مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - .
حدیث نمبر: 15162
وَعَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْمَرَّتِ السَّمَاءُ، قُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ تَقُولُ؟ قَالَ: إِنَّ الْكَذَّابَ مُنَافِقٌ، إِنَّ السَّمَاءَ احْمَرَّتْ حِينَ قُتِلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
جمیل بن زید بیان کرتے ہیں: جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، تو آسمان سرخ ہو گیا۔ میں نے کہا: آپ کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جھوٹ بولنے والا شخص منافق ہوتا ہے، امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت آسمان سرخ ہو گیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15162]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15162]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2837)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15163
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً حَتَّى بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ، حَتَّى ظَنَّنَا أَنَّهَا هِيَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
ابوقبیل بیان کرتے ہیں: جب امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا، تو سورج گرہن ہو گیا یہاں تک کہ دوپہر کے وقت ستارے نظر آنے لگے، اور ہم نے یہ گمان کیا کہ وہ یہی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15163]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15163]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2838)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15164
وَعَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ، مَكَثْنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ إِذَا صَلَّيْنَا الْعَصْرَ نَظَرْنَا إِلَى السَّمَاءِ عَلَى أَطْرَافِ الْحِيطَانِ كَأَنَّهَا الْمَلَاحِفُ الْمُعَصْفَرَةُ. وَنَظَرْنَا إِلَى الْكَوَاكِبِ يَضْرِبُ بَعْضُهَا بَعْضًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
عیسیٰ بن حارث کندی بیان کرتے ہیں: جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، تو سات دن تک ہمارا یہ عالم رہا کہ جب ہم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے، تو آسمان کی طرف دیکھتے تھے، تو یوں لگتا تھا جیسے وہ سرخ رنگ کا لحاف اوڑھے ہوئے ہے، اور ہمیں ستارے نظر آتے تھے کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15164]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15164]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2839)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15165
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَمْ تَكُنْ فِي السَّمَاءِ حُمْرَةٌ حَتَّى قُتِلَ الْحُسَيْنُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: آسمان میں سرخی نہیں آئی، یہاں تک کہ امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15165]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15165]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2840)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15166
وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ أَبِي قَالَتْ: شَهِدَ رَجُلَانِ مِنَ الْجُعْفِيِّينَ قَتْلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَطَالَ ذَكَرُهُ حَتَّى كَانَ يَلُفُّهُ. وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَسْتَقْبِلُ الرَّاوِيَةَ بِفِيهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى آخِرِهَا. قَالَ سُفْيَانُ: رَأَيْتُ وَلَدَ أَحَدِهِمَا كَانَ بِهِ خَبَلٌ، وَكَأَنَّهُ مَجْنُونٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى جَدِّهِ سُفْيَانَ ثِقَاتٌ
سفیان بیان کرتے ہیں: میری دادی یعنی میرے والد کی والدہ نے یہ بات بیان کی ہے: جعفیوں میں سے دو افراد امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قتل کے وقت موجود تھے، ان دونوں کا انجام برا ہوا۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے ان دونوں میں سے ایک کی اولاد کو دیکھا کہ اسے پاگل پن لاحق ہو گیا تھا اور وہ پاگل ہی رہا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور سفیان کی دادی تک اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15166]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور سفیان کی دادی تک اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15166]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2857)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15167
وَبِسَنَدِهِ قَالَ: رَأَيْتُ الْوَرْسَ الَّذِي أُخِذَ مِنْ عَسْكَرِ الْحُسَيْنِ صَارَ مِثْلَ الرَّمَادِ.
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں: ”امام حسین رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سے جو سامان لیا گیا تھا میں نے دیکھا کہ اس میں سے ورس، راکھ کی مانند تھا۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15167]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (2858)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15168
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: خَرَى رَجُلٌ [ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ] عَلَى قَبْرِ الْحُسَيْنِ، فَأَصَابَ أَهْلَ ذَلِكَ الْبَيْتِ خَبَلٌ، وَجُنُونٌ، وَجُذَامٌ، وَبَرَصٌ، وَفَقْرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
اعمش بیان کرتے ہیں: بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی قبر پر پاخانہ کر دیا، تو اس کے گھر کے افراد کو پاگل پن جنون جذام برص اور غربت لاحق ہو گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15168]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15168]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2860)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح