السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
230. -- باب: الجنب يكفيه التيمم إذا لم يجد الماء
-- باب: جنبی کو پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کا کافی ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1037
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، أنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَلَيْسَ هُوَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُسَافِرِ {وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا} [النساء: ٤٣] ، قَالَ:" إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ تَيَمَّمَ وَصَلَّى حَتَّى يُدْرِكَ الْمَاءَ، فَإِذَا أَدْرَكَ الْمَاءَ اغْتَسَلَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت ﴿وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا﴾ [سورة النساء: 43] مسافر کے متعلق نازل ہوئی، اور انہوں نے فرمایا: ”جب کوئی شخص جنبی ہو جائے اور وہ پانی نہ پائے تو تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ جب پانی مل جائے تو غسل کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
231. -- باب: ما روي في الحائض والنفساء أيكفيهما التيمم عند انقطاع الدم إذا عدمتا الماء
-- باب: حائضہ اور نفاس والی عورت کے متعلق وارد شدہ احادیث کا بیان کہ خون بند ہونے پر پانی نہ ملنے کی صورت میں کیا ان کے لیے تیمم کافی ہے
حدیث نمبر: 1038
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ⦗٣٣٣⦘ الثَّوْرِيَّ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ فِي الرَّمْلِ وَفِينَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَاءُ فَيَأْتِي عَلَيْنَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لَا نَجْدِ الْمَاءَ، قَالَ:" عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ" يَعْنِي التَّيَمُّمَ. هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِالْمُثَنَّى ابْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرٍو، وَالْمُثَنَّى غَيْرُ قَوِّيٍّ، وَقَدْ رَوَاهُ الْحَجَّاجُ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي الْإِسْنَادِ، فَرَوَاهُ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَاخْتَصَرَ الْمَتْنَ فَجَعَلَ السُّؤَالَ عَنِ الرَّجُلِ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُجَامِعُ أَهْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: ہم ریت (والے علاقے) میں تھے اور ہم میں حائضہ، جنبی اور نفاس والی عورتیں موجود تھیں۔ ہم پر چار ماہ ایسے آئے کہ ہم نے پانی نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑتے یعنی تیمم کرتے۔“
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی «عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ» . اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1038]
(ب) اس حدیث میں مثنی راوی قوی نہیں ہے۔ (ج) یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے بیان کی ہے۔ صرف سند میں اختلاف ہے یعنی «عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ» . اس میں اس شخص کے متعلق سوال ہے جس کے پاس پانی نہ ہو، کیا وہ اپنی بیوی سے مجامعت کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1038]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أبو يعليٰ 5870»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1039
وَرَوَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابًا أَتَوِا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَكُونُ فِي هَذِهِ الرِّمَالِ لَا نَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ، وَلَا نَرَى الْمَاءَ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ أوْ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ - شَكَّ أَبُو الرَّبِيعِ - وَفِينَا النُّفَسَاءُ وَالْحَائِضُ وَالْجُنُبُ، قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَرْضِ". أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، فَذَكَرَهُ. وَأَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم ریت والے علاقے میں ہوتے ہیں، ہم پانی پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ ہی تین ماہ یا چار ماہ تک پانی پاتے ہیں (ابو ربیع کو شک ہے) اور ہمارے اندر نفاس والی عورتیں، حائضہ اور جنبی ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین (مٹی) کو لازم پکڑو۔“
(ب) ابو ربیع سمان ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1039]
(ب) ابو ربیع سمان ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1039]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 1040
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرَفيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ أَبَا الرَّبِيعِ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الرَّجُلِ يَعْزُبُ فِي إِبِلِهِ، فَقَالَ سُفْيَانُ: إِنَّمَا جَاءَ بِهَذَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَإِنَّمَا قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ يَقُولُهُ قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ شُعْبَةَ رَوَاهُ هَكَذَا عَنْ جَابِرٍ، فَقَالَ: إِنَّ شُعْبَةَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْحِفْظِ وَالصِّدْقِ وَلَمْ يَكُنْ مِمَّنْ يُرِيدُ الْبَاطِلَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ عَمْرٍو، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ.
علی (بن عبداللہ) کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے کہا: ابو ربیع نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق روایت کیا ہے جو اپنے اونٹوں میں (پانی سے) دور رہتا تھا۔ سفیان نے کہا: یہ روایت تو صرف مثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے بیان کی ہے، عمرو بن دینار نے تو صرف یہ کہا تھا: میں نے جابر بن زید کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ علی کہتے ہیں کہ میں نے سفیان سے کہا کہ شعبہ نے اس طرح جابر (بن زید) سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: شعبہ حفاظ اور اہل صدق میں سے ہے، اس کی مراد باطل نہ تھی۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ابن ابی عروبہ سے بھی عمرو بن دینار، ابن مسیب اور ابوہریرہ کے واسطے سے بیان کیا گیا ہے، حالانکہ ابن ابی عروبہ نے اسے ابو ربیع ہی سے سنا ہے، اور یہ ایک دوسری ضعیف سند سے بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1040]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن عدي في الكامل 1/378»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1041
أَخْبَرَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْخَلِيلِ الصُّوفِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ الرَّبِيعِ، ثنا عَمْرُو بْنُ شَبَّةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الْأَفْطَسُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ الْأَعْرَابُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالُوا: إِنَّا نَكُونُ بِالرَّمْلِ، وَإِنَّا نَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ الشَّهْرَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَفِينَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فَقَالَ:" عَلَيْكُمْ بِالتُّرَابِ". عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَمَةَ الْأَفْطَسُ ضَعِيفٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ہم ریت والی جگہ میں ہوتے ہیں اور ہم پانی سے دو تین ماہ دور رہتے ہیں اور ہمارے اندر جنبی اور حائضہ ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑو۔“
عبداللہ بن سلمہ افطس ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1041]
عبداللہ بن سلمہ افطس ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1041]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جدًا أخرجه ابن عدي 4/196»
الحكم على الحديث: ضعيف
232. -- باب: الرجل يعزب عن الماء ومعه أهله فيصيبها إن شاء، ثم يتيمم
-- باب: اس آدمی کا بیان جو پانی سے دور ہو اور اس کی بیوی اس کے ساتھ ہو، تو اگر چاہے اس سے صحبت کرے اور پھر تیمم کر لے
حدیث نمبر: 1042
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَهَمَّنِي دِينِي فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ فَقَالَ لِيَ: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ".
ابو قلابہ رحمہ اللہ بنی عامر قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو میرے دین نے مجھے فکر میں ڈال دیا، میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: مدینہ کی آب و ہوا کو میں نے اپنے لیے ناموافق پایا، مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ اور بکریوں کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا دودھ پیو۔“ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، میں جنبی ہو گیا تو میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، میں دوپہر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ میں نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میری بیوی میرے ساتھ تھی، میں جنبی ہو گیا۔ میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، سیاہ رنگ کی لونڈی برتن لے کر آئی جس میں پانی چھلک رہا تھا۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں پردہ کیا اور غسل کیا، پھر میں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تجھے دس سال بھی پانی نہ ملے۔ جب پانی مل جائے تو اسے اپنے جسم پر ڈالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 333»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1043
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُصِيبُ أَهْلَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". وَمِثْلُ هَذَا بِالشَّوَاهِدِ يَقْوَى وَحَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّابِتُ عَنْهُمَا شَاهِدٌ لِهَذَيْنِ.
عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”کوئی شخص کسی دور جگہ میں ہو جہاں پانی نہ ہو تو کیا وہ اپنی بیوی سے جماع کرلے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
اس جیسی روایت شواہد سے قوی ہو جاتی ہے، اور سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی حدیث، جو ان سے ثابت ہے، ان دونوں روایات کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1043]
اس جیسی روایت شواہد سے قوی ہو جاتی ہے، اور سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی حدیث، جو ان سے ثابت ہے، ان دونوں روایات کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه احمد 2/225»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي أَفَأُصِيبُ مِنْهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ أَشْهُرٌ فَقَالَ:" وَإِنْ مَكَثْتَ ثَلَاثَ سِنِينَ". يُقَالُ عَمُّهُ حَكِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النُّمَيْرِيُّ.
معاویہ بن حکیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں پانی سے دور ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میری اہلیہ ہوتی ہے، کیا میں اس سے جماع کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کئی مہینے غائب رہتا ہوں (یعنی گھر سے باہر رہتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ تو تین سال بھی رہے۔“ اس کے چچا کا نام حکیم بن معاویہ نمیری رضی اللہ عنہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1045
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ أَصَابَ مِنْ جَارِيَتِهِ، وَأَنَّهُ تَيَمَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ وَهُوَ مُتَيَمِّمٌ". ⦗٣٣٥⦘ وَأَمَّا غَسْلُ الْفَرْجِ وَالْكَلَامُ فِي رُطُوبَةِ فَرْجِ الْمَرْأَةِ فَقَدْ نَقَلْنَاهُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ فِي بَابِ الْأَنْجَاسِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی لونڈی کے پاس گئے، پھر انہوں نے تیمم کیا اور تیمم کی حالت میں ہی نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1/36»
الحكم على الحديث: صحيح
233. -- باب: غسل الجنب ووضوء المحدث إذا وجد الماء بعد التيمم
-- باب: تیمم کے بعد پانی مل جانے پر جنبی کے غسل کرنے اور بے وضو شخص کے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا سِرْنَا لَيْلَةً حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا فِي تِلْكَ الْوَقْعَةِ وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، قَالَ: فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، وَكَانَ أوْلُ مَنِ اسْتَيْقِظَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ - يُسَمِّيهِمْ عَوْفٌ - ثُمَّ كَانَ الرَّابِعُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقِظْهُ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الْمُسْتَيْقِظُ لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا كَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ: فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ شَكَوْنَا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَنَا فَقَالَ:" لَا ضَيْرَ" - أَوْ" لَا ضَرَرَ" شَكَّ عَوْفٌ - فَقَالَ:" ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَنَزَلَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَنَادَى بِالصَّلَاةِ وَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءٌ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ" قَالَ: فَسَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ، قَالَ: فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا يُسَمِّيهِ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا، وَقَالَ:" اذْهَبَا فَابْتَغِيَا لَنَا الْمَاءَ فَانْطَلَقَا فَإِذَا هُمَا بِامْرَأَةٍ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، قَالَ: فَقَالَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةِ وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: يَعْنِي عِطَاشٌ، قَالَ: فَقَالَا لَهَا انْطَلِقِي إِذًا، فَقَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ فَقَالَا: إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: هُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ، قَالَ: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ فَانْطَلِقِي، قَالَ: فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ فَاسْتَنْزَلَهَا، عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ فَمَضْمَضَ فِي الْمَاءِ فَأَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ وَالسَّطِيحَتَيْنِ، ثُمَّ أوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:" اشْرَبُوا وَاسْتَقُوا" فَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ وَشَرِبَ مَنْ شَاءَ، قَالَ: وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ" وَهِيَ قَائِمَةٌ تُبْصِرُ مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللهِ مَا أَقْلَعَ عَنْهَا حِينَ أَقْلَعَ وَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَمْلَأُ مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا ⦗٣٣٦⦘ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْمَعُوا لَهَا فَجَمَعُوا لَهَا مِنْ بَيْنِ دَقِيقِهِ وَسَوِيقِهِ حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبِهَا فَحَمَلُوهُ وَوَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعْلَمِينَ وَاللهِ أَنَّا مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا وَلَكِنَّ اللهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا" قَالَ: فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهَا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ؟ قَالَتْ: الْعَجَبُ، أَتَانِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الصَّابِئِ فَفَعَلَ بِمَائِي كَذَا وَكَذَا الَّذِي كَانَ، فَوَاللهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللهِ حَقًّا، قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ عَمْدًا يَدَعُونَكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَأَطَاعُوهَا فَجَاءُوا جَمِيعًا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ" مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں ساری رات چلے، رات کے آخری حصے میں ہم منزل پر پہنچے، ہم پڑاؤ کے لیے ٹھہر گئے اور مسافر کے لیے اس سے میٹھی کوئی چیز نہیں ہوتی، ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا، جو سب سے پہلے بیدار ہوا وہ فلاں اور فلاں تھا (عوف رحمہ اللہ نے ان کا نام بھی لیا ہے)، پھر چوتھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بھی بیدار نہیں کرتا تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی بیدار ہوتے تھے، اس لیے کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں کیا نئی بات ہوتی تھی، راوی کہتا ہے: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور دیکھا جو لوگوں کو معاملہ پیش آیا تو وہ ایک قوی (مضبوط) آدمی تھے، انہوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی، وہ تکبیر کہتے رہے اور اپنی آواز بلند کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کی آواز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعے کی شکایت کی جو ہمیں پیش آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نقصان کی بات نہیں“ (عوف رحمہ اللہ کو شک ہے کہ «ضَيْرَ» ”نقصان“ کے الفاظ کہے یا «ضَرَرَ» ”نقصان“ کے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوچ کرو“، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کیا اور تھوڑی دیر چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پانی منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی اور لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تجھے کس چیز نے روکا تھا کہ تو لوگوں کے ساتھ نماز پڑھتا؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہو گیا تھا اور پانی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی کو لازم پکڑ وہ تجھے کافی ہے“، راوی کہتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے، لوگوں نے پیاس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو بلایا (عوف رحمہ اللہ نے ان کا نام بھی لیا ہے) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ”تم دونوں جاؤ ہمارے لیے پانی تلاش کرو“، وہ دونوں چلے تو اچانک ایک ایسی عورت کے پاس پہنچے جو اپنے اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان (سوار) تھی، ان دونوں نے پوچھا: پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: کل اس وقت پانی کے گھاٹ کو میں نے چھوڑا تھا اور ہماری جماعت پیچھے ہے، عبدالوہاب کہتے ہیں: یعنی وہ پیاسے ہیں، ان دونوں نے اس سے کہا: تم ہمارے ساتھ آؤ، اس نے کہا: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، اس نے کہا: کیا یہ وہی ہے جس کو صابی کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہی جو تو مراد لے رہی ہے، وہ دونوں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے آئے اور انہوں نے اس کی باتیں بیان کیں اور اس کو اونٹ سے اتارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا، پانی میں کلی کی اور دوبارہ اس کو مٹکوں میں لوٹا دیا، پھر ان کے منہ کو بند کر دیا اور اس کے پانی کے نکلنے کے سوراخ کو کھول دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”پیو اور پلاؤ“ تو جس نے چاہا پیا اور جس نے چاہا پلایا اور آخر میں جس شخص کو جنابت تھی اس کو ایک برتن میں پانی دیا اور فرمایا: ”اپنے بدن پر اس پانی کو بہاؤ“، وہ عورت اس کیفیت کو دیکھ رہی تھی اور اپنے پانی کے ساتھ ہونے والی حالت کو بھی دیکھ رہی تھی، راوی کہتا ہے: اللہ کی قسم! جب اس نے ضرورت کے مطابق پانی استعمال کر لیا تو ہمیں یہی دکھائی دیتا تھا کہ وہ مٹکے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس عورت کے لیے کچھ کھانے پینے کی اشیاء جمع کرو“ تو انہوں نے اس کے لیے آٹا اور ستو جمع کر کے اس کے لیے کھانے کا سامان تیار کر دیا اور اس کھانے کو کپڑے میں ڈال کر اس کے سامنے رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کو مخاطب کر کے فرمانے لگے: ”اللہ کی قسم! تو جانتی ہے تیرے پانی کو ہم نے کم نہیں کیا لیکن اللہ نے ہم کو پلایا ہے“، یہ عورت اپنے علاقے میں کچھ دیر سے پہنچی تو اہل قبیلہ نے کہا: کس چیز نے تجھے دیر کروائی؟ تو اس عورت نے حیرت زدہ ہو کر کہا: دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے اس صابی (نعوذ باللہ) کے پاس لے گئے، پھر اس عورت نے سارا واقعہ سنایا اور کہنے لگی: اللہ کی قسم! یہ اس علاقے میں سب سے بڑا جادوگر ہے یا سچا رسول ہے، راوی کہتا ہے: بعد میں مسلمان ان کے علاقے کے ارد گرد مشرکین پر حملہ کرتے تھے تو ان کے علاقے کو ہاتھ تک نہ لگاتے تھے، تو اس عورت نے قبیلے والوں سے کہا: یہ قوم جان بوجھ کر تم کو چھوڑتی ہے، کیا تم کو پسند نہیں کہ تم مسلمان ہو جاؤ؟ پس وہ قوم اس کی بات مان کر تمام کے تمام مسلمان ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 1046]