مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15112
وَعَنْ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ صَاحِبَ مُطْهَرَتِهِ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ، فَنَادَى عَلِيٌّ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ. قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، وَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ؟ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ:" بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ". قَالَ: فَقَالَ:" هَلْ لَكَ أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ، فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَلَمْ يَنْفَرِدْ نُجَيٌّ بِهَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَلَمْ يَنْفَرِدْ نُجَيٌّ بِهَذَا.
نجی حضرمی بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طہارت کے پانی کے نگران تھے جب یہ لوگ نینوا کے مقام پر پہنچے یہ لوگ اس وقت صفین کی طرف جا رہے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں کہا: اے ابوعبداللہ صبر سے کام لینا، اے ابوعبداللہ صبر سے کام لینا، یہ دریائے فرات کی بات ہے، میں نے دریافت کیا: اس کی کیا وجہ ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے، کیا وجہ ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی جبرائیل میرے پاس سے اٹھ کے گیا ہے اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے پر قتل کر دیا جائے گا، اس نے کہا: کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ میں آپ کو وہاں کی مٹی سونگھاؤں، میں نے جواب دیا: جی ہاں! تو اس فرشتے نے ہاتھ بڑھایا اور مٹھی بھر مٹی لی اور وہ مجھے دے دی تو مجھے اپنی آنکھوں پر ق ابونہیں رہا اور وہ بہنے لگیں۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، نجی نامی راوی اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15112]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، نجی نامی راوی اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15112]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (363) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2811) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 648»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15113
وَعَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِإِحْدَاهُمَا:" لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا، قَالَ: إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا". قَالَ: فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا شاید سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آج میرے پاس ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا، اس نے بتایا: آپ کے اس بیٹے حسین کو قتل کر دیا جائے گا اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جہاں اسے قتل کیا جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس فرشتے نے سرخ مٹی لا کے دی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15113]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15113]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (294/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 15114
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَنَزَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُنْكَبٌّ، وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ فَقَالَ جِبْرِيلُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ:" يَا جِبْرِيلُ، وَمَا لِي لَا أُحِبُّ ابْنِي!". قَالَ: فَإِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ مِنْ بَعْدِكَ، فَمَدَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَدَهُ، فَأَتَاهُ بِتُرْبَةٍ بَيْضَاءَ، فَقَالَ: فِي هَذِهِ الْأَرْضِ يُقْتَلُ ابْنُكَ هَذَا، وَاسْمُهَا الطَّفُّ، فَلَمَّا ذَهَبَ جِبْرِيلُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْتَزَمَهُ فِي يَدِهِ يَبْكِي، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي حُسَيْنًا مَقْتُولٌ فِي أَرْضِ الطَّفِّ، وَأَنَّ أُمَّتِي سَتُفْتَنُ بَعْدِي". ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ عَلِيٌّ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَحُذَيْفَةُ، وَعَمَّارٌ، وَأَبُو ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالُوا: مَا يُبْكِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنَّ ابْنِي الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بَعْدِي بِأَرْضِ الطَّفِّ، وَجَاءَنِي بِهَذِهِ التُّرْبَةِ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا مَضْجَعَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَأَوَّلُهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْلَسَ حُسَيْنًا عَلَى فَخِذِهِ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ. وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَأَوَّلُهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْلَسَ حُسَيْنًا عَلَى فَخِذِهِ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ. وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما (جو اس وقت بچے تھے) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت وحی نازل ہو رہی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکایا ہوا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ گئے، سیدنا جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ اس سے محبت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل میں اپنے بیٹے سے کیوں نہ محبت رکھوں؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا: آپ کے بعد آپ کی امت عنقریب اسے شہید کر دے گی پھر سیدنا جبرائیل نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سفید رنگ کی مٹی لے کے آنے، انہوں نے بتایا: اس سرزمین پر آپ کے بیٹے کو شہید کیا جائے گا، اور اس جگہ کا نام طف ہے، جب سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھا کر ساتھ لپٹایا ہوا تھا اور رو رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے عائشہ! جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے حسین کو طف کی سرزمین پر قتل کر دیا جائے گا، اور میرے بعد میری امت آزمائش کا شکار ہو جائے گی۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا حذیفہ، سیدنا عمار، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہم موجود تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے حسین کو میرے بعد طف کی سرزمین پر قتل کر دیا جائے گا، وہ میرے پاس یہ مٹی لے کے آئے تھے۔ انہوں نے بتایا: اس جگہ پر اس کی شہادت ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی زانوں پر بٹھایا ہوا تھا اسی دوران سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے۔۔۔۔۔۔۔“۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور معجم اوسط کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15114]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی زانوں پر بٹھایا ہوا تھا اسی دوران سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے۔۔۔۔۔۔۔“۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور معجم اوسط کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15114]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2814)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15115
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا عِنْدَهَا، وَحُسَيْنٌ يَحْبُو فِي الْبَيْتِ، فَغَفَلَتْ عَنْهُ، فَحَبَا حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ عَلَى بَطْنِهِ، فَوَضَعَ ذَكَرِهِ فِي سُرَّتِهِ فَبَالَ، قُلْتُ: فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَحَطَطْتُهُ عَنْ بَطْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" دَعِي ابْنِي". فَلَمَّا قَضَى بِوَلَهُ، أَخَذَ كُوزًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ، وَقَالَ:" إِنَّهُ يُصَبُّ مِنَ الْغُلَامِ، وَيُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ". قَالَتْ: ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَاحْتَضَنَهُ، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَسَجَدَ وَضَعَهُ، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهُ، فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ الْيَوْمَ شَيْئًا مَا رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُ؟ قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي يُقْتَلُ، قُلْتُ: فَأَرِنِي إِذًا، فَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ حَمْرَاءَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیده زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سوئے ہوئے تھے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گھر میں گھٹنوں کے بل چل رہے تھے میں ان سے غافل ہوئی، تو وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ کے پیٹ پر چڑھ گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پیشاب کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے، میں اٹھ کر آپ کے پاس آئی اور انہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ سے ہٹایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بیٹے کو رہنے دو، جب انہوں نے پیشاب مکمل کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن لے کے اس پر چھڑک دیا، آپ نے فرمایا: لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے، آپ نے انہیں اٹھایا ہوا تھا جب آپ رکوع یا سجدے میں جاتے تھے تو انہیں زمین پر کھڑا کر دیتے تھے، جب اٹھتے تھے تو پھر اٹھا لیتے تھے، جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کرنا شروع کی جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آج آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، جو میں نے آپ کو پہلے کرتے ہوئے نہیں دیکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ میرے بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا، میں نے کہا: تم مجھے وہ جگہ دکھاؤ! تو وہ میرے پاس سرخ مٹی لے کے آیا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15115]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15115]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15116
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي قَالَ:" لَا يَدْخُلُ عَلَيَّ أَحَدٌ". فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: أَتُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا فِي الدُّنْيَا فَنَعَمْ. قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلَ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: كَرْبَلَاءُ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ مِنْ تُرْبَتِهَا". فَأَرَاهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أُحِيطُ بِحُسَيْنٍ حِينَ قُتِلَ قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ; كَرْبٌ وَبَلَاءٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، آپ نے فرمایا: کوئی میرے پاس نہ آنے پائے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں انتظار کرتی رہی، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی آواز سنی، میں نے جھانک کے دیکھا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کی گود میں تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور رو رہے تھے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! ان کے آنے کا مجھے پتہ نہیں چلا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا جبرائیل ہمارے ساتھ گھر میں موجود تھے اس نے دریافت کیا: کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں، میں نے جواب دیا: جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو جی ہاں! تو جبرائیل نے بتایا: آپ کی امت اسے ایسی سرزمین پر قتل کر دے گی، جس کا نام کربلا ہے، پھر جبرائیل نے وہاں کی مٹی لی اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اس جگہ پر گھیر لیا گیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے، تو انہوں نے دریافت کیا: اس جگہ نام کیا ہے، لوگوں نے بتایا کربلا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے، یہ کرب اور بلا کی جگہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15116]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2819)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15117
وَفِي رِوَايَةٍ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے یہ کرب و بلا کی جگہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15117]
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15117]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2812 و 2902)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15118
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَانِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنْ أَمَتَّكَ تَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا مِنْ بَعْدِكَ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْحُسَيْنِ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، وَدِيعَةٌ عِنْدَكَ هَذِهِ التُّرْبَةُ". فَشَمَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ:" وَيْحٌ، وَكُرَبٌ، وَبَلَاءٌ". قَالَتْ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، إِذَا تَحَوَّلَتْ هَذِهِ التُّرْبَةُ دَمًا، فَاعْلَمِي أَنَّ ابْنِي قَدْ قُتِلَ". قَالَ: فَجَعَلَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فِي قَارُورَةٍ، ثُمَّ جَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كُلَّ يَوْمٍ وَتَقُولُ: إِنَّ يَوْمًا تَحَوَّلِينَ فِيهِ دَمًا لَيَوْمٌ عَظِيمٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ النُّكْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ النُّكْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے گھر میں کھیل رہے تھے اسی دوران سیدنا جبرائیل نازل ہوئے، انہوں نے بتایا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت آپ کے بعد آپ کے اس بیٹے کو قتل کر دے گی، انہوں نے حسین کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے، آپ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ چمٹا لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے ام سلمہ یہ منی تمہارے پاس ودیعت کے طور پر رہے گی۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سونگھا تھا اور فرمایا تھا: بربادی اور کرب اور بلا ہے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ مٹی خون میں تبدیل ہو جائے تو تم یہ بات جان لینا کہ میرے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی ایک شیشی میں رکھ لی تھی اور وہ روزانہ اس کا جائزہ لیا کرتی تھیں اور یہ فرماتی تھیں: جس دن تم خون میں تبدیل ہو گئی وہ بڑا دن ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت نکری ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15118]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت نکری ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15118]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2817)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15119
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنِسَائِهِ:" لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ". يَعْنِي حُسَيْنًا قَالَ: وَكَانَ يَوْمَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّاخِلَ، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ:" لَا تَدَعِي أَحَدًا أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ". فَجَاءَ الْحُسَيْنُ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْبَيْتِ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَاحْتَضَنَتْهُ، وَجَعَلَتْ تُنَاغِيهِ وَتُسَكِّتُهُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ فِي الْبُكَاءِ خَلَّتْ عَنْهُ، فَدَخَلَ حَتَّى جَلَسَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ بِي؟". قَالَ: نَعَمْ يَقْتُلُونَهُ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ تُرْبَةً فَقَالَ: بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ احْتَضَنَ حُسَيْنًا، كَاسِفَ الْبَالِ مَغْمُومًا، فَظَنَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّهُ غَضِبَ مِنْ دُخُولِ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جُعِلْتُ لَكَ الْفِدَاءَ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا:" لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ". وَأَمَرْتَنِي أَنْ لَا أَدَعَ أَحَدًا يَدْخُلُ عَلَيْكَ، فَجَاءَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ. فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" إِنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَ هَذَا". وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَكَانَا أَجْرَأَ الْقَوْمِ عَلَيْهِ، فَقَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَهُمْ مُؤْمِنُونَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَهَذِهِ تُرْبَتُهُ". وَأَرَاهُمْ إِيَّاهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا: اس بچے کو رونے نہ دینا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے۔ راوی کہتے ہیں: یہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مخصوص باری کا وقت تھا۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے اور آپ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم کسی کو میرے پاس اندر نہ آنے دینا، اسی دوران حسین رضی اللہ عنہ آ گئے، جب انہوں نے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، تو اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکڑ لیا اور گود میں اٹھا لیا وہ انہیں چپ کروانے لگیں، لیکن جب ان کا رونا زیادہ ہو گیا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں چھوڑ دیا، وہ اندر داخل ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں جا کے بیٹھ گئے، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کی امت آپ کے اس بیٹے کو قتل کر دے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وہ لوگ مجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود اسے قتل کر دیں گے؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا: جی ہاں وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے مٹی لی اور بتایا: فلاں فلاں جگہ پر ایسا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور آپ پریشان تھے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سمجھیں کہ شاید وہ بچے کے اپنے پاس آنے کی وجہ سے غصے میں ہیں، تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں آپ پر فدا ہو جاؤں، آپ نے ہم سے یہ کہا: تھا کہ تم اس بچے کو رونے نہ دینا، اور پھر آپ نے مجھے یہ بھی حکم دیا تھا کہ میں کسی کو آپ کے پاس نہ آنے دوں، یہ آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا، آپ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے، وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس کو قتل کر دے گی، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بے تکلف تھے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا وہ مومن ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! اور یہ اس کی تربت ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہ مٹی دکھائی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15119]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15119]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8096)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 15120
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ، فَقَالَ:" أَنَا مُحَمَّدٌ، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ، فَأَطِيعُونِي مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ، أَتَتْكُمُ الْمَوْتَةُ، أَتَتْكُمْ بِالرُّوحِ وَالرَّاحَةِ، كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ. أَتَتْكُمْ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، كُلَّمَا ذَهَبَ رَسْلٌ جَاءَ رَسْلٌ، تَنَاسَخَتِ النُّبُوَّةُ ; فَصَارَتْ مُلْكًا رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَخَرَجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلَهَا، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ وَأَحْصِ". قَالَ: فَلَمَّا بَلَغْتُ خَمْسًا قَالَ:" يَزِيدُ، لَا بَارَكَ اللَّهُ فِي يَزِيدَ". ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَ:" نُعِيَ إِلَيَّ حُسَيْنٌ، وَأُتِيتُ بِتُرْبَتِهِ، وَأُخْبِرْتُ بِقَاتِلِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقْتُلُوهُ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ قَوْمٍ لَا يَمْنَعُوهُ إِلَّا خَالَفَ اللَّهُ بَيْنَ صُدُورِهِمْ وَقُلُوبِهِمْ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ، وَأَلْبَسَهُمْ شِيَعًا". قَالَ:" وَاهًا لِفِرَاخِ آلِ مُحَمَّدٍ مِنْ خَلِيفَةٍ يُسْتَخْلَفُ مُتْرَفًا، يَقْتُلُ خَلَفِي وَخَلَفَ الْخَلَفِ، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ". فَلَمَّا بَلَغْتُ عَشْرَةً قَالَ:" الْوَلِيدُ اسْمُ فِرْعَوْنَ، هَادِمُ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، بَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُسِلُّ اللَّهُ سَيْفَهُ، فَلَا غِمَادَ لَهُ، وَاخْتَلَفَ فَكَانُوا هَكَذَا". فَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَالَ:" بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ يَكُونُ مَوْقَتٌ سَرِيعٌ - وَقَتْلٌ ذَرِيعٌ - فَفِيهِ هَلَاكُهُمْ، وَيَلِي عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کی رنگت تبدیل تھی، آپ نے فرمایا: ”میں محمد ہوں، مجھے کام کے فواتح اور اس کے خواتم عطا کیے گئے ہیں، تو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم لوگ میری اطاعت کرو اور جب میری رخصتی ہو جائے تو تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے، تم اس کے حلال کو حلال قرار دو، اس کے حرام کو حرام قرار دو۔ تمہارے پاس آرام آئے گا، تمہارے پاس راحت آئے گی، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہے، تمہارے پاس فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جب ایک قسم کا فتنہ چلا جائے گا، تو دوسرا آ جائے گا، نبوت ختم ہو چکی ہے، بادشاہی آ جائے گی، اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو اس کے حق کے ہمراہ اسے لیتا ہے، اور اس سے اسی طرح نکلتا ہے جس طرح اس میں داخل ہوا تھا: اے معاذ! تم پکڑو اور گنتی کرو (پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نام گنوانے شروع کیے:)۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں فرد پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: یزید، اللہ تعالیٰ یزید میں برکت نہ رکھے، پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، پھر آپ نے فرمایا: مجھے حسین کے قتل ہونے کی اطلاع دی گئی اور وہاں کی مٹی میرے پاس لائی گئی اور اس کے قاتل کے بارے میں مجھے بتایا گیا، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جن لوگوں کے درمیان اسے قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں اور سینوں کے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا، اور ان کے بدترین لوگوں کو ان پر مسلط کر دے گا، اور انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آل محمد کے بچوں کے لیے اس خلیفہ کے حوالے سے افسوس ہے، جسے زیادتی کرنے والے کے طور پر خلیفہ بنایا جائے گا، وہ میری اولاد کو اور میری اولاد کی اولاد کو قتل کرے گا، اے معاذ! تم گنتی کرو! پھر جب آپ بارہ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: ولید ہو گا، یہ فرعون کا نام ہے، وہ شخص اسلام کے شرعی احکام کو منہدم کرنے والا ہو گا اس کے سامنے اس کے اہل بیت کا ایک فرد ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تلوار کو میان سے نکال لے گا، تو پھر وہ میان میں نہیں جائے گی، وہ لوگ اسی طرح رہیں گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں اور پھر ارشاد فرمایا: ایک سو بیس کے بعد ایسا وقت ایسا آئے گا کہ جس میں وقت تیزی سے گزرے اور قتل و غارت گری بہت زیادہ ہو گی اس زمانے میں ان لوگوں کی ہلاکت ہو جائے گی اور اس وقت ان لوگوں پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران بن جائے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15120]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15120]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2861)»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 15121
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ:" لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ". فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَدَخَلَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: هُوَ الْحُسَيْنُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" دَعِيهِ". فَجَعَلَ يَعْلُو رَقَبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَعْبَثُ بِهِ، وَالْمَلَكُ يَنْظُرُ، فَقَالَ الْمَلَكُ: أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ:" إِي وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّهُ". قَالَ: أَمَا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ. فَقَالَ بِيَدِهِ فَتَنَاوَلَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ، فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي خِمَارِهَا، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ التُّرَابَ مِنْ كَرْبَلَاءَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بارش کے فرشتے نے یہ اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے، اس نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: تم کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے اور اندر داخل ہو گئے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ حسین ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر چڑھ گئے اور آپ کے ساتھ کھیلنے لگے، فرشتہ یہ چیز دیکھ رہا تھا، فرشتے نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ اس سے محبت رکھتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اللہ کی قسم! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت اسے عنقریب قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کی جگہ دکھا دیتا ہوں، پھر اس نے ہاتھ بڑھایا اور مٹھی میں کچھ مٹی لی، وہ مٹی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے لے لی تھی اور اسے اپنی چادر میں باندھ لیا تھا، لوگ یہ سمجھتے تھے وہ مٹی کربلا کی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15121]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15121]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2807)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔