🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3070. -- باب: الاختيار للزوج أن لا يطلق إلا واحدة
-- باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q14934
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِتَكُونَ لَهُ الرَّجْعَةُ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا وَيَكُونَ خَاطِبًا فِي غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا وَمَتَى نُكِحَتْ بَقِيَتْ لَهُ عَلَيْهَا اثْنَتَانِ مِنَ الطَّلَاقِ، وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ أَنْ يُطَلِّقَ اثْنَتَيْنِ وَلَا ثَلَاثًا لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَبَاحَ الطَّلَاقَ عَلَى أَهْلِهِ وَمَا أَبَاحَ فَلَيْسَ بِمَحْظُورٍ عَلَى أَهْلِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَوْضِعَ الطَّلَاقِ، وَلَوْ كَانَ فِي عَدَدِ الطَّلَاقِ مُبَاحٌ وَمَحْظُورٌ عَلَّمَهُ إِنْ شَاءَ اللهُ إِيَّاهُ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(ایک طلاق اس لیے دے) تاکہ جس عورت سے دخول ہو چکا ہو اس میں اسے رجوع کا حق حاصل رہے، اور جس سے دخول نہ ہوا ہو اس میں وہ (دوبارہ) نکاح کا پیغام دینے والا بن سکے، اور جب بھی اس سے (دوبارہ) نکاح ہو تو اس پر اس کی دو طلاقیں باقی رہیں۔
اور اس پر دو یا تین طلاقیں دینا حرام نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ نے طلاق کو اس کے اہل کے لیے مباح قرار دیا ہے، اور جو چیز اس نے مباح کی ہو وہ اس کے اہل پر ممنوع نہیں ہوتی، اور (اس لیے بھی) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق کا (صحیح) موقع سکھایا، اور اگر طلاق کی تعداد میں کوئی مباح اور کوئی ممنوع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان شاء اللہ انہیں وہ بھی ضرور سکھا دیتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: Q14934]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: نا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا إِذَا طَهُرَتْ أَوْ وَهِيَ حَامِلٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ أَيْضًا بِمَا ⦗٥٣٨⦘.
سالم، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ رجوع کرے، پھر پاک یا حاملہ ہونے کی صورت میں طلاق دے دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14934]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14935
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اللِّعَانِ قَالَ سَهْلٌ: فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْكِتَابِ: فَقَدْ طَلَّقَ عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ مُحَرَّمًا لَنَهَاهُ عَنْهُ، وَقَالَ: إِنَّ الطَّلَاقَ وَإِنْ لَزِمَكَ فَأَنْتَ عَاصٍ بِأَنْ تَجْمَعَ ثَلَاثًا فَافْعَلْ، كَذَا قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي رِوَايَةِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَلَا الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَيْضًا بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ.
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ عویمر عجلانی کے لعان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا کہ اگر میں نے اس کو اپنے نکاح میں باقی رکھا تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ کتاب میں ہے کہ عویمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین طلاقیں دیں۔ اگر طلاق دینا حرام ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے منع فرما دیتے۔ فرماتے ہیں کہ طلاق اگر آپ نے لازم ہی دینی ہے تو تین طلاقیں اکٹھی دینے سے تو آپ گناہ گار ہوں گے، اس طرح کر لیں۔
شیخ فرماتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، اب تمہارا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔“ یہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں نہیں ہے اور تین طلاقیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں نہیں ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سے دلیل لی ہے کہ ابو عامر بن حفص نے اسے تین طلاقیں دے دی تھیں اور ہمیں خبر نہیں ملی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14935]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14936
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أنا أَبُو حَامِدٍ الشَّرْقِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ" وَفِي رِوَايَةِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتَحِمَ فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ.
شعبی رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں، میں ڈرتی ہوں کہ کوئی مجھ پر (گھر میں) گھس آئے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا، وہ وہاں سے چلی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14936]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1480»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14937
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَخْرَمِ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ:" لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَطَلَّقَ رُكَانَةُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهِيَ تَحْتَمِلُ وَاحِدَةً وَتَحْتَمِلُ الثَّلَاثَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِيَّتِهِ وَأَحْلَفَهُ عَلَيْهَا، وَلَمْ نَعْلَمْهُ نَهَى أَنْ يُطَلِّقَ الْبَتَّةَ يُرِيدُ بِهَا ثَلَاثًا، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا.
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت سے کسی دوسرے شخص نے نکاح کرنے کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس سے مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا ہے۔“
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تو اس سے ایک یا تین طلاقوں کا احتمال ہو سکتا ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نیت کے بارے میں سوال کیا اور قسم لی، اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طلاقوں سے منع کیا ہو، اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14937]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14938
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، نا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، نا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ بِمَرَّةٍ مَكْرُوهٌ، فَقَالَ" طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِمَا رَوَاهُ بِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا لَا يَنْكِحُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، قَالَ وَمَا عَابَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ أَنْ يُطَلِّقَ ثَلَاثًا وَلَمْ يَقُلْ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حِينَ طَلَّقْتَ ثَلَاثًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَتِلْكَ الْآثَارُ تَرِدُ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ.
سلمہ بن ابی سلمہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ذکر ہوا کہ تین طلاقیں ایک ہی مرتبہ دینا مکروہ ہے، فرماتے ہیں: حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دیں، ہمیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عیب لگایا ہو اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔
نوٹ: سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: جس نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیں تو وہ دوبارہ اتنی دیر نکاح نہیں کر سکتا، جب تک دوسرا اس سے نکاح کر کے طلاق نہ دے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے اکٹھے تین طلاقیں دینے پر اعتراض نہیں کیا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نہیں فرمایا کہ تم نے تین طلاقیں دے کر برا کام کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14938]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14939
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قُرْءٍ" قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ:" إِذَا طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا كَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟ قَالَ:" كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ وَتَكُونُ مَعْصِيَةً" هَذِهِ الزِّيَادَاتُ الَّتِي أُتِيَ بِهَا عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ لَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، ⦗٥٤١⦘ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ:" وَتَكُونُ مَعْصِيَةً" رَاجِعًا إِلَى إِيقَاعِ مَا كَانَ يُوقِعُهُ مِنَ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ فِي حَالِ الْحَيْضِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی، پھر باقی دو طلاقیں دو حیضوں میں دینے کا ارادہ کیا، بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے اس طرح حکم نہیں دیا، تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ تو طہر کا انتظار کرے اور ہر طہر میں طلاق دے۔“ فرماتے ہیں: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو طلاق دو یا روک لو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں تو کیا میرے لیے رجوع کرنا جائز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ آپ سے جدا ہو جائے گی اور یہ نافرمانی ہے۔“
یہ زیادتیاں عطاء خراسانی سے نقل ہوئی ہیں، کسی دوسرے کی روایت میں نہیں ہیں، اور محدثین نے ان (عطاء) پر کلام کیا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ”اور یہ نافرمانی ہے“ حالتِ حیض میں تین طلاقیں واقع کرنے کی طرف لوٹتا ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14939]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14940
وَهَكَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَا: نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ" وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: إِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ وَعَصَيْتَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا کہ ”پھر طہر تک اسے روکے رکھے، پھر دوسرے حیض کے بعد طہر تک مہلت دے، اگر طلاق دینے کا ارادہ ہو تو حالت طہر میں مجامعت سے پہلے طلاق دے دے، یہ وہ مدت ہے جس کے اندر اللہ رب العزت نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ اور جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ اگر آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ آپ پر حرام ہو گئی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے اور آپ نے اللہ رب العزت کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے عورتوں کو طلاق دینے کے بارے میں دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14940]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14941
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: أَمَّا أَنْتَ لَوْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ لَا رَجْعَةَ فِي الثَّلَاثِ وَإِنَّمَا الرَّجْعَةُ فِي الْمَرَّةِ وَالْمَرَّتَيْنِ يَعْنِي فِي التَّطْلِيقَةِ وَالتَّطْلِيقَتَيْنِ، وَقَوْلُهُ: وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، يَعْنِي حِينَ طَلَّقْتَهَا فِي حَالِ الْحَيْضِ فَيَكُونُ قَوْلُهُ هَذَا رَاجِعًا إِلَى أَصْلِ الْمَسْأَلَةِ، وَأَمَّا التَّفْصِيلُ فَإِنَّهُ لِأَجْلِ إِثْبَاتِ الرَّجْعَةِ وَقَطْعِهَا لَا لِتَعْلِيقِ الْمَعْصِيَةِ بِأَحَدِهِمَا دُونَ الْآخَرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا قَوْلُهُ فِي رِوَايَةِ نَافِعٍ: ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ الِاسْتِبْرَاءِ أَنْ يَكُونَ يَسْتَبْرِئُهَا بَعْدَ الْحَيْضَةِ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا بِطُهْرٍ تَامٍّ ثُمَّ حَيْضٍ تَامٍّ؛ لِيَكُونَ تَطْلِيقُهَا وَهِيَ تَعْلَمُ عِدَّتَهَا الْحَمْلُ هِيَ أَمِ الْحَيْضُ؛ وَلِيَكُونَ يُطَلِّقُ بَعْدَ عِلْمِهِ بِحَمْلٍ وَهُوَ غَيْرُ جَاهِلٍ بِمَا صَنَعَ أَوْ يَرْغَبُ فَيُمْسِكُ لِلْحَمْلِ وَلِيَكُونَ إِنْ كَانَتْ سَأَلَتِ الطَّلَاقَ غَيْرَ حَامِلٍ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُ حَامِلًا، ثُمَّ سَاقَ كَلَامَهُ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّ غَيْرَ نَافِعٍ إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى تَطْهُرَ مِنَ الْحَيْضَةِ ⦗٥٤٢⦘ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ خِلَافَ رِوَايَةِ نَافِعٍ قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ فِي ذَلِكَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مُخْتَلِفَةٌ، فَأَمَّا عَنْ غَيْرِهِ فَعَلَى مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر تم ایک یا دو مرتبہ طلاق دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی کا حکم دیا تھا۔“
(ب) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے: ”رہے تم، اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہی حکم دیا تھا؛ اور اگر تم نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے تم پر حرام ہے اور تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں دیا ہے۔“ یعنی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہے اور رجوع صرف ایک یا دو طلاقوں کے بعد ہوتا ہے۔
اور ان کا قول: «وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ» ”اور آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی“، یعنی جب آپ نے حالتِ حیض میں طلاق دی، تو یہ بات اصل مسئلہ کی طرف لوٹتی ہے، اور (ایک دو اور تین کی) تفصیل رجوع کے ثابت ہونے یا ختم ہونے کے لیے ہے، نافرمانی کو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ خاص کرنے کے لیے نہیں ہے۔
نافع کی روایت: «ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلُهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا» ”پھر وہ اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آئے، پھر اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو جائے“؛ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ اس سے استبراءِ رحم مراد ہو جو ایک مکمل طہر اور مکمل حیض سے ہو تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی عدت وضعِ حمل ہے یا حیض، اور وہ یا تو حمل کا علم ہونے کے بعد طلاق دے یا حمل کی وجہ سے روک لے، اور اگر اس عورت نے حمل نہ ہونے کی حالت میں طلاق کا مطالبہ کیا تھا تو حاملہ ہونے پر وہ اس مطالبے سے رک جائے۔ نافع کے علاوہ دوسرے راوی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ جس حیض میں طلاق دی وہ اس سے پاک ہو جائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14941]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14942
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ قَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، مَعْنَاهُمْ كُلُّهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَمَّا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ" أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ أَوْ أَمْسَكَ".
ابو وائل رحمہ اللہ بھی ان کے ہم معنیٰ روایت نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس کو رجوع کا حکم فرمایا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، اس کے بعد طلاق دینا چاہے یا روکنا چاہے، اس کی مرضی ہے۔“
(ب) نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رجوع کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے، اگر چاہے تو طلاق دے یا روک لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14942]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں