السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. -- باب المنع من الانتفاع بشعر الميتة
-- باب: مردار کے بالوں سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 80
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا". فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ. وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي ⦗٣٧⦘ طَاهِرٍ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ قَالُوا: فَخَصَّ الْأَكْلَ بِالتَّحرِيمِ. وَقَدْ رَوَى أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ زِيَادَةً لَمْ يُتَابِعْهُ عَلَيْهَا ثِقَةٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مردہ بکری دیکھی جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کو صدقہ میں دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ مردار ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا صرف (گوشت) کھانا حرام ہے۔“
(ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 80]
(ب) فقہا کہتے ہیں کہ آپ نے صرف کھانا حرام قرار دیا ہے۔ ابوبکر ہذلی نے زہری سے اس روایت میں کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں جن کی کسی ثقہ نے متابعت نہیں کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 1421، مسلم363»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 81
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ مَا يُؤْكَلُ مِنْهَا وَهُوَ اللَّحْمُ فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالسِّنُّ وَالْعَظْمُ وَالشَّعْرُ وَالصُّوفُ فَهُوَ حَلَالٌ". قَالَ عَلِيٌّ: أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ. أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ يَرْوِيهِ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمَهَا فَأَمَّا السِّنُّ وَالشَّعْرُ وَالْقَدُّ فَلَا بَأْسَ بِهِ. قَالَ يَحْيَى: أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ لَيْسَ بِشَيْءٍ. وَقَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى:.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کی کھال، کوہان، ہڈی، بال اور اون حلال ہے۔
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی ضعیف راوی ہے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت حرام ہے، لیکن اس کی کوہان، بال اور کھال میں کوئی حرج نہیں۔
(د) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 81]
(ب) علی بن مدینی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی ضعیف راوی ہے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مردار کا گوشت حرام ہے، لیکن اس کی کوہان، بال اور کھال میں کوئی حرج نہیں۔
(د) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوبکر ہذلی قابلِ حجت نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: «بالحل۔ أخرجه الدار قطني 1/46»
الحكم على الحديث: بالحل
حدیث نمبر: 82
وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ:" إِنَّمَا حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمَهَا، فَأَمَّا الْجِلْدُ وَالشَّعْرُ وَالصُّوفُ فَلَا بَأْسَ بِهِ". أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَيْلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُسْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مُسْلِمٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: عَبْدُ الْجَبَّارِ ضَعِيفٌ.
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مردار کا گوشت حرام قرار دیا ہے، لیکن اس کی کھال، بال اور اون (کے استعمال) میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔“
شیخ علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالجبار راوی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 82]
شیخ علی بن عمر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالجبار راوی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 82]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا۔ أخرجه الدار قطني 1/47»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 83
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا سَعْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، بِبَيْرُوتَ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا بَأْسَ بِمَسْكِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ، وَلَا بَأْسَ بِصُوفِهَا وَشَعْرِهَا وَقُرُونِهَا إِذَا غُسِلَ بِالْمَاءِ". قَالَ عَلِيٌّ: يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ مَتْرُوكٌ، وَلَمْ يَأْتِ بِهِ غَيْرُهُ. أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو ⦗٣٨⦘ الْفضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْقِتْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ أَبُو الْفَيْضِ كَاتَبُ الْأَوْزَاعِيِّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مردار کی کھال رنگنے کے بعد استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح اس کی اون، بال اور سینگ بھی جب انہیں دھو لیا جائے۔“
علی کہتے ہیں کہ علی بن یوسف متروک ہے، اس کے علاوہ اس حدیث کو کوئی بیان نہیں کرتا۔
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوفیض یوسف بن سفر جو اوزاعی کا کاتب ہے منکر الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 83]
علی کہتے ہیں کہ علی بن یوسف متروک ہے، اس کے علاوہ اس حدیث کو کوئی بیان نہیں کرتا۔
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابوفیض یوسف بن سفر جو اوزاعی کا کاتب ہے منکر الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 83]
تخریج الحدیث: «باطل۔ أخرجه المؤلف في المعرفة 35»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 84
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الْبَصْرِيِّ، سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: إِنَّمَا حُرِّمَ مِنَ الْمَيْتَةِ لَحْمُهَا وَدَمُهَا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، قَالَ: قَالَ لَهُ إِسْرَائِيلُ: عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ مِثْلَهُ وَمَنْ قَالَ بِطَهَارَةِ الشَّعْرِ الَّذِي عَلَى جِلْدِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَ الْجِلْدُ احْتَجَّ بِمَا.
عبداللہ بن قیس بصری رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مردار کا گوشت اور اس کا خون حرام ہے۔
(ب) جنہوں نے بالوں کو پاک قرار دیا ہے جو مردار کی کھال کے ساتھ ہوتے ہیں، جب کھال کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہو جاتے ہیں، یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 84]
(ب) جنہوں نے بالوں کو پاک قرار دیا ہے جو مردار کی کھال کے ساتھ ہوتے ہیں، جب کھال کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہو جاتے ہیں، یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 84]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ فيه عبد الله بن قيس بصري»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ، حَدَّثَهُ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَائِيَّ فَرْوًا فَمَسَسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ وَمَعَنْا الْبَرْبَرُ وَالْمَجُوسُ نُؤْتَى بِالْكَبْشِ قَدْ ذَبَحُوهُ، وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ وَنُؤتَى بِالسِّقَاءِ يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" دِبَاغُهُ طَهُورُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ، وَغَيْرِهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الرَّبِيعِ.
ابو الخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی رحمہ اللہ پر بالوں کا بنا ہوا لباس دیکھا تو میں نے اس کپڑے کو چھوا، انہوں نے پوچھا: تم اس کو چھو کر کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ ہم مغرب میں بربر اور مجوس قوم کے ساتھ رہتے ہیں اور ہمارے پاس مینڈھے لائے جاتے ہیں، وہ ذبح کرتے تھے، ہم ان کا ذبیحہ نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پاس مشکیزے لائے جاتے ہیں جن میں چربی ہوتی ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا رنگنا اس کا پاک کرنا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 85]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 106»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 86
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، وَكَانَ يَنْزِلُ بِالْكُوفَةِ وَكَانَ أَصْلُهُ بِصْرِيًّا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ:" فِي الْفِرَاءِ ذَكَاتُهُ دِبَاغُهُ". هَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے «الفِرَاءُ» (چمڑے) کے متعلق ارشاد فرمایا: اس کا پاک ہونا رنگنے سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ فيه محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليليٰ»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 87
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى فَأَتَاهُ رَجُلٌ ذُو ضَفِيرَتَيْنِ فَقَالَ: يَا أَبَا عِيسَى، حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ أَبِيكَ فِي الْفِرَاءِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ الدِّبَاغُ". قَالَ ثَابِتٌ: فَلَمَّا وَلَّى قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ ⦗٣٩⦘ قَالَ: سُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ. رَوَاهُ بَعْضُ النَّاسِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى بِإِسْنَادِهِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ وَهُوَ غَلَطٌ.
سیدنا ثابت بنانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں عبد الرحمن بن لیلیٰ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دو مینڈھوں والا ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے ابو عیسیٰ! اس کے بارے میں بیان کریں جو آپ نے فراء (چمڑے) کے بارے میں اپنے والد سے سنا، انہوں نے فرمایا: مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فراء (چمڑے) پر نماز پڑھ لوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَيْنَ الدِّبَاغُ؟» ”دباغت کس لیے ہے؟“ سیدنا ثابت رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ۔
(ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 87]
(ب) بعض لوگوں نے عبیداللہ بن موسیٰ عن ثابت عن انس کی سند سے روایت کیا ہے، لیکن یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ فيه محمد بن عبد الرحمن بن ابي ليلـٰي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حِبَّانَ يُعْرَفُ بِأَبِي الشَّيْخِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَزْدِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الْفِرَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ الدِّبَاغُ". فَالْإِسْنَادُ الْأَوَّلُ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا وَابْنُ أَبِي لَيْلَى هَذَا كَثِيرُ الْوَهْمِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! فراء نامی چمڑے پر نماز پڑھنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت کس لیے ہے؟“ (یعنی رنگنے کے بعد اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں)
(ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 88]
(ب) پہلی سند کا محفوظ ہونا زیادہ صحیح ہے۔ ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: «ضعيف: وفيه محمد بن أبي ليلي»
الحكم على الحديث: ضعيف: وفيه محمد بن أبي ليلي
حدیث نمبر: 89
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ الْفِرَاءِ، فَقَالَتْ:" لَعَلَّ دِبَاغَهَا يَكُونُ ذَكَاتَهَا".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے «الْفِرَاء» (چمڑے) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: امید ہے کہ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: «في سنده الأعمش الحافظ الثقة المدلس…»
الحكم على الحديث: في سنده الأعمش الحافظ الثقة المدلس…