السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
139. -- باب: الوضوء من النوم
-- باب: نیند کی وجہ سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 589
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرٍ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ" أَنَّهُ كَانَ يَرَى عَلَى مَنْ نَامَ جَالِسًا وُضُوءًا". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ:" إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ". إِلَى هَذَا ذَهَبَ الْمُزَنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
(الف) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو وہ وضو کرے۔
(ب) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو بیٹھا یا کھڑا سو جائے اس پر وضو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 589]
(ب) حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جو بیٹھا یا کھڑا سو جائے اس پر وضو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
140. -- باب: ترك الوضوء من النوم قاعدا
-- باب: بیٹھ کر سونے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 590
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، نا أَبُو دَاودَ، نا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، نا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ، ينْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ، ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ" قَالَ أَبُو دَاودَ: زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عشاء کی نماز کا انتظار کرتے اور نیند سے ان کے سر جھک جاتے، پھر وہ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے قتادہ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا فعل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 590]
(ب) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے قتادہ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا فعل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 386»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 591
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا تَمْتَامٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَنَامُونَ، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ، وَلَا يَتَوَضَّئُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ دُونَ قَوْلِهِ: عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور نماز ادا کرتے۔ یہ حضرات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (بھی اس سے) وضو نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الدار قطني 1/130»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 592
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا ابْنُ حُمَيْدٍ يَعْنِي مُحَمَّدًا، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يُوقَظُونَ لِلصَّلَاةِ حَتَّى إِنِّي لَأَسْمَعُ لَأَحَدِهِمْ غَطِيطًا، ثُمَّ يَقُومُونَ فَيُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ". قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: هَذَا عِنْدَنَا وَهُمْ جُلُوسٌ، وَعَلَى هَذَا حَمَلَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَالشَّافِعِيُّ، وَحَدِيثَاهُمَا فِي ذَلِكَ مُخَرَّجَانِ فِي الْخِلَافِيَّاتِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ ان کو نماز کے لیے بیدار کیا جاتا تھا اور میں ان کے خراٹے کی آواز سنتا، پھر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 616»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 593
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاودَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاودَ بْنِ شَبِيبٍ، قَالَا: نا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ، وَلَمْ يذْكُرْ وُضُوءًا". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ دُونَ قَوْلِهِ: وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عشا کی نماز کھڑی ہوئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کام ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرتے رہے اور لوگوں کو یا کسی ایک کو اونگھ آگئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) صحیح مسلم میں «وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 593]
(ب) صحیح مسلم میں «وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 40»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 594
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ سَمْعَانَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ" كَانَ يَنَامُ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ".
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن أبي شيبة»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 595
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا وَكِيعٌ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنَ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمْ يرْفَعْهُ. قَالَ:" مَنْ نَامَ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَا وُضُوءَ عَلَيْهِ، وَإِنِ اضْطَجَعَ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ". وَرُوُّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً منقول ہے کہ جو شخص بیٹھ کر سو جائے اس کا وضو (باقی) ہے، اگر لیٹ جائے تو اس پر وضو ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عَبْدَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، نا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءِ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ جَالِسًا أَخْفِقُ فَاحْتَضَنِّي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ وَجَبَ عَلَيَّ وَضُوءٌ؟ قَالَ:" لَا، حَتَّى تَضَعَ جَنْبَكَ". وَهَذَا الْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِهِ بَحْرُ بْنُ كُنَيْزٍ السِّقَاءُ، عَنْ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَلَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں اس حال میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا سر (نیند کی وجہ سے) جھک جاتا تھا، پیچھے سے ایک شخص نے مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھ پر وضو ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تیرا پہلو نہ جھکے۔“
اس حدیث کو میمون خیاط سے صرف بحر بن کنیز سقاء نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اس کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 596]
اس حدیث کو میمون خیاط سے صرف بحر بن کنیز سقاء نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اس کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن عدي 2/54»
الحكم على الحديث: ضعيف
141. -- باب: ما ورد في نوم الساجد
-- باب: سجدے کی حالت میں سونے والے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 597
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، نا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي سُجُودِهِ حَتَّى غَطَّ وَنَفَخَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ نِمْتَ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَجِبُ الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ وَضَعَ جَنْبَهُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ:" إِنَّمَا الْوضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا، فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ".
(الف) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں سو گئے اور نیند نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو پہلو کے بل سو جائے اس پر وضو ہے اور جس نے اپنے پہلو رکھ لیے (یعنی لیٹ گیا) تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“
(ب) بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے، بلاشبہ جو لیٹ گیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 597]
(ب) بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے، بلاشبہ جو لیٹ گیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطبراني في الكبير 12748»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 598
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجِبُ الْوضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ جَالِسًا أَوْ قَائِمًا أَوْ سَاجِدًا حَتَّى يَضَعَ جَنْبَهُ، فَإِنَّهُ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ". تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ، قَالَ أَبُو ⦗١٩٥⦘ عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَذَا لَا شَيْءٌ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَوْلَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبَا الْعَالِيَةَ، وَلَا أَعْرِفُ لِأَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ سَمَاعًا، مِنْ قَتَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاودَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَوْلُهُ:" الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا". هُوَ حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا يَزِيدُ الدَّالَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ. وَقَالَ أَبُو دَاودَ: قَالَ شُعْبَةُ: إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَةُ مِنْ أَبِي الْعَالِيَةِ أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ، حَدِيثَ يُونُسَ بْنِ مَتَى، وَحَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّلَاةِ، وَحَدِيثَ: الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ، وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ. حَدَّثَنِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ مِنْهُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ يَعْنِي فِي: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ الشَّيْخُ: وَسَمِعَ أَيْضًا حَدِيثَ ابْنَ عَبَّاسٍ فِيمَا يَقُولُ: عِنْدَ الْكَرْبِ، وَحَدِيثُهُ فِي رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُوسَى، وَغَيْرَهُ. قَالَ أَبُو دَاودَ: وَذَكَرْتُ حَدِيثَ يَزِيدَ الدَّالَانِيِّ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، فَقَالَ: مَا لِيَزِيدَ الدَّالَانِيِّ يَدْخُلُ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ. قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِهِ أَحْمَدُ مَا ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَنَّهُ لَا يُعْرَفُ لِأَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ سَمَاعٌ مِنْ قَتَادَةَ. قَالَ أَبُو دَاودَ: وَرَوَى أَوَّلَهُ جَمَاعَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمْ يذْكُرُوا شَيْئًا مِنْ هَذَا. وَقَالَ عِكْرِمَةُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا. وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَنَامُ عَيْنَايَ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي".
(الف) عبدالسلام بن حرب اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بیٹھ کر یا کھڑا ہو کر یا سجدہ کی حالت میں سو جائے اس پر وضو نہیں ہے، جب تک اپنا پہلو نہ رکھ دے (یعنی لیٹ جائے)، جب اس نے اپنا پہلو رکھ دیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑ گئے۔“
اس حدیث کو اس طریقے سے صرف یزید بن عبدالرحمٰن ابو خالد دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری آنکھیں سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“
(ج) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا قول نقل کیا ہے اور اس میں ابو عالیہ کا ذکر نہیں کیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ ابو خالد دالانی نے قتادہ سے کچھ سنا ہو۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راوی کا یہ کہنا «الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا» ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے“ منکر ہے، اسے قتادہ سے صرف یزید دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ہ) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے کہا: قتادہ نے ابو عالیہ سے صرف چار احادیث سنی ہیں: حدیثِ یونس بن متی، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نماز کے متعلق حدیث، «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ» ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں“ والی حدیث اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ» ”عصر کے بعد کوئی نماز نہیں“ والی حدیث۔ شیخ فرماتے ہیں کہ (قتادہ نے) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت بھی سنی ہے کہ مصیبت کے وقت کیا پڑھا جائے اور سفرِ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موسیٰ علیہ السلام وغیرہ کو دیکھنے کی روایت بھی۔
(و) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید دالانی کی حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: یزید دالانی کو کیا ہے کہ وہ قتادہ کے شاگردوں میں داخل ہوتا ہے؟ شیخ فرماتے ہیں: امام احمد کی مراد وہی ہے جو امام بخاری نے ذکر کیا کہ ابو خالد دالانی کا قتادہ سے سماع معلوم نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 598]
اس حدیث کو اس طریقے سے صرف یزید بن عبدالرحمٰن ابو خالد دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ب) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری آنکھیں سو جاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“
(ج) امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا قول نقل کیا ہے اور اس میں ابو عالیہ کا ذکر نہیں کیا، اور مجھے معلوم نہیں کہ ابو خالد دالانی نے قتادہ سے کچھ سنا ہو۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راوی کا یہ کہنا «الْوُضُوءُ عَلَى مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا» ”لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے“ منکر ہے، اسے قتادہ سے صرف یزید دالانی نے روایت کیا ہے۔
(ہ) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبہ نے کہا: قتادہ نے ابو عالیہ سے صرف چار احادیث سنی ہیں: حدیثِ یونس بن متی، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نماز کے متعلق حدیث، «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ» ”قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں“ والی حدیث اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی «لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ» ”عصر کے بعد کوئی نماز نہیں“ والی حدیث۔ شیخ فرماتے ہیں کہ (قتادہ نے) ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت بھی سنی ہے کہ مصیبت کے وقت کیا پڑھا جائے اور سفرِ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موسیٰ علیہ السلام وغیرہ کو دیکھنے کی روایت بھی۔
(و) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یزید دالانی کی حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: یزید دالانی کو کیا ہے کہ وہ قتادہ کے شاگردوں میں داخل ہوتا ہے؟ شیخ فرماتے ہیں: امام احمد کی مراد وہی ہے جو امام بخاری نے ذکر کیا کہ ابو خالد دالانی کا قتادہ سے سماع معلوم نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف