السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. -- باب إزالة النجاسات بالماء دون سائر المائعات
-- دیگر بہنے والی اشیاء کے بجائے صرف پانی سے نجاستیں دور کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 40
مَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، نا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ:" إِذَا حَكَّ أَحَدُكُمْ جِلْدَهُ فَلَا يَمْسَحْهُ بِرِيقِهِ فَإِنْهُ لَيْسَ بِطَاهِرٍ". قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: امْسَحْهُ بِمَاءٍ، وَإِنَّمَا أَرَادَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ الرِّيقَ لَا يُطَهِّرُ الدَّمَ الْخَارِجَ مِنْهُ بِالْحَكِّ. ⦗٢٢⦘ وَأَمَّا حَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" يَا عَمَّارُ، مَا نُخَامَتُكَ وَلَا دُمُوعُ عَيْنَيْكَ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ الْمَاءِ الَّذِي فِي رِكْوَتِكَ. إِنَّمَا تَغْسِلُ ثَوْبَكَ مِنَ الْبَوْلِ، وَالْغَائِطِ، وَالْمَنِيِّ، وَالدَّمِ، وَالْقَيْءِ" فَهَذَا بَاطِلٌ لَا أَصْلَ لَهُ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ.
سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی جلد کو کھرچے تو خشک منی کو نہ چھوئے، کیونکہ وہ ناپاک ہے۔
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ کھرچنا اس خون (کی جگہ) کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عمار! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو، تو اپنے کپڑے کو صرف بول و براز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔“
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے: ثابت بن حماد عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابلِ حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
(ب) راوی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ابراہیم رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا: اسے پانی کے ساتھ دھو ڈال۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کی مراد یہ ہے کہ کھرچنا اس خون (کی جگہ) کو پاک نہیں کرتا۔ واللہ اعلم۔
(ج) رہی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عمار! تیری بلغم اور آنسو اس پانی کی طرح ہیں جو تیرے ڈول میں ہو، تو اپنے کپڑے کو صرف بول و براز، منی، خون اور قے سے دھوئے گا۔“
یہ حدیث موضوع ہے، اس کی اصل کوئی نہیں۔ اس کی سند کچھ اس طرح ہے: ثابت بن حماد عن علی بن زید عن ابن المسیب عن عمار۔
علی بن زید قابلِ حجت نہیں اور ثابت بن حماد حدیث گھڑنے میں تہمت زدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «حسن أخرجه الخطيب في تاريخ بغداد 9/168»
الحكم على الحديث: حسن أخرجه الخطيب في تاريخ بغداد 9/168
12. جماع أبواب الأواني -- باب في جلد الميتة
برتنوں کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 41
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ".
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھا گیا، اس میں تھا کہ ”تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي 1729»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 42
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ ⦗٢٣⦘ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ" أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ".
سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم پر جہینہ نامی جگہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھا گیا اور میں اس وقت نوجوان تھا، اس میں لکھا تھا کہ ”تم مردہ جانور کے چمڑے سے فائدہ نہ اٹھاؤ اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداؤد 4127»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 43
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ثنا الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَأُنَاسٌ مَعَهُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ - قَالَ الْحَكَمُ: فَدَخَلُوا وَقَعَدْتُ عَلَى الْبَابِ - فَخَرَجُوا إِلِيَّ فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُكَيْمٍ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى جُهَيْنَةَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ" أَلَّا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَقَدْ قِيلَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ: قَبْلَ وَفَاتِهِ بِأَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَقِيلَ: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ آئے تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک مہینہ پہلے جہینہ قبیلہ والوں کو لکھا کہ ”تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سند سے بھی وارد ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے چالیس دن پہلے یہ خط لکھا۔ سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے قبیلے جہینہ کے مشائخ نے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خط لکھا، ان شاء اللہ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 43]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دوسری سند سے بھی وارد ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے چالیس دن پہلے یہ خط لکھا۔ سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے قبیلے جہینہ کے مشائخ نے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خط لکھا، ان شاء اللہ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 43]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابو داؤد 4127»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 44
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا يَعْنى يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ: حَدِيثُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ: جَاءَنَا كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَلَّا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ" فِي حَدِيثِ ثِقَاتِ النَّاسِ، حَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ:" أَلَّا تَنْتَفِعُوا". قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِهِ أَبُو زَكَرِيَّا رَحِمَهُ اللهُ: تَعْلِيلَ الْحَدِيثِ بِذَلِكَ وَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى مَا قَبْلَ الدَّبْغِ بِدَلِيلِ مَا هُوَ أَصَحُّ مِنْهُ فِي الْأَبْوَابِ الَّتِي تَلِيهِ.
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ”ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا (جس میں لکھا تھا) کہ تم مردار کے چمڑے سے نفع حاصل نہ کرو اور نہ ہی اس کے پٹھوں سے فائدہ اٹھاؤ“، ایک اور قوی سند کے ساتھ ہمارے اصحاب نے ہم کو بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا: ”تم نفع نہ اٹھاؤ۔“
شیخ ابو زکریا رحمہ اللہ اسی حدیث کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ چمڑا رنگنے سے پہلے پر محمول ہے۔ اس کی دلیل اگلے ابواب میں صحیح (اسناد سے) وارد احادیث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 44]
شیخ ابو زکریا رحمہ اللہ اسی حدیث کی علت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ چمڑا رنگنے سے پہلے پر محمول ہے۔ اس کی دلیل اگلے ابواب میں صحیح (اسناد سے) وارد احادیث ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نصب الرايه 1/115»
الحكم على الحديث: صحيح
13. -- باب طهارة جلد الميتة بالدبغ
-- باب: دباغت کے ذریعے مردار کے چمڑے کے پاک ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 45
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، نا أَبُو سَعِيدٍ ⦗٢٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، فَقَالَ:" أَلَا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ، فَانْتَفَعُوا بِهِ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهَا مَيْتَةٌ؟ قَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام کی مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتارا، تم اس کو رنگتے اور نفع حاصل کرتے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اس کا (گوشت) کھانا حرام ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 45]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 363»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 46
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَقَالَ:" أَلَا نَزَعْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ، وَانْتَفَعْتُمْ بِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحُمَيْدِيِّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا قَالَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ مَيْمُونَةَ. فَإِذَا وَقَفَ عَلَيْهِ قَالَ: هُوَ عَنْ مَيْمُونَةَ. وَقِيلَ لَهُ: فَإِنَّ مَعْمَرًا لَا يَقُولُ فِيهِ: فَدَبَغُوهُ، وَيَقُولُ: كَانَ الزُّهْرِيُّ يُنْكِرُ الدِّبَاغَ؟ فَقَالَ سُفْيَانُ: لَكِنِّي أَنَا أَحْفَظُ فِيهِ. وَفِي الْحَدِيثِ الْآخَرِ حَدِيثِ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ وَغَيْرُهُمْ، فَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ فَدَبَغُوهُ. وَقَدْ حِفْظَهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَالزِّيَادَةُ مِنْ مِثْلِهِ مَقْبُولَةٌ إِذَا كَانَتْ لَهَا شَوَاهِدُ، وَقَدْ تَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، وَالزُّبَيْدِيُّ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُمْ، وَهُوَ فِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت میں یہ الفاظ ہیں: «أَلَا نَزَعْتُمْ إِهَابَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ وَانْتَفَعْتُمْ بِهِ» ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتارا، پھر اس کو رنگ لیتے اور نفع حاصل کرتے۔“
سفیان رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا اور بعض جگہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ معمر رحمہ اللہ «فَدَبَغُوهُ» کا لفظ ذکر نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ امام زہری رحمہ اللہ دباغت کا انکار کرتے تھے تو سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے (یہ حدیث) ان سے زیادہ یاد ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ سے ایک کثیر جماعت نے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے دباغت کا ذکر نہیں کیا، بلکہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے (دباغت کا) ذکر کیا ہے اور جب شواہد موجود ہوں تو ثقہ کی زیادتی مقبول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 46]
سفیان رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا اور بعض جگہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہیں۔ ان سے کہا گیا کہ معمر رحمہ اللہ «فَدَبَغُوهُ» کا لفظ ذکر نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ امام زہری رحمہ اللہ دباغت کا انکار کرتے تھے تو سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے (یہ حدیث) ان سے زیادہ یاد ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ سے ایک کثیر جماعت نے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے دباغت کا ذکر نہیں کیا، بلکہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے (دباغت کا) ذکر کیا ہے اور جب شواہد موجود ہوں تو ثقہ کی زیادتی مقبول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 46]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدارقطني 1/44»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 47
كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا ⦗٢٥⦘ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَيْمُونَةَ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ أَخَذُوا إِهَابَهَا، فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ. وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَلَمْ يَذْكُرُوا لَفْظَ الدِّبَاغِ فِي الْحَدِيثِ. وَقَدْ حَفِظَهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَتَابَعَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”تم اس کا چمڑا اتار لیتے، پھر اس کو رنگتے اور اس سے نفع حاصل کرتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 47]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه حميدي315»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 48
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَهْلِ شَاةٍ مَاتَتْ:" أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا فَدَبَغْتُمُوهُ، فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ". وَهَكَذَا رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُطْلَقًا دُونَ ذِكْرِ الدِّبَاغِ فِيهِ. وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ شَاهِدٌ لِصِحَّةِ حِفْظِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَمَنْ تَابَعَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا جن کی بکری مر گئی تھی: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا اور تم اس کو رنگتے، پھر اس سے فائدہ اٹھاتے۔“
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس میں دباغت کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 48]
(ب) سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس میں دباغت کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 48]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 364»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 49
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، قَالَا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ وَعْلَةَ، يَرْوِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَقَدِ اتَّفَقَ الْكُلُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى ذِكْرِ الدِّبَاغِ فِيهِ، فَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ⦗٢٦⦘ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، بِمَعْنَاهُ وَرَوَاهُ أَبُو الْخَيْرِ الْيَزَنِيُّ، عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ بِمَعْنَاهُ، وَرَوَاهُ أَخُو سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چمڑا رنگ دیا جائے وہ پاک ہوجاتا ہے۔“
(ب) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تمام رواۃ اس حدیث میں دباغت کے ذکر پر متفق ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 49]
(ب) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تمام رواۃ اس حدیث میں دباغت کے ذکر پر متفق ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 49]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي 4241»
الحكم على الحديث: صحيح