السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
820. جماع أبواب الصلاة بالنجاسة وموضع الصلاة من مسجد وغيره -- باب: إمامة الجنب
نجاست کے ساتھ نماز پڑھنے اور مسجد و غیرہ میں نماز کی جگہ سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: جنبی (جس پر غسل فرض ہو) کی امامت کا بیان
حدیث نمبر: 4072
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: صَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَرْضِنَا، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَى رَبِيعٍ مِنْهَا يَتَوَضَّأُ مِنْهَا فَإِذَا عَلَى فَخِذِهِ احْتِلَامٌ، فَقَالَ: هَذَا الِاحْتِلَامُ عَلَى فَخِذِي لَمْ أَشْعُرْ بِهِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ قَالَ: صِرْتُ وَاللهِ حِينَ أَكَلْتُ الدَّسَمَ وَدَخَلْتُ فِي السِّنِّ يَخْرُجُ مِنِّي مَا لَا أَشْعُرُ بِهِ" وَقَالَ مُحَمَّدٌ: فَمَا أَشْعُرُ بِهِ، وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَعَادَ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَلَمْ يَأْمُرْ أَحَدًا بِإِعَادَةِ الصَّلَاةِ.
مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر میں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سوار ہو کر اپنی زمین کی طرف چلے گئے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک نالے پر بیٹھ کر اس سے وضو کرنے لگے تو ان کی ران پر مَنی لگی ہوئی تھی، وہ فرمانے لگے: یہ میری ران پر مَنی لگی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں، اس کو صاف کر دیا، پھر اللہ کی قسم! جب بھی میں چکنائی والی چیز کھاتا ہوں، میں عمر کے ایسے حصے میں پہنچ گیا ہوں کہ مجھ سے ایسی چیز نکل جاتی ہے اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا۔ پھر آپ نے غسل کیا اور صبح کی نماز دہرائی، لیکن کسی ایک کو بھی نماز لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4072]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4073
أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنِ الشَّرِيدِ الثَّقَفِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَأَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا".
شرید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حالتِ جنابت میں نماز پڑھائی، خود آپ رضی اللہ عنہ نے نماز کو دہرا لیا، لیکن مقتدیوں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4073]
تخریج الحدیث: «حسن۔ دار قطني 1/364»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 4074
وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: وَثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا فَقَالَ:" كَبِرْتُ وَاللهِ إِنِّي لَأَرَانِي جُنُبًا، ثُمَّ لَا أَعْلَمُ، ثُمَّ أَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا" قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ وَلَا أَجِيءُ بِهِ كَمَا أُرِيدُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" وَهَذَا الْمُجْمَعُ عَلَيْهِ: الْجُنُبُ يُعِيدُ وَلَا يُعِيدُونَ مَا أَعْلَمُ فِيهِ اخْتِلَافًا" قَالَ عَلِيٌّ وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ، يَعْنِي فِي رِوَايَتِهِ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، وَلَا أَحْفَظُهُ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.
محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، جب صبح ہوئی تو اپنے کپڑوں میں جنابت کو دیکھا اور فرمانے لگے: میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! میں اپنے آپ کو جنبی خیال کرتا ہوں پھر مجھے معلوم نہیں ہوتا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماز دہرائی اور دوسروں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔
عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ جنبی اپنی نماز دہرائے گا، لیکن دوسرے نماز نہیں دہرائیں گے۔ میں اس میں اختلاف کو نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4074]
عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ جنبی اپنی نماز دہرائے گا، لیکن دوسرے نماز نہیں دہرائیں گے۔ میں اس میں اختلاف کو نہیں جانتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4074]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني 1/364/12»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4075
وَأنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ فَأَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِالْإِعَادَةِ" وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھائی، خود تو نماز دہرائی، لیکن دوسروں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4075]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ عبدالرزاق في الأمالي 1/181/143»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4076
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِجَازِيُّ ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ جُوَيْبِرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الضَّحَاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ هُوَ عَلَى وُضُوءٍ، فَتَمَّتِ لِلْقَوْمِ، وَأَعَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَهَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر وضو کے نماز پڑھائی، قوم کی نماز تو مکمل ہوگئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو دہرایا۔
یہ روایت قوی نہیں ہے اور جو (روایات) گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4076]
یہ روایت قوی نہیں ہے اور جو (روایات) گزر چکی ہیں وہ کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4076]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دار قطني 1191»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4077
وَالَّذِي رُوِيَ فِي مُعَارَضَتِهِ، عَنْ أَبِي جَابِرٍ الْبَيَاضِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ وَأَعَادُوا" وَذَلِكَ فِيمَا أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَطَاءٍ الْجَلَّابُ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي جَابِرٍ الْبَيَاضِيِّ وَهَذَا مُرْسَلٌ وَأَبُو جَابِرٍ الْبَيَاضِيُّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ لَا يَرْتَضِيهِ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَقُولُ: أَبُو جَابِرٍ الْبَيَاضِيُّ كَذَّابٌ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ جنابت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اور لوگوں نے بھی نماز لوٹائی۔
یہ روایت مرسل ہے اور ابوجابر بیاضی متروک الحدیث ہے، امام مالک بن انس اسے پسند نہیں کرتے تھے اور یحییٰ بن معین کہتے تھے: ابوجابر بیاضی بہت جھوٹا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4077]
یہ روایت مرسل ہے اور ابوجابر بیاضی متروک الحدیث ہے، امام مالک بن انس اسے پسند نہیں کرتے تھے اور یحییٰ بن معین کہتے تھے: ابوجابر بیاضی بہت جھوٹا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4077]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 4078
وَالَّذِي أَنْبَأَهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ" صَلَّى بِالْقَوْمِ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَأَعَادُوا" ⦗٥٦٠⦘ فَهَذَا إِنَّمَا يَرْوِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ أَبُو مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ رَمَاهُ الْحُفَّاظُ بِالْكَذِبِ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے خود بھی نماز لوٹائی، پھر انہیں حکم دیا تو انہوں نے بھی اعادہ کیا۔
اس روایت کو صرف عمرو بن خالد ابومخلد واسطی بیان کرتا ہے اور وہ متروک ہے، حفاظ نے اس پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4078]
اس روایت کو صرف عمرو بن خالد ابومخلد واسطی بیان کرتا ہے اور وہ متروک ہے، حفاظ نے اس پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث: «موضوع»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 4079
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ وَكِيعًا فَقَالَ: كَانَ كَذَّابًا فَلَمَّا عَرَفْنَاهُ بِالْكَذِبِ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَانٍ آخَرَ حَدَّثَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ صَلَّى بِهِمْ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ فَأَعَادَ وَأَمَرَهُمْ بِالْإِعَادَةِ".
عاصم بن ضمرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو بغیر وضو کے نماز پڑھائی تو خود بھی نماز دہرائی اور دوسروں کو بھی لوٹانے کا حکم دیا۔
محمد بن عمار کہتے ہیں: میں نے وکیع سے اس (عمرو بن خالد) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ جھوٹا تھا، جب ہم نے اسے جھوٹ کی وجہ سے پہچان لیا تو وہ دوسری جگہ منتقل ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4079]
محمد بن عمار کہتے ہیں: میں نے وکیع سے اس (عمرو بن خالد) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ جھوٹا تھا، جب ہم نے اسے جھوٹ کی وجہ سے پہچان لیا تو وہ دوسری جگہ منتقل ہو گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4079]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 4080
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْفَضْلِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَرْوِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ شَيْئًا قَطُّ.
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حبیب بن ابی ثابت نے عاصم بن ضمرہ سے کبھی کوئی چیز روایت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4080]
حدیث نمبر: 4081
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجِرَاحِيُّ بِمَرْوَ ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ" لَيْسَ فِي الْحَدِيثِ قُوَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ: إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ بِغَيْرِ وُضُوءٍ أَنَّ أَصْحَابَهُ يُعِيدُونَ، وَالْحَدِيثُ الْآخَرُ أَثْبَتَ أَنْ لَا يُعِيدَ الْقَوْمُ، هَذَا لِمَنْ أَرَادَ الْإِنْصَافَ بِالْحَدِيثِ".
ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس شخص کے لیے کوئی قوت موجود نہیں ہے جو یہ کہتا ہے کہ جب امام بغیر وضو کے نماز پڑھا دے تو اس کے ساتھی نماز لوٹائیں گے، اور دوسری حدیث زیادہ ثابت ہے کہ لوگ نماز نہیں لوٹائیں گے۔ یہ اس شخص کے لیے ہے جو حدیث کے ذریعے انصاف چاہتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4081]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح