🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

112. بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا بَقِيَ مِنْ فَضْلِهَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں سے جو باقی رہ گیا ہے ان کا مجموعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15307
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَقَدْ أُعْطِيتُ تِسْعًا مَا أُعْطِيَتْهُنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ: لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصُورَتِي فِي رَاحَتِهِ، حَتَّى أُمِرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي بِكْرًا، وَمَا تَزَوَّجَ بِكْرًا غَيْرِي، وَلَقَدْ قُبِضَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِي، وَلَقَدْ قَبَرْتُهُ فِي بَيْتِي، وَلَقَدْ حَفَّتِ الْمَلَائِكَةُ بَيْتِي، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ وَهُوَ فِي أَهْلِهِ فَيَتَفَرَّقُونَ عَنْهُ، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ وَإِنِّي مَعَهُ فِي لِحَافِهِ، وَإِنِّي لَابْنَةُ خَلِيفَتِهِ وَصَدِيقِهِ، وَلَقَدْ نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ، وَلَقَدْ خُلِّفْتُ طَيِّبَةً وَعِنْدَ طَيِّبٍ، وَلَقَدْ وُعِدْتُ مَغْفِرَةً وَرِزْقًا كَرِيمًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبِي يَعْلَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے نو چیزیں ایسی عطا کی گئیں ہیں جو کسی اور خاتون کو عطا نہیں کی گئی ہیں، البتہ سیده مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے، سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کے آئے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: تھا کہ آپ میرے ساتھ شادی کر لیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میں کنواری تھی، آپ نے میرے علاوہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کا سر میری گود میں تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میرے گھر میں بنی ہے، میرے گھر کو فرشتوں نے ڈھانپ لیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی، تو اگر آپ اس وقت اپنی بیوی کے پاس موجود ہوتے تھے تو فرشتے آپ کے پاس نہیں آتے تھے، لیکن جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں موجود ہوتی تھی، تو آپ پر وحی نازل ہو جاتی تھی اور میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے صدیق کی بیٹی ہوں اور میری بے گناہی کے بارے میں آسمان سے حکم بھی نازل ہوا تھا، میں پاکیزہ ہونے کے عالم میں پیدا ہوئی اور پاکیزہ شخص کے پاس رہی اور میرے ساتھ مغفرت اور معزز رزق کا وعدہ کیا گیا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، صحیح میں اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15307]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4626)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15308
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خِلَالٌ فِيَّ سَبْعٌ لَمْ تَكُنْ فِي أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا آتَى اللَّهُ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَاللَّهِ مَا أَقُولُ هَذَا فَخْرًا عَلَى أَحَدٍ مِنْ صَوَاحِبِي.
فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: وَمَا هُنَّ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَزَلَ الْمَلَكُ بِصُورَتِي، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِسَبْعِ سِنِينَ، وَأُهْدِيتُ إِلَيْهِ لِتِسْعِ سِنِينَ، وَتَزَوَّجَنِي بِكْرًا وَلَمْ يُشْرِكْهُ فِيَّ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ الْوَحْيُ يَأْتِيهِ وَأَنَا وَهُوَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ.
قَالَتْ: وَكُنْتُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَبِنْتَ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَلَقَدْ نَزَلَ فِيَّ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَلَقَدْ كَادَتِ الْأُمَّةُ تَهْلَكُ فِيَّ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِهِ غَيْرِي، وَقُبِضَ فِي بَيْتِي، وَلَمْ يَلِهِ أَحَدٌ غَيْرِي وَقَوِيَ الْمَلَكُ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحَدِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھ میں سات خصوصیات ایسی ہیں جو کسی خاتون میں نہیں ہیں، البتہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کو جو خصوصیات عطا کی ہیں، اس کا معاملہ مختلف ہے اور اللہ کی قسم! میں اپنی دیگر ساتھی خواتین میں سے کسی ایک کے خلاف فخر کے اظہار کے طور پر یہ بات نہیں کہہ رہی ہوں۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین! وہ خصوصیات کیا ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: فرشتہ میری تصویر لے کر نازل ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس وقت شادی کی جب میں سات سال کی تھی اور جب میری رخصتی ہوئی تو میں نو سال کی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میں کنواری تھی، آپ نے اس چیز میں کسی کو شریک نہیں بنایا (یعنی آپ نے کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی) اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد کی بیٹی ہوں اور میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئی تھیں حالانکہ قریب تھا کہ امت میری وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو جاتی اور میں نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا ہوا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی اور نے، میرے علاوہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو نہیں دیکھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں ہوا تھا اور فرشتہ قوی ہوا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15308]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (31/22)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15309
وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" وَلِمَ؟" قُلْتُ: لِأُحِبَّ مَا تُحِبَّ، قَالَ:" عَائِشَةُ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیوں؟ میں نے عرض کی: تاکہ میں بھی اس سے محبت رکھوں، جس سے آپ محبت رکھتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15309]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15310
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُّ النِّسَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: عَائِشَةُ، قُلْتُ: فَمِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: أَبُوهَا.رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبدالله بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب خواتین میں سے کون سب سے زیادہ محبوب تھیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: عائشہ، میں نے دریافت کیا: مردوں میں سے کون میں تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: ان کے والد۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15310]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (241/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15311
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكِ؟". قُلْتُ: سَبَّتْنِي فَاطِمَةُ، فَدَعَا فَاطِمَةَ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ، سَبَبْتِ عَائِشَةَ؟". قَالَتْ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" أَلَيْسَ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ؟". قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ:" وَتُبْغِضِينَ مَنْ أُبْغِضَ؟". قَالَتْ: بَلَى قَالَ:" فَإِنِّي أُحِبُّ عَائِشَةَ ; فَأَحِبِّيهَا". قَالَتْ فَاطِمَةُ: لَا أَقُولُ لِعَائِشَةَ شَيْئًا يُؤْذِيهَا أَبَدًا.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کی: فاطمہ نے مجھے برا بھلا کہا: ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: اے فاطمہ! تم نے عائشہ کو برا کہا: ہے، انہوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت رکھتا ہوں؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم اس سے بغض نہیں رکھتی جس سے میں بغض رکھتا ہوں؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں عائشہ سے محبت رکھتا ہوں، تم بھی اس سے محبت رکھو، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گی جو انہیں تکلیف دے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15311]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2661) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4955)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15312
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أُعْطِيتُ سَبْعًا لَمْ يُعْطَهَا نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: كُنْتُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ نَفْسًا، وَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ أَبًا، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي، وَكَانَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ وَأَنَا مَعَهُ فِي لِحَافٍ، وَلَمْ يُفْعَلْ ذَلِكَ بِغَيْرِي، وَكَانَ لِي يَوْمَانِ وَلَيْلَتَانِ وَلِنِسَائِهِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ.
قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: مَتْنٌ ضُعِّفَ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: مجھے سات خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی کو عطا نہیں کی گئی ہیں، میں اپنی ذات کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب لوگوں میں زیادہ محبوب تھی اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی، آپ نے میرے علاوہ اور کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ پر وحی لے کر نازل ہوتے تھے اور میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں موجود ہوتی تھی، سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے علاوہ کسی اور زوجہ کے حوالے سے ایسا نہیں کرتے تھے اور میری باری کے دو دن اور دو راتیں ہوتی تھیں اور دیگر تمام ازواج کے لئے ایک دن اور ایک رات ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ضعیف متن پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15312]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (30/23)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15313
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَوْمَ مَاتَتْ عَائِشَةُ: الْيَوْمَ مَاتَ أَحَبُّ شَخْصٍ كَانَ فِي الدُّنْيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. ثُمَّ قَالَتْ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مَا خَلَا أَبَاهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جس دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو اس دن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آج وہ شخصیت فوت ہو گئی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دنیا میں سب سے زیادہ محبوب تھی، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ سے مغفرت طلب کرتی ہوں البتہ ان کے والد کا معاملہ مختلف ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15313]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (317/23)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15314
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ: بَعَثَ زِيَادٌ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَالٍ وَفَضَّلَ عَائِشَةَ. فَجَعَلَ الرَّسُولُ يَعْتَذِرُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: يَعْتَذِرُ إِلَيْنَا زِيَادٌ! فَقَدْ كَانَ يُفَضِّلُهَا مَنْ كَانَ أَعْظَمُ عَلَيْنَا تَفْضِيلًا مِنْ زِيَادٍ ؛ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
عمرو بن حارث بن مصطلق بیان کرتے ہیں: زیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے پاس مال بھجوایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اضافی چیزیں بھیجوائیں، قاصد نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بارے میں معذرت پیش کی تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: زیاد ہمارے سامنے معذرت پیش کر رہا ہے جب کہ عائشہ کو وہ ہستی زیادہ چیزیں دیا کرتی تھی جو زیاد سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں اور وہ اللہ کے رسول ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15314]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15315
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: إِنِّي أُفَكِّرُ فِي أَمْرِكِ فَأَعْجَبُ! أَجِدُكِ مِنْ أَفْقَهِ النَّاسِ فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُهَا؟ زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنَةُ أَبِي بَكْرٍ. وَأَجِدُكِ عَالِمَةً بِأَيَّامِ الْعَرَبِ وَأَنْسَابِهَا وَأَشْعَارِهَا فَقُلْتُ: وَمَا يَمْنَعُهَا ; وَأَبُوهَا عَلَّامَةُ قُرَيْشٍ؟ وَلَكِنْ أَعْجَبُ أَنِّي وَجَدْتُكِ عَالِمَةً بِالطِّبِّ، فَمِنْ أَيْنَ؟ فَأَخَذَتْ بِيَدِي، فَقَالَتْ: يَا عُرَيَّةُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَثُرَتْ أَسْقَامُهُ، فَكَانَتْ أَطِبَّاءُ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ يَبْعَثُونَ لَهُ، فَتَعَلَّمْتُ ذَلِكَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ: وَكُنْتُ أُعَالِجُهَا لَهُ فَمِنْ ثَمَّ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ أَحْمَدَ قَالَ: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ عُرْوَةَ كَانَ يَقُولُ لِعَائِشَةَ... فَظَاهِرُهُ الِانْقِطَاعُ. وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ: عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَهُوَ مُتَّصِلٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
عروہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ کے بارے میں غور کرتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں، میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ دین کی سمجھ بوجھ ہے، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے، یہ اللہ کے رسول کی اہلیہ ہیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں، پھر میں نے آپ کو پایا کہ آپ عربوں کی تاریخ اور ان کے نسب کی عالمہ ہیں اور ان کی شاعری کی عالمہ ہیں، تو میں نے سوچا کہ اس میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے، ان کے والد قریش کے بڑے صاحب علم تھے، لیکن مجھے اس بات پر حیرانگی ہوتی ہے کہ میں نے آپ کو پایا ہے کہ آپ طب کے بارے میں بھی جانتی ہیں، یہ علم آپ نے کہاں سے حاصل کیا ہے، تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے عریہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر بیمار ہو جاتے تھے تو عربوں اور عجمیوں کے طبیب آیا کرتے تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوا بھجواتے تھے، تو اس سے میں نے یہ چیز سیکھی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: میں ان بیماریوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی اور کہاں سے (علم طب کے بارے میں معلومات) آنی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن معاویہ زبیری ہے ابوحاتم کہتے ہیں یہ مستقیم الحدیث ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے، امام أحمد اور امام طبرانی کے معجم کبیر میں بقیہ رجال ثقہ ہیں، البتہ امام أحمد نے یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے کہ عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہا:، تو بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ سند منقطع ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ کہا: ہے کہ ہشام بن عروہ کے حوالے سے ان کے والد سے یہ بات منقول ہے، تو یہ سند متصل ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15315]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2662) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (182/23) اخرجه احمد فى المسند (67/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15316
وَعَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: هَلْ كَانَتْ عَائِشَةُ تُحْسِنُ الْفَرَائِضَ؟ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مَشْيَخَةَ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَهَا عَنِ الْفَرَائِضِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
مسروق کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے دریافت کیا گیا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو علم وراثت کا بھی پتہ تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے علم وراثت کے بارے میں احکام دریافت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15316]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (181/23)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں