السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. -- باب اشتراط الدباغ في طهارة جلد ما لا يؤكل لحمه وإن ذكي
-- باب: جس جانور کا گوشت نہیں کھایا جاتا اسے شرعی طور پر ذبح کیے جانے کے باوجود اس کا چمڑا پاک ہونے کے لیے دباغت کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 70
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" دِبَاغُ الْأَدِيمِ ذَكَاتُهُ" وَفِي قِصَّةِ الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ فِي جِلْدِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ. وَفِي طُرُقِهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالذَّكَاةِ طَهَارَتُهُ. وَفِي رِوَايَةِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ فَقَالَتْ: مَا عِنْدِي إِلَّا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيِّتَةٍ. فَقَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا". قَالَتْ: بَلَى. قَالَ:" فَإِنَّ ذَكَاتَهَا دِبَاغُهَا".
(الف) سیدنا سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چمڑے کو رنگ دینا اس کا پاک کرنا ہے۔“
اس حدیث میں حلال جانوروں کی کھال کے پاک ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ «ذَكَاة» سے مراد طہارت ہے۔
(ب) معاذ بن ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے پانی مانگا تو اس نے کہا: میرے پاس مردار کے چمڑے کا بنا ہوا مشکیزہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے رنگا نہیں تھا؟“ اس عورت نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پاک کرنا اس کا رنگنا ہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 70]
اس حدیث میں حلال جانوروں کی کھال کے پاک ہونے کا ذکر ہے۔ اس کے طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ «ذَكَاة» سے مراد طہارت ہے۔
(ب) معاذ بن ہشام رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے پانی مانگا تو اس نے کہا: میرے پاس مردار کے چمڑے کا بنا ہوا مشکیزہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے رنگا نہیں تھا؟“ اس عورت نے کہا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پاک کرنا اس کا رنگنا ہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 70]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الدار قطني 1/45»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 71
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ أَنْ تُفْرَشَ". كَذَا أَخْبَرَنَاهُ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ مُرْسَلًا دُونَ ذِكْرِ أَبِيهِ.
سیدنا ابوملیح رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”درندوں کے چمڑوں کو بستر بنانے سے منع کیا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المؤلف في سننه الصغري 209»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 72
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحْرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: وَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ".
حضرت خالد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”درندوں کا چمڑا پہننے اور ان پر سواری کرنے“ سے منع کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا: جی ہاں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه المؤلف في سننه الصغريٰ 10»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
18. -- باب طهارة جلد ما يؤكل لحمه إذا كان ذكيا
-- باب: حلال گوشت والے جانور کا چمڑا پاک ہونے کا بیان جب اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 73
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالُوا: ثنا مُرْوانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أنبأ هِلَالُ بْنُ مَيْمُونٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، قَالَ هِلَالٌ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ. وَقَالَ أَيُّوبُ، وَعُمَرُ، وَأُرَاهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِغُلَامٍ يَسْلُخُ شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَنَحَّ حَتَّى أُرِيَكَ". فَأَدْخَلَ يَدَهُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ فَدَحَسَ بِهَا حَتَّى تَوَارَتْ إِلَى الْإِبْطِ، ثُمَّ مَضَى، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: زَادَ عَمْرٌو فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي لَمْ يَمَسَّ مَاءً. وَقَالَ عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. لَمْ يَذْكُرْ أَبَا سَعِيدٍ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بچے کے پاس سے گزرے جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”ہٹ جا میں تمہیں (کچھ) دکھاتا ہوں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھال اور گوشت کے درمیان داخل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اتنا گھسایا کہ وہ بغل تک چھپ گیا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پانی کو نہیں چھوا۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت مرسل بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 73]
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پانی کو نہیں چھوا۔
(ج) حضرت عطاء رحمہ اللہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت مرسل بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کا واسطہ ذکر نہیں کرتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 185»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 74
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عَمْرُو بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، أنا الْمِنْهَالُ بْنُ بَحْرٍ، ثنا بَزِيعٌ أَبُو الْحَوَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كُنَّا نَنْقُلُ الْمَاءَ فِي جُلُودِ الْإِبِلِ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُنْكِرُ عَلَيْنَا" وَهَذَا الْإِسْنَادُ غَيْرُ قَوِيٍّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اونٹوں کے چمڑوں کے ذریعے پانی منتقل کرتے تھے اور ہم پر کسی نے انکار نہیں کیا۔ اس کی سند قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الأوسط 6055»
الحكم على الحديث: ضعيف
19. -- باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة
-- باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 75
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ طَهْمَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ". ⦗٣٥⦘ قَالَ مُحَمَّدُ: وَكَانَ مُعَاوِيَةُ إِذَا حَدَّثَ مِثْلَ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُتَّهَمُ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ وَهُوَ فِي الْخَزِّ مَحْمُولٌ عَلَى التَّنْزِيهِ وَدَلِيلُهُ يَرِدُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَرَوَى أَبُو شَيْخٍ الْهُنَائِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا فِي جُلُودِ النُّمُورِ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم ریشم اور چیتوں کی کھالوں پر سوار نہ ہو۔“
(ب) ریشم کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، اس کی دلیل ”کتاب الصلوٰۃ“ میں آئے گی۔ ان شاء اللہ
(ج) ابو شیخ نہائی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اسی طرح چیتوں کی کھالوں میں بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
(ب) ریشم کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے گا، اس کی دلیل ”کتاب الصلوٰۃ“ میں آئے گی۔ ان شاء اللہ
(ج) ابو شیخ نہائی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ اسی طرح چیتوں کی کھالوں میں بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه أحمد 7/93»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 76
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلِيلٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ، بِالرَّمْلَةِ، قَالَ: حَدَّثَ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَأَنَا حَاضِرٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْفِنُوا الْأَظْفَارَ وَالشَّعْرَ وَالدَّمَ فَإِنْهَا مَيْتَةٌ". قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ بِأَحَادِيثَ لَمْ يُتَابِعْهُ أَحَدٌ عَلَيْهِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ. قَدْ رُوِيَ فِي دَفْنِ الظُّفُرِ وَالشَّعْرِ أَحَادِيثُ أَسَانِيدُهَا ضِعَافٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناخنوں، بالوں اور خون کو دفن کر دو، کیونکہ یہ مردار ہیں۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سند ضعیف ہے، اور ناخن اور بال دفن کرنے والی احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 76]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سند ضعیف ہے، اور ناخن اور بال دفن کرنے والی احادیث کی اسناد ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه ابن عدي في الكامل 4/201»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 77
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ". وَقَدْ يُحْتَجُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الشَّعْرِ وَالظُّفُرِ وَإِنَّمَا وَرَدَ عَلَى سَبَبٍ، وَهُوَ فِيمَا.
سیدنا ابو واقد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”زندہ جانور سے جو (حصہ) کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے۔“
(ب) اس حدیث سے بالوں اور ناخنوں کے بارے میں حجت لی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 77]
(ب) اس حدیث سے بالوں اور ناخنوں کے بارے میں حجت لی جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه المؤلف في معرفة السنن 5604»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 78
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ⦗٣٦⦘ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنَامَ الْإِبِلِ، وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ". وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا.
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ اونٹوں کی کوہان کاٹ لیتے تھے اور دنبوں کی چکیاں بھی کاٹ لیتے تھے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زندہ جانور کا جو حصہ زندہ ہونے کی حالت میں کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے (اس کا کھانا حرام ہے)۔“
(ب) ہمارے بعض اصحاب نے اس سے حجت لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 78]
(ب) ہمارے بعض اصحاب نے اس سے حجت لی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه لهذا الفظ ابن الجعد في مسنده»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 79
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، مُنْذُ حِينٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ دَاجِنَةً كَانَتْ لِبَعْضِ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيِّ. قَالَ: فَخَصَّ الْإِهَابَ بِالِاسْتِمْتَاعِ بِهِ. وَمَنْ قَالَ بِالْقَوْلِ الْآخَرِ احْتَجَّ بِمَا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ امہات المؤمنین میں سے کسی کے پاس پالتو جانور تھا جو مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتار لیا، پھر تم اس سے فائدہ حاصل کرتیں!“
(ب) کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کو فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ خاص کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 79]
(ب) کہا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کو فائدہ حاصل کرنے کے ساتھ خاص کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 103»
الحكم على الحديث: صحيح