🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
الجامع الكامل میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
الجامع الكامل میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
الجامع الكامل میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
4896. 14- باب قوله: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَى كَوْكَبًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ (76) فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ (77) فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّي هَذَا أَكْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ (78) إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ (79)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق کہ: ”پھر جب ان پر رات کی تاریکی چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا، آپ نے فرمایا: ”یہ میرا رب ہے“، پھر جب وہ غائب ہو گیا تو کہنے لگے: ”میں غائب ہو جانے والوں کو پسند نہیں کرتا“، پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا: ”یہ میرا رب ہے“، پھر جب وہ بھی چھپ گیا تو کہنے لگے: ”اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاتا“، پھر جب سورج کو تابناک دیکھا تو فرمایا: ”یہ میرا رب ہے، یہ تو سب سے بڑا ہے“، پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو پکار اٹھے: ”اے میری قوم! بے شک میں ان تمام چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو، یقیناً میں نے کامل یکسوئی کے ساتھ اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو عدم سے پیدا کیا اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں““۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A392
اختلف المفسرون في هذا المقام، هل هو مقام نظر أو مناظرة؟ فروي عن ابن عباس أنه مقام نظر.وكان ذلك في حال طفولته قبل قيام الحجة عليه، فلم يكن ذلك كفرا.وقال غيره: إنه في مقام مناظرة لقومه مبينا لهم بفلان ما كانوا عليه من عبادة الأصنام والكواكب والشمس والقمر، ومما يؤكد ذلك قوله تعالى: وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ... الآية.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4897. 15- باب قوله: وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ (80)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ: ”اور ان (ابراہیم علیہ السلام) سے ان کی قوم نے بحث و تکرار کی، تو انہوں نے فرمایا: کیا تم اللہ کے متعلق مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے ہدایت سے سرفراز فرمایا ہے؟ اور میں تمہارے ان (خود ساختہ معبودوں) سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اس کا شریک ٹھہراتے ہو، سوائے اس کے کہ میرا رب کچھ چاہے؛ میرے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، تو کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A393
قوله: إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي استثناء منقطع أي أن الله هو النافع والضار لا آلهتكم؛ لأن الله قادر على كل شيء.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4898. 16- باب قوله: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (82)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، انہی کے لیے امن و سلامتی ہے اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں“ (82)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12312
12312- عن عبدالله بن مسعود قال: لما نزلت هذه الآية: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شق ذلك على أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، وقالوا: أينا لم يظلم نفسه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس هو كما تظنون، إنما هو كما قال لقمان لابنه: وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [سورة لقمان:13]
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4629)، ومسلم في الإيمان (124) كلاهما من طريق سليمان الأعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، فذكره.واللفظ لمسلم ولفظ البخاري نحوه.»

الحكم على الحديث: متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4899. 17- باب قوله: وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (84) وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِنَ الصَّالِحِينَ (85) وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ (86) وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (87)
اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں ہے کہ ”اور ہم نے انہیں (ابراہیم علیہ السلام کو) اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو ہدایت سے سرفراز فرمایا، اور ان سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی، اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو (بھی ہدایت بخشی)، اور ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزا دیتے ہیں۔ اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو بھی، یہ سب کے سب صالحین میں سے تھے۔ اور اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی، اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اور ان کے آباء و اجداد، ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی (بعض کو ہدایت دی)، اور ہم نے انہیں (اپنے دین کے لیے) چن لیا اور ان کی صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی فرمائی۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A394
قوله: وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ قد يكون الضمير يعود إلى نوح؛ لأنه أقرب المذكورين، ولا إشكال في أن الناس كلهم من ذرية نوح.وقد يعود إلى إبراهيم؛ لأن سياق الكلام يدل على ذلك. ولكن يشكل على ذلك أمران.
أحدهما: قوله: وَلُوطًا ولوط عليه السلام ليس من ذرية إبراهيم، وإنما هو لوط بن هاران أخي إبراهيم. (التكوين:27:11) .
فيقال: إنه دخل تغليبا كما في قوله تعالى: أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَكَ وَإِلَهَ آبَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ [سورةالبقرة:133] .
فإسماعيل عمه، ودخل في آبائه تغليبا.
والثاني: ذكر عيسى في ذرية إبراهيم؛ لأنه ولد من مريم بدون أب.
ويجاب بأن ولد البنات من ذرية الرجال، كقول النبي صلى الله عليه وسلم للحسن بن علي: إنّ ابني هذا سيد، ولعل الله أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين.رواه البخاري (2704) عن أبي بكرة.
وأم عيسى كانت من نسل داود، وهو من ذرية إبراهيم.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4900. 18- باب قوله: أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَى لِلْعَالَمِينَ (90)
”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت عطا فرمائی، پس آپ بھی ان کی ہدایت (اور نقشِ قدم) کی پیروی کیجیے؛ آپ فرما دیجیے کہ میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، یہ تو تمام جہان والوں کے لیے محض ایک نصیحت ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12313
12313- عن مجاهد أنه سأل ابن عباس: أفي ص سجدة؟ فقال: نعم، ثم تلا: وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ إلى قوله فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ [سورة الأنعام:84-90] ثم قال: هو منهم.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في التفسير (4632) عن إبراهيم بن موسى، أخبرنا هشام، أن ابن جريج أخبرهم قال: أخبرني سليمان الأحول، عن مجاهد فذكره.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4901. 19- باب قوله: وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَمَا نَرَى مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَا كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ (94)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ ”اور بلاشبہ تم ہمارے پاس تنِ تنہا آ پہنچے ہو جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، اور جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی نہیں دیکھ رہے جن کے بارے میں تم یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تمہارے معاملے میں (خدا کے) شریک ہیں؛ یقیناً تمہارے آپس کے تعلقات منقطع ہو گئے اور وہ سب دعوے تم سے گم ہو کر رہ گئے جو تم کیا کرتے تھے۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12314
قوله: وَتَرَكْتُمْ مَا خَوَّلْنَاكُمْ أي أعطيناكم، وأنعمنا به عليكم من المال والخدم.
وقوله: وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ أي في الدنيا. وقد جاء في الصحيح:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12314
12314- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يقول العبد: مالي مالي، إنما له من ماله ثلاث: ما أكل فأفنى، أو لبس فأبلى، أو أعطى فأمضى، وما سوى ذلك فهو ذاهب وتاركه للناس.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه مسلم في الزهد (2959) عن سويد بن سعيد، حدثني حفص بن ميسرة، عن العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة فذكره.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4902. 20- باب قوله: قَدْ جَاءَكُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّكُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ (104) وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (105)
اللہ عزوجل کے اس ارشادِ گرامی کے بیان میں ہے کہ ”تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرت کے روشن دلائل آ چکے ہیں، سو جس نے بصیرت سے کام لیا تو اس نے اپنے ہی فائدے کے لیے دیکھا اور جو حق سے اندھا بنا رہا تو اس کا وبال اسی کی ذات پر ہے، اور میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔ اور اسی طرح ہم آیات کو مختلف پیرایوں میں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ (منکرین) یہ کہیں کہ آپ نے (یہ سب کسی سے) پڑھ لیا ہے اور تاکہ ہم اس (قرآن) کو ان لوگوں کے لیے پوری طرح واضح کر دیں جو علم و دانش رکھتے ہیں۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A395
قوله: بَصَائِرُ هي البينات والحجج التي اشتمل عليها القرآن.
وقوله: دَرَسْتَ بسكون السين، من الدرس وهو العلم.يعني يا محمد! أنت تعلمت من أهل الكتاب.
وروي عن ابن عباس أنه قرأ: وَلِيَقُولُوا دَارَسْتَ وهي قراءة متواترة، ومعناها: دارست أهل الكتاب، وقرأت الكتب وتعلمتها.
كما قال المشركون من قبل أنّ بشرا يُعلّم محمدا. وقد أخبر الله عن مقالتهم وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ [سورة النحل:103]
يعني لما قال المشركون إن هذا العلم الذي عند محمد يأتيه من العجم من الفرس، ردَّ الله تعالى عليهم بقوله: وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُبِينٌ وكذلك يرد الله على هؤلاء بقوله: وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ أي أن هذا العلم ليس من أهل الكتاب، ولا من العجم، وإنما وحيٌ من عند الله، نوضّح ذلك لقوم من أهل الكتاب خاصة، ولغيرهم عامة.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4903. 21- باب قوله: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (108)
”اور (اے مسلمانو!) تم انہیں برا بھلا نہ کہو جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، ورنہ وہ جہالت کی بنا پر حد سے تجاوز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کریں گے؛ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کے لیے ان کے اعمال کو دیدہ زیب بنا دیا ہے، پھر ان سب کو اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، سو وہ انہیں ان تمام کاموں سے باخبر کر دے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔ (108)“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: A396
نهى الله رسوله والمؤمنين عن سب آلهة المشركين مع أنها شجر وحجر، لا قيمة لها، ولكن فيه مفسدة عظيمة، وهي أنهم يسبون الله تعالى الذي لا إله إلا هو.
روي عن ابن عباس قال: قالوا: يا محمد! لتنتهين عن سبّ آلهتنا أو لنهجونّ ربك.فنهاهم الله أن يسبّوا أوثانهم، فيسبوا الله عدوا بغير علم.

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4904. 22- باب قوله: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ (112)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشادِ گرامی کے متعلق کہ ”اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنا دیا ہے جو ایک دوسرے کے دل میں دھوکہ دہی کی خاطر ملمع سازی پر مبنی خوشنما باتیں ڈالتے رہتے ہیں، اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کر پاتے، لہٰذا آپ انہیں اور ان کی اس بہتان تراشی کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔“
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12314
يعني يا محمد! إن كان لك أعداء يخالفونك ويعادونك، فقد كان لكل نبي من قبلك أيضا أعداء، فلا تحزن.وجاء في الصحيح:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں