مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15132
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُرِّ، أَنَّهُ سَأَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: أَعَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرِكَ هَذَا شَيْئًا؟ قَالَ: لَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبیداللہ بن حر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا آپ کی اس روانگی کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی تلقین کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15132]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15132]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2901)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15133
وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: لَمَّا أُحِيطَ بِالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قِيلَ: كَرْبَلَاءُ. قَالَ: صَدَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّهَا أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ.
مطلب بن عبداللہ بن حنطب بیان کرتے ہیں: جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو گھیر لیا گیا، تو انہوں نے دریافت کیا: اس جگہ کا نام کیا ہے؟ بتایا گیا کہ کربلا، تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے: یہ کرب اور بلا کی جگہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15133]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15133]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2812)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15134
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قَالَ لِيَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ قَبْلَ قَتْلِهِ بِيَوْمٍ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ لَهُمْ مَلِكٌ. قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے ایک دن پہلے مجھ سے فرمایا: بنی اسرائیل کے لئے بادشاہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15134]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15134]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2816)»
الحكم على الحديث: إسنادہ جید۔
حدیث نمبر: 15135
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِالْحُسَيْنِ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ، وَقَامَ فِي أَصْحَابِهِ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ، وَإِنَّ الدُّنْيَا تَغَيَّرَتْ وَتَنَكَّرَتْ، وَأَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا وَانْشَمَرَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صَبَابَةُ الْإِنَاءِ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالْمَرْعَى الْوَبِيلِ، أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ، وَالْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ؟ لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللَّهِ ; فَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَمًا. وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ، بِالطَّفِّ بِكَرْبَلَاءَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ، وَهُوَ صَابِغٌ بِالسَّوَادِ، وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ، مَتْرُوكٌ وَلَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.
محمد بن حسن بیان کرتے ہیں: جب عمر بن سعد نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں پڑاؤ کیا اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ وہ لوگ انہیں شہید کر دیں گے، تو وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: ”جس طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو، دنیا تبدیل ہو گئی ہے، اور ناشناسا ہو گئی ہے اس کی بھلائی رخصت ہو گئی ہے، اور اس نے تیزی سے منہ موڑ لیا، یہاں تک کہ اس میں سے صرف وہ (گدلا پن) باقی رہ گیا ہے، جو برتن میں تلچھٹ ہوتی ہے، کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ نہیں سمجھتے ہو کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا، اور باطل سے نہیں روکا جائے گا تاکہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی رغبت دلائی جائے، میں تو موت کو سعادت سمجھتا ہوں اور ظالموں کے ساتھ رہنے کو بربادی سمجھتا ہوں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) امام حسین رضی اللہ عنہ کو عاشورہ کے دن ”طف“ کے مقام پر شہید کیا گیا، ان کے جسم پر اون کا بنا ہوا جبہ تھا، انہوں نے سیاہ رنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا، اس وقت ان کی عمر چھپن برس تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی اس راوی سے مراد ابن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے، اس نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15135]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی اس راوی سے مراد ابن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے، اس نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15135]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2842)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15136
وَعَنِ الْكَلْبِيِّ قَالَ: رَمَى رَجُلٌ الْحُسَيْنَ وَهُوَ يَشْرَبُ، فَشَلَّ شِدْقَيْهِ، فَقَالَ: لَا أَرْوَاكَ اللَّهُ، فَشَرِبَ حَتَّى تَفَطَّرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ.
کلبی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو تیر مارا، وہ اس وقت پی رہے تھے، تو ان کی باچھیں شل ہو گئیں، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں میر نہ کرے، انہوں نے پیا، یہاں تک کہ ان کا منہ چر گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15136]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15136]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2841)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15137
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: خَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى الْكُوفَةِ سَاخِطًا لِوِلَايَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ - وَهُوَ وَالِيهِ عَلَى الْعِرَاقِ - أَنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ حُسَيْنًا قَدْ سَارَ إِلَى الْكُوفَةِ، وَقَدِ ابْتُلِيَ بِهِ زَمَانُكَ مِنْ بَيْنِ الْأَزْمَانِ، وَبَلَدُكَ مِنْ بَيْنِ الْبِلَادِ، وَابْتُلِيتَ بِهِ مِنْ بَيْنِ الْعُمَّالِ، وَعِنْدَهَا تُعْتَقُ أَوْ تَعُودُ عَبْدًا كَمَا يُعْتَبَدُ الْعَبِيدُ. فَقَتَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، وَبَعَثَ بِرَأْسِهِ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الْحُصَيْنِ بْنِ حِمَامٍ الْمُرِّيِّ:
نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الضَّحَّاكَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.
نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الضَّحَّاكَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.
ضحاک بن عثمان بیان کرتے ہیں: سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کوفہ کی طرف جانے کے لئے نکلے وہ یزید بن معاویہ کی حکومت سے اختلاف رکھتے تھے، یزید بن معاویہ نے عبیداللہ بن زیاد کو خط لکھا، جو عراق پر اس کا مقرر کردہ گورنر تھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ہیں۔ یہ آزمائش باقی تمام زمانوں کے مقابلے میں تمہارے زمانے میں سامنے آئی ہے، اور باقی تمام شہروں کے مقابلے میں تمہارے شہر میں سامنے آئی ہے، اور باقی تمام اہلکاروں کے مقابلے میں تمہیں اس حوالے سے آزمایا گیا ہے، تو اس آزمائش کے نتیجے میں یا تو تم آزاد ہو جاؤ گے یا پھر پہلے کی طرح بندے بن جاؤ گے جس طرح کسی غلام کو بندہ بنایا جاتا ہے، تو عبیداللہ بن زیاد نے امام حسین کو شہید کروا دیا، اس نے امام حسین کا سر یزید کو بھجوایا، جب امام حسین کا سر اس کے آگے رکھا گیا تو اس نے حصین بن حمام مری کے یہ اشعار مثال کے طور پر پڑھے: ”ہم کچھ محبوب افراد کی خاطر سر کٹوا لیتے ہیں حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ ضحاک نامی راوی نے اس معاملے کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15137]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ ضحاک نامی راوی نے اس معاملے کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15137]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2846)»
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 15138
وَعَنِ ابْنِ وَائِلٍ - أَوْ وَائِلِ بْنِ عَلْقَمَةَ - أَنَّهُ شَهِدَ مَا هُنَاكَ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَفَيَكِمُ حُسَيْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: أَبْشِرْ بِالنَّارِ. قَالَ: أَبْشِرْ بِرَبٍّ رَحِيمٍ، وَشَفِيعٍ مُطَاعٍ. قَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا ابْنُ جُوَيْرَةَ - أَوْ حُوَيْزَةَ -. قَالَ: اللَّهُمَّ حُزَّهُ إِلَى النَّارِ، فَنَفَرَتْ بِهِ الدَّابَّةُ فَتَعَلَّقَتْ رِجْلُهُ فِي الرِّكَابِ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ عَلَيْهَا مِنْهُ إِلَّا رَجْلُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.
ابن وائل، شاید وائل بن علقمہ بیان کرتے ہیں: وہ اس وقت وہاں موجود تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا: کیا تمہارے درمیان حسین ہے، لوگوں نے بتایا جی ہاں، اس نے کہا: تم جہنم کی اطلاع حاصل کرو، تو انہوں نے کہا: تم رحم کرنے والے پروردگار کی اطلاع حاصل کرو اور شفاعت کرنے والی ایسی ہستی کی جن کی اطاعت کی جاتی ہے، لوگوں نے کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں این جویرہ ہوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابن حویزہ ہوں، انہوں نے کہا: اے اللہ! اسے جہنم کی طرف لے جا، تو اس کے جانور نے اسے گرا دیا، اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا، راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے جسم میں سے صرف وہ پاؤں ہی بچا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ و اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15138]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ و اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15138]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2849)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15139
وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ حِينَ أَحَسَّ بِالْقَتْلِ: ائْتُونِي ثَوْبًا لَا يَرْغَبُ فِيهِ أَحَدٌ أَجْعَلْهُ تَحْتَ ثِيَابِي لَا أُجَرَّدُ. فَقِيلَ لَهُ: تُبَّانٌ. فَقَالَ: لَا، ذَاكَ لِبَاسُ مَنْ ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الذِّلَّةُ، فَأَخَذَ ثَوْبًا فَحَرَقَهُ، فَجَعَلَهُ تَحْتَ ثِيَابِهِ، فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ جَرَّدُوهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ.
ابن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا، تو انہوں نے فرمایا: میرے پاس ایسا کپڑا لے کے آؤ، جس میں کسی کو دلچسپی نہ ہو (یعنی جو غیر ضروری ہو) تاکہ میں اسے اپنے کپڑوں کے نیچے رکھ لوں، تاکہ مجھے برہنہ نہ کیا جائے۔ ان سے کہا: گیا ایک لنگوٹ ہے۔ انہوں نے فرمایا: جی نہیں۔ یہ تو اس شخص کا لباس ہوتا ہے، جس پر ذلت مسلط کر دی گئی ہو، پھر انہوں نے ایک کپڑا لیا اور اسے اپنے کپڑے کے نیچے باندھ لیا، جب انہیں شہید کر دیا گیا، تو لوگوں نے ان کے کپڑے اتار لئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15139]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15139]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2850)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15140
وَعَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ قَالَ: مَرَّ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ، فَقَالَ: يُقْتَلُ مِنْ وَلَدِ هَذَا الرَّجُلِ رَجُلٌ فِي عِصَابَةٍ، لَا يَجِفُّ عَرَقُ خُيُولِهِمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَمَرَّ حَسَنٌ، فَقَالُوا: هَذَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ قَالَ: لَا. فَمَرَّ حُسَيْنٌ، فَقَالُوا: هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَمَّارًا لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ.
عمار دہنی بیان کرتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر کعب احبار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا: ان صاحب کی اولاد میں سے ایک شخص کو ساتھیوں سمیت قتل کیا جائے گا، اور ان کے گھوڑوں کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے وہ لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں گے، اس دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو لوگوں نے کہا: اے ابواسحاق وہ صاحب یہ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گزرے، لوگوں نے دریافت کیا: یہ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ عمار دہنی نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15140]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ عمار دہنی نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15140]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2851)»
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 15141
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ، فَلَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ [ قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا وَذَلِكَ الْيَوْمَ، فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ] . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ کے بال بکھرے ہوئے تھے اور غبار آلود تھے آپ کے پاس ایک شیشی تھی جس میں خون موجود تھا اور آپ اس میں سے کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، آج میں مسلسل اس کا سامنا کر رہا ہوں۔ عمار کہتے ہیں۔ ہم نے وہ دن یاد رکھا تو ہمیں یہ بات پتہ چلی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اسی دن شہید ہوئے تھے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15141]
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15141]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2842) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2265 و 553)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح