🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15122
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يُقْتَلُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ مِنْ مُهَاجَرِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسین بن علی کو میری ہجرت کے ساٹھ سال بعد قتل کر دیا جائے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15122]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15123
قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يُقْتَلُ الْحُسَيْنُ حِينَ يَعْلُوهُ الْقَتِيرُ".
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: الْقَتِيرُ: الشَّيْبُ.
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حسین کو اس وقت قتل کر دیا جائے گا جب اس کے بال سفید ہونے لگیں گے۔ طبرانی کہتے ہیں: لفظ قتیر سے مراد سفید بال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15123]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2808)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15124
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ، [ قَتْلًا ] وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا، قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حسین کو قتل کر دیا جائے گا، میں اس مٹی سے واقف ہوں جہاں اسے قتل کر دیا جائے گا، وہ نہرین کے قریب ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15124]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2824)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15125
وَعَنْ شَيْبَانَ بْنِ مُخَرَّمٍ - وَكَانَ عُثْمَانِيًّا - قَالَ: إِنِّي لَمَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِذْ أَتَى كَرْبَلَاءَ، فَقَالَ: يُقْتَلُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ شَهِيدٌ لَيْسَ مِثْلُهُ شُهَدَاءُ إِلَّا شُهَدَاءَ بَدْرٍ، فَقُلْتُ: بَعْضُ كِذْبَاتِهِ، وَثَمَّ رِجْلُ حِمَارٍ مَيِّتٍ، فَقُلْتُ لِغُلَامِي: خُذْ رِجْلَ هَذَا الْحِمَارِ، فَأَوْتِدْهَا فِي مَقْعَدِهِ، وَغَيِّبْهَا، فَضَرَبَ الظَّهْرَ ضَرْبَةً، فَلَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ انْطَلَقْتُ وَمَعِي أَصْحَابِي، فَإِذَا جُثَّةُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى رِجْلِ ذَلِكَ الْحِمَارِ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ رُبَضَةٌ حَوْلَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
شیبان بن مخرم، جو عثمانی تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ کربلا آئے تو انہوں نے فرمایا: اس مقام پر ایک شخص شہید کیا جائے گا، اس طرح کا شہید اور کوئی نہیں ہو گا البتہ شہداء بدر کا معاملہ مختلف ہے، میں نے سوچا شاید یہ کوئی غلط بیانی ہے، وہاں ایک مردہ گدھے کی ٹانگ پڑی ہوئی تھی، میں نے اپنے غلام کو کہا: تم اس گدھے کی ٹانگ کو لو اور اسے اس کے مقعد میں گاڑ دو اور اس میں چھپا دو اور پھر اس کی پشت پر ضرب لگانا، راوی کہتے ہیں: جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا، تو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا رہا تھا، وہاں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی لاش اس گدھے کی ٹانگ کے پاس پڑی ہوئی تھی اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں ارگرد پڑی ہوئی تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15125]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2826)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15126
وَعَنْ أَبِي هَرْثَمَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِنَهْرِ كَرْبَلَاءَ، فَمَرَّ بِشَجَرَةٍ تَحْتَهَا بَعْرُ غِزْلَانٍ، فَأَخَذَ مِنْهُ قَبْضَةً فَشَمَّهَا، ثُمَّ قَالَ: يُحْشَرُ مِنْ هَذَا الظَّهْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا، يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
ابوہرثمہ بیان کرتے ہیں: میں کربلا کی نہر کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرن کی مینگنیاں پڑی ہوئی تھیں انہوں نے اس مٹی میں سے مٹھی بھر مٹی لے کر اسے سونگھا اور پھر فرمایا: یہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو حشر کے دن اٹھایا جائے گا جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15126]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2825)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15127
وَعَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ قَالَ: صَحِبْتُ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى أَتَى الْكُوفَةَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ بِذُرِّيَّةِ نَبِيِّكُمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ؟ قَالُوا: إِذًا نُبْلِي اللَّهَ فِيهِمْ بَلَاءً حَسَنًا، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَيَنْزِلَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ وَلَتَخْرُجُنَّ إِلَيْهِمْ فَلْتَقْتُلُنَّهُمْ، ثُمَّ أَقْبَلُ يَقُولُ:
هُمْ أَوْرَدُوهُ بِالْغُرُورِ وَعَرَّدُوا أَحَبُّوا نَجَاهُ لَا نَجَاةَ وَلَا عُذْرَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ وَهْبٍ مُتَأَخِّرٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
ابوہبیرہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ کوفہ آئے وہ منبر پر چڑھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا: اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہارے نبی کی اولاد تمہارے درمیان آئے گی؟ لوگوں نے کہا: ایسی صورت میں ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ تمہارے درمیان آئے گا، تو تم لوگ نکل کر ان کی طرف جاؤ گے، اور انہیں قتل کر دو گے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ شعر پڑھنا شروع کیا: وہ اس کو دھوکے کے مقام پر لے آئے اور وہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے تو انہوں نے یہ خواہش کی کہ اس کو نجات دلوا دیں، لیکن نجات یا معذرت کی کوئی صورت نہیں رہی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن وہب ہے، جو بعد کے زمانے کا ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15127]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2823)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15128
وَعَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجِيَّةَ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ خَاصَّةِ نَفْسِي وَأَهْلِ بَيْتِي؟ قُلْنَا: بَلَى. قَالَ: أَمَّا حَسَنٌ، فَصَاحِبُ جَفْنَةٍ وَخِوَانٍ، وَفَتًى مِنَ الْفِتْيَانِ، وَلَوْ قَدِ الْتَقَتْ حَلْقَتَا الْبِطَانِ لَمْ يُغْنِ عَنْكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةُ عُصْفُورٍ. وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، فَصَاحِبُ لَهْوٍ، وَظِلٍّ، وَبَاطِلٍ، وَلَا يَغُرَنَّكُمُ ابْنَا عَبَّاسٍ. وَأَمَّا أَنَا وَحُسَيْنٌ، فَأَنَا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنَّا، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدَالَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ بِصَلَاحِهِمْ فِي أَرْضِهِمْ، وَفَسَادِكُمْ فِي أَرْضِكُمْ، وَبِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ وَخِيَانَتِكُمْ، وَبِطَوَاعِيَّتِهِمْ إِمَامَهُمْ، وَمَعْصِيَتِكُمْ لَهُ، وَاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ، وَتَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ، تَطُولُ دَوْلَتُهُمْ حَتَّى لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ مُحَرَّمًا إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ، وَلَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ، وَحَتَّى يَكُونَ أَحَدُكُمْ تَابِعًا لَهُمْ، وَحَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ ; إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ، وَإِذَا غَابَ سَبَّهُ، وَحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا غَنَاءً أَحْسَنَكُمْ بِاللَّهِ ظَنًّا، فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّهُ بِالْعَافِيَةِ فَاقْبَلُوا، فَإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا ; فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
مسیب بن نجیہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بطور خاص اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں نہ بتاؤں، ہم نے کہا: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: جہاں تک حسن کا تعلق ہے، تو وہ پیالوں اور خوان والا شخص ہے، وہ مرد آدمی ہے، لیکن وہ جنگ میں تمہارے کام نہیں آ سکتا، جہاں تک عبداللہ بن جعفر کا تعلق ہے، تو وہ لہو کی طرف متوجہ ہونے والا، صائم رہنے والا، باطل والا شخص ہے، اور عباس کے دو بیٹے تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں، جہاں تک میرا اور حسین کا تعلق ہے تو ہم تم لوگوں سے ہیں، اور تم ہم لوگوں سے ہو، اللہ کی قسم! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اپنی سرزمین پر بھلائی کو گھمائیں گے اور تمہاری سرزمین پر فساد ڈالیں گے، یوں کہ وہ امانت ادا کریں گے اور تم خیانت کرو گے، وہ اپنے حکمران کے فرمانبردار ہوں گے اور تم اپنے حکمران کی نافرمانی کرو گے، وہ اپنے باطل پر اکٹھے ہوں گے اور تم اپنے حق پر اختلاف کا شکار ہو گے، ان کی حکومت طویل ہو جائے گی، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی ہر چیز کو حلال قرار دیں گے، ہر کچے اور پکے گھر میں ان کا ظلم داخل ہو جائے گا، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی ان کا تابع ہو جائے گا، جس طرح کوئی غلام اپنے آقا کی مدد کرتا ہے، جب وہ سامنے موجود ہو گا تو اس کی اطاعت کرے گا اور جب وہ سامنے موجود نہیں ہو گا تو اس کو برا کہے گا، یہاں تک کہ اس صورتحال میں تم میں سے سب سے زیادہ لاتعلق وہ شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ اچھا گمان رکھتا ہو، اگر اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت نصیب کرے تو تم قبول کر لینا اور اگر تم آزمائش کا شکار ہو جاؤ، تو تم صبر سے کام لینا، کیونکہ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15128]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2801)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15129
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْحُسَيْنُ جَالِسًا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتُحِبُّهُ؟ فَقَالَ:" وَكَيْفَ لَا أُحِبُّهُ وَهُوَ ثَمَرَةُ فُؤَادِي؟". فَقَالَ: أَمَّا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، أَلَا أُرِيكَ مِنْ مَوْضِعِ قَبْرِهِ؟ فَقَبَضَ قَبْضَةً، فَإِذَا تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس سے کیوں محبت نہ کروں؟ جبکہ یہ میرے دل کا پھل ہے (یعنی میرے جگر کا ٹکڑا ہے) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا: آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، کیا میں آپ کو اس کی قبر کی جگہ نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے مٹھی بھر مٹی لی تو وہ سرخ رنگ کی مٹی تھی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15129]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2640)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15130
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى أَرْضِ [ الْعِرَاقِ ] ، أَرَادَ أَنْ يَلْقَى ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ فِي أَرْضٍ لَهُ، فَأَتَاهُ لِيُوَدِّعَهُ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي أُرِيدُ الْعِرَاقَ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا أَوْ نَبِيًّا عَبْدًا، فَقِيلَ لِي: تَوَاضَعْ، فَاخْتَرْتُ أَنْ أَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا".
وَإِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا نَخْرُجُ. قَالَ: فَأَبَى، فَوَدَّعَهُ وَقَالَ: أَسَتَوْدِعُكَ اللَّهَ مِنْ مَقْتُولٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.
امام شعبی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے عراق کی سرزمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مل لیں اور ان سے مشورہ لے لیں، انہیں بتایا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو اپنی زمین پر موجود ہیں۔ وہ ان سے رخصت ہونے کے لئے ان کے پاس گئے اور انہیں بتایا: میں عراق جانا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ ایسا نہ کریں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: مجھے اس بارے میں اختیار دیا گیا کہ میں ایک بادشاہ نبی بنوں یا ایک بندہ نبی بنوں تو مجھ سے کہا: گیا کہ آپ تواضع اختیار کریں تو میں نے اس چیز کو اختیار کیا کہ میں ایک بندہ نبی بنوں۔ اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جان کے ٹکڑے ہیں، تو آپ نہ جائیں، راوی کہتے ہیں: لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں رخصت کرتے ہوئے یہ کہا: مقتول ہونے کے حوالے سے میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15130]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2644 و 2643) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (601)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15131
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَّكْتُ بِيَدَيَّ فِي رَأْسِكَ، فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ: لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: فَذَلِكَ الَّذِي سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے روانگی کے بارے میں اجازت مانگی تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ عمل میرے یا آپ کے لیے اعتراض کا نشانہ بننے کا باعث بن جائے گا، تو میں نے اپنی انگلیاں آپ کے سر میں پیوست کر دینی تھیں، تو انہوں نے مجھے جواب دیتے ہوئے یہ کہا: اگر میں فلاں فلاں جگہ پر شہید ہو جاؤں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میری وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کے حرم کی بے حرمتی کی جائے، راوی کہتے ہیں: تو اس طرح انہوں نے اپنے طرز عمل کی توجیہ پیش کی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15131]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2859)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں