار دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں، انہوں نے معجم اوسط میں یہ بات نقل کی ہے: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے
یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7493]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (74,73/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7494
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ مِلْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَعَتَقَ كُلَّ أَسِيرٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
امام شعبی بیان کرتے ہیں: سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر دیا، اور ان کی آزادی کو اُن کا مہر قرار دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق کے ہر قیدی کو آزاد کر دیا (یا بنو مصطلق کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا)۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7494]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (59/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7495
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَقُلْتُ: مَا لِي مِنْ شَيْءٍ، فَكَيْفَ؟!، ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ؟" قُلْتُ: لَا. قَالَ:" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟" قَالَ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: فَأَعْطِهَا، قَالَ: فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دینا چاہا۔ تو میں نے سوچا کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں، پھر میں کیا کروں؟ پھر مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی یاد آئی، تو میں نے آپ کو شادی کا پیغام دے دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟ جو میں نے تمہیں فلاں موقع پر دی تھی، انہوں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہ اسے دے دو! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو (زرہ) میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7495]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (603)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں