🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15152
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ أَوَّلَ رَأْسٍ حُمِلَ فِي الْإِسْلَامِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
امام شعبی بیان کرتے ہیں: امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اسلام میں پہلا سر ہے، جسے اٹھا کر لایا گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15152]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2876)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15153
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، وَإِذَا رَأَسُ الْحُسَيْنِ قُدَّامَهُ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ، فَإِذَا بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَإِذَا رَأَسُ الْمُخْتَارِ عَلَى تُرْسٍ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، وَإِذَا رَأَسُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَلَى تُرْسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: مَا كَانَ لِهَؤُلَاءِ عَمَلٌ إِلَّا الرُّءُوسُ. وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں: میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس آیا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اس کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا۔ اللہ کی قسم! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مختار کے پاس آیا تو عبیداللہ بن زیاد کا سر مختار کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا، اللہ کی قسم! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو مختار کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا، اللہ کی قسم! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں عبدالملک کے پاس آیا تو مصعب بن زبیر کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں: یہ سلوک صرف ان بڑوں کے ساتھ ہی کیا گیا تھا، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15153]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2643) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2877)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15154
وَعَنْ ذُوَيْدٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ انْتُهِبَتْ جَزُورٌ مِنْ عَسْكَرِهِ، فَلَمَّا طُبِخَتْ إِذَا هِيَ دَمٌ، فَأَكْفَئُوهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
زوید جعفی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، تو میں نے ان کے لشکر کا ایک اونٹ لوٹ لیا جب اس کا گوشت پکایا گیا، تو وہ خون بن گیا، تو میں نے اسے پھینک دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15154]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2864)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15155
وَعَنْ حُمَيْدٍ الطَّحَّانِ قَالَ: كُنْتُ فِي خُزَاعَةَ، فَجَاءُوا بِشَيْءٍ مِنْ تَرِكَةِ الْحُسَيْنِ، فَقِيلَ لَهُمْ: نَنْحَرُ أَوْ نَبِيعُ فَنُقَسِّمُ. قَالَ: انْحَرُوا، فَجَلَسْتُ عَلَى جَفْنَةٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فَارَتْ نَارًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
حمید ملحان بیان کرتے ہیں: میں خزاعہ قبیلے میں موجود تھا وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے چھوڑے گئے سامان میں سے کچھ چیزیں لے کے آئے، ان سے کہا: گیا ہمیں ان کو قربان کر دینا چاہیے یا انہیں فروخت کر کے مال تقسیم کر لینا چاہیے، انہوں نے کہا: ان کو قربان کر دو، میں ہنڈیا کے پاس بیٹھ گیا، جب میں نے اسے رکھا تو اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15155]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2863)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15156
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ بَعْجَةَ قَالَ: أَوَّلُ ذُلٍّ دَخَلَ عَلَى الْعَرَبِ قَتْلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَادِّعَاءَ زِيَادٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
عمرو بن بعجہ بیان کرتے ہیں: عربوں میں جو سب سے پہلی ذلت داخل ہوئی وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ہے، جس کا ارتکاب زیاد نے کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15156]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2870)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15157
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ: لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا وَلَا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ; فَإِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا الْفَاسِقِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَتَلَهُ اللَّهُ؟ فَرَمَاهُ اللَّهُ بِكَوْكَبَيْنِ فِي عَيْنَيْهِ ; فَطَمَسَ اللَّهُ بَصَرَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
اہورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں: تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یا ان کے اہل بیت میں سے کسی کو برا نہ کہو کیونکہ ہمارا ایک پڑوسی تھا، جو بلہجیم میں تھا اس نے کہا: کیا تم لوگوں نے اس فاسق حسین بن علی کو نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے۔ راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی آنکھوں میں دو ستارے (یعنی ان کی روشنی) ماری اور اس شخص کی بینائی ختم ہو گئی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15157]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2830)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15158
وَعَنْ حَاجِبِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: دَخَلْتُ الْقَصْرَ خَلْفَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ، فَاضْطَرَمَ فِي وَجْهِهِ نَارًا، فَقَالَ هَكَذَا بِكُمِّهِ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: هَلْ رَأَيْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَكْتُمَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَحَاجِبُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
عبیداللہ بن زیاد کا دربان کہتا ہے: میں محل میں عبیداللہ بن زیاد کے پیچھے داخل ہوا جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا، تو عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کی طرف سے آگ آئی اور اس نے اپنی آستین کے ذریعے اپنے چہرے کو اس طرح چھپانے کی کوشش کی، پھر اس نے دریافت کیا: کیا تم نے یہ دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو اس نے مجھ سے کہا: تم نے اس بات کو چھپا کے رکھنا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، عبیداللہ کے دربان سے میں واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15158]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2831)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15159
وَعَنِ الزَّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ: أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَعْلَمْتَنِي، أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. فَقَالَ: قُلْتُ: لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٍ، فَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ: إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
زہری بیان کرتے ہیں: عبدالملک نے مجھ سے کہا: تم وہ واحد شخص ہو جو مجھے بتا سکتے ہو کہ امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے دن کی مخصوص نشانی کیا ہو گی؟ راوی کہتے ہیں: تو میں نے بتایا: اس دن بیت المقدس کی جو بھی کنکری اٹھائی جائے گی اس کے نیچے سے تازہ خون نکلے گا، تو عبدالملک نے مجھ سے کہا: میں اس بات کے حوالے سے میں اور تم ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15159]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2856)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15160
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: مَا رُفِعَ بِالشَّامِ حَجَرٌ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَّا عَنْ دَمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
زہری بیان کرتے ہیں: امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی شام میں جو بھی پتھر اٹھایا جاتا تھا اس پر خون لگا ہوتا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15160]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2835)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15161
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ قَالَتْ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَّةٌ، فَمَكَثَتِ السَّمَاءُ أَيَّامًا مِثْلَ الْعَلَقَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى أُمِّ حَكِيمٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ ام حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، میں ان دنوں لڑکی تھی، تو چند دن تک آسمان سرخ رہا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور ام حکیم تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15161]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2836)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں