مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ الصَّدَاقِ .
مہر کا بیان
حدیث نمبر: 7496
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: زَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ عَلَى بَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ حُطَمِيَّةٍ، وَكَانَ سَلَّحَنِيهَا. وَقَالَ:" ابْعَثْ بِهَا إِلَيْهَا تُحَلِّلُهَا بِهَا". فَبَعَثْتُ بِهَا إِلَيْهَا، وَاللَّهِ مَا ثَمَنُهَا كَذَا وَكَذَا وَأَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَمُجَاهِدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى. وَمُجَاهِدٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کر دی، جو لوہے کی بنی ہوئی حطمی زرہ کے عوض میں تھی، وہ نبی اکرم نے ہی مجھے دی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ اس کو بھجوا دو! تاکہ وہ اس کے عوض میں زیور بنا لے تو وہ میں نے اُن کی طرف بھجوا دی، اللہ کی قسم! اس کی قیمت اتنی، اتنی اور چار سو درہم تھی۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے مجاہد نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7496]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے مجاہد نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7496]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (503)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7497
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجْتُ فَاطِمَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبِيعُ فَرَسِي أَوْ دِرْعِي؟ قَالَ:" بِعْ دِرْعَكَ" فَبِعْتُهَا بِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ وُقِيَّةً فَكَانَ ذَلِكَ مَهْرَ فَاطِمَةَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ الْعَبَّاسِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ الْعَبَّاسِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں فاطمہ کے ساتھ شادی کرنے لگا، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنی زرہ فروخت کر دوں، یا اپنا گھوڑا فروخت کر دوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی زرہ فروخت کر دو! تو میں نے وہ بارہ اوقیہ کے عوض میں فروخت کر دی، تو یہ فاطمہ کا مہر بنا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عباس بن جعفر بن زید بن طلق کے حوالے سے، اُن کے والد کے حوالے سے، ان کے دادا سے نقل کی ہے، میں ان حضرات سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7497]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عباس بن جعفر بن زید بن طلق کے حوالے سے، اُن کے والد کے حوالے سے، ان کے دادا سے نقل کی ہے، میں ان حضرات سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7497]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (470)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7498
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ زَوَّجَ عَلِيًّا فَاطِمَةَ قَالَ:" يَا عَلِيُّ لَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تُقَدِّمَ لَهُمْ شَيْئًا". فَقَالَ: مَا لِي شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَعْطِهَا دِرْعَكَ الْحُطَمِيَّةَ". قَالَ ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ: فَقُوِّمَتِ الدِّرْعُ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زُنْبُورٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زُنْبُورٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کروائی، تو آپ نے فرمایا: اے علی! تم اپنی بیوی کے پاس اُس وقت تک نہ جانا، جب تک اسے پہلے کوئی چیز نہیں دیتے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی حطمی زرہ اُسے دے دینا۔ ابن ابورواد بیان کرتے ہیں: اس زرہ کی قیمت چار سو اسی درہم طے ہوئی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زنبور ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7498]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زنبور ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7498]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7499
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيًّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوہے کی زرہ کے عوض میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7499]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7499]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1428) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11636)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7500
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ بِفَاطِمَةَ قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروا لی تھی، اس سے پہلے کہ وہ انہیں کوئی چیز دیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7500]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7500]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (4908)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7501
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ حُرَيْثٍ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَقَالَ: لَا أُزَوِّجُكَ إِلَّا عَلَى حُكْمِي. قَالَ: لَكَ حُكْمُكَ. قَالَ: لَسْتُ بِأَخْيَرَ مِنْ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَزَوَّجَهُ عَلَى الْفَرِيضَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
مغیرہ بن شبل بیان کرتے ہیں: عمر بن حریث نے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا، تو انہوں نے کہا: میں تمہاری شادی صرف اپنے فیصلے کی بنیاد پر کروں گا، تو انہوں نے کہا: آپ کو فیصلے کا اختیار ہے، تو سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں سے زیادہ بہتر نہیں ہوں، تو انہوں نے اُن صاحب کی شادی ”فریضہ“ کے عوض میں کروا دی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7501]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7501]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (102/17)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7502
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْبَرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا إِكْثَارُكُمْ فِي صَدَاقِ النِّسَاءِ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، وَإِنَّمَا الصَّدُقَاتُ فِيمَا بَيْنَهُمْ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَا دُونَ ذَلِكَ. فَلَوْ كَانَ الْإِكْثَارُ فِي ذَلِكَ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ أَوْ مَكْرُمَةً لَمْ تَسْبِقُوهُمْ إِلَيْهَا فَلَا أَعْرِفَنَّ مَا زَادَ رَجُلٌ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ. قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ فَاعْتَرَضَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِمْ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: فَأَنَّى ذَلِكَ؟ قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: (وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا) فَقَالَ: اللَّهُمَّ غُفْرًا، كُلُّ النَّاسِ أَفْقَهُ مِنْ عُمَرَ.
قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَرَكِبَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ مَالِهِ مَا أَحَبَّ - قَالَ أَبُو يَعْلَى: قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ - فَمَنْ طَابَتْ نَفْسُهُ فَلْيَفْعَلْ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَرَكِبَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزِيدُوا النِّسَاءَ فِي صَدُقَاتِهِنَّ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُعْطِيَ مِنْ مَالِهِ مَا أَحَبَّ - قَالَ أَبُو يَعْلَى: قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ - فَمَنْ طَابَتْ نَفْسُهُ فَلْيَفْعَلْ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
مسروق بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھے، پھر انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم لوگوں نے عورتوں کے مہر کتنے زیادہ کر دیے ہیں؟ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کا معاملہ بھی تھا، اُن حضرات کے مہر چار سو درہم یا اس سے کم ہوا کرتے تھے، اگر مہر کا زیادہ ہونا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقویٰ کی نشانی ہوتی، یا عزت افزائی کی نشانی ہوتی، تو تم ان حضرات سے سبقت نہ لے جاتے، اس لئے اب میں کسی ایسے شخص کو نہ پاؤں، جس نے چار سو سے زیادہ مہر دیا ہو، راوی کہتے ہیں: پھر وہ منبر سے نیچے اتر گئے، قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ان کے سامنے آئیں اور بولیں: اے امیرالمؤمنین! آپ نے لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا ہے، کہ وہ چار سو درہم سے زیادہ مہر دیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! اس خاتون نے کہا: کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی ہے، جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نازل کی ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کون سی بات؟ اس نے کہا: کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے: ”اگر تم اُن میں سے کسی ایک کو ڈھیر دے دو، تو اس میں سے کچھ بھی نہ لو، کیا تم بہتان اور واضح گناہ کے طور پر اُسے لو گے“۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے، ہر شخص عمر سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے دوبارہ منبر پر چڑھے اور بولے: میں نے تمہیں اس بات سے منع کیا تھا کہ عورتوں کو چار سو درہم سے زیادہ مہر نہیں دینا ہے، اب تم میں سے جو شخص جتنا پسند کرے، اتنا مہر دیدے۔ ابویعلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے: روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: آدمی کو جس سے تسلی ہو، وہ ویسا ہی کر لے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7502]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7502]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7503
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: تَزَوَّجَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ امْرَأَةً قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِمِائَةِ جَارِيَةٍ مَعَ كُلِّ جَارِيَةٍ أَلْفُ دِرْهَمٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی، راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اس خاتون کی طرف ایک سو کنیزیں بھجوائیں، جن میں سے ہر ایک کنیز کے پاس ایک ہزار درہم تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7503]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7503]
تخریج الحدیث: «الطبراني فى المعجم الكبير (2564)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7504
وَعَنْ عَائِشَةَ وَمَكْحُولٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَّةٍ فَهُوَ لَهَا، وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ، وَأَحَقُّ مَا أَكْرَمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور مکحول روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورت کی شرمگاہ کو جس مہر، یا جس وعدے کے عوض میں حلال قرار دیا گیا ہو، وہ چیز اس عورت کی ملکیت ہو گی، اور جس چیز کے ذریعے عورت کے باپ، یا بھائی کی عزت افزائی کی گئی ہو، یا اس کے ولی کی عزت افزائی کی گئی ہو، جو نکاح کا عقد ہو جانے کے بعد ہو، تو وہ چیز اس شخص کی ملکیت ہو گی، اور آدمی اس چیز کا سب سے زیادہ حق دار ہوتا ہے، جس کے ذریعے اس شخص کی، اُس کی بیٹی یا بہن کے حوالے سے عزت افزائی کی گئی ہو، (یعنی داماد کی طرف سے، جو چیز اُسے تحفے کے طور پر دی گئی ہو)“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7504]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7504]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (122/6)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع