السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
141. -- باب: ما ورد في نوم الساجد
-- باب: سجدے کی حالت میں سونے والے کے بارے میں وارد شدہ احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 599
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحُمَيْدٍ، وَحَمَّادٍ الْكُوفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ، فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يتَوَضَّأْ". قَالَ عِكْرِمَةُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَحْفُوظًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عکرمہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 138»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 600
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يتَوَضَّأْ". مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ دُونَ الزِّيَادَةِ الَّتِي تَفَرَّدَ بِهَا أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعِدَّةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حَدِيثِ الْمَبِيتِ دُونَ تِلْكَ الزِّيَادَةِ، وَنَوْمُهُ هَذَا كَانَ مُضْطَجِعًا، وَكَانَ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَتْرُكُ الْوضُوءَ مِنْهُ مَخْصُوصًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خراٹے لیے، پھر کھڑے ہوئے نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رات گزارنے والی حدیث ہے جس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند لیٹ کر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا، یہ آپ کا خاصہ ہے جس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ہے۔
اس زیادتی کو بیان کرنے میں ابو خالد دالانی منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 600]
(ب) اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رات گزارنے والی حدیث ہے جس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
(ج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند لیٹ کر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو نہیں کیا، یہ آپ کا خاصہ ہے جس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ہے۔
اس زیادتی کو بیان کرنے میں ابو خالد دالانی منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 601
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو كُرَيْبًا يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوءًا خَفِيفًا يُخَفِّفُهُ عَمْرٌو وَيُقَلِّلُهُ جِدًّا، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوَ مَا تَوَضَّأَ، ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَحَوَّلَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ صَلَّى مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، ثُمَّ جَاءَهُ الْمُنَادِي، فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ". وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى بِنَا وَلَمْ يتَوَضَّأْ، وَقَالَ سُفْيَانُ: قُلْنَا لِعَمْرٍو إِنَّ أُنَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ؟ قَالَ عُمَرُ: وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ، وَقَرَأَ: {إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ} [الصافات: ١٠٢] . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، وَابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا۔ رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا (عمرو اس کو ہلکا اور بہت تھوڑا بیان کرتے ہیں) پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی کھڑا ہوا۔ میں نے ویسے ہی وضو کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا، پھر آپ نے نماز پڑھی جتنی اللہ نے چاہی، پھر آپ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر اعلان کرنے والا آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے متعلق بتایا۔
اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی: ﴿إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ [سورة الصافات: 102]
(ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 601]
اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی: ﴿إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ﴾ [سورة الصافات: 102]
(ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 117»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 602
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ⦗١٩٧⦘ عَائِشَةَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ عَيْنِيَّ تَنَامَانِ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ. وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ. قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:" وَكَذَلِكَ الْأَنْبِيَاءُ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ تَنَامُ أَعْينُهُمْ وَلَا تَنَامُ قُلُوبُهُمْ".
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رات کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔“
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 602]
(ب) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 602]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 9/19»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 603
أَخْبَرَنَاهُ إِجَازَةً أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ:" لَيْسَ عَلَى الْمُحْتَبِي النَّائِمِ وَلَا عَلَى الْقَائِمِ النَّائِمِ وَلَا عَلَى السَّاجِدِ النَّائِمِ وُضُوءٌ، حَتَّى يَضْطَجِعَ، فَإِذَا اضْطَجَعَ تَوَضَّأَ" وَهَذَا مَوْقُوفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گوٹھ مار کر سونے والے پر، کھڑے ہو کر سونے والے پر اور سجدے میں سونے والے پر وضو نہیں ہے جب تک لیٹ نہ جائے، جب لیٹ گیا تو وضو کرے گا (یہ موقوف روایت ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
142. -- باب: انتقاض الطهر بالإغماء
-- باب: بے ہوشی سے طہارت (وضو) ٹوٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 604
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرِضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أصَلَّى النَّاسُ؟". قُلْنَا: لَا يَا رَسُولَ اللهِ هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ. قَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ". فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ". فَقُلْنَا: لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ". فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟". فَقُلْنَا: لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ:" ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ". فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ:" أَصَلَّى النَّاسُ؟". فَقُلْنَا: لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. قَالَتْ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ، وَبَاقِي الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ ⦗١٩٨⦘ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، وَالْغُسْلُ بِالْإِغْمَاءِ شَيْءٌ اسْتَحَبَّهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْوضُوءُ يَكْفِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور عرض کیا: آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کی حدیث بیان نہیں کریں گی؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں میرے لیے پانی رکھو۔“ ہم نے پانی رکھ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں پانی رکھو۔“ ہم نے ایسے ہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے برتن میں پانی رکھو۔“ ہم نے برتن میں پانی رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: لوگ مسجد میں (نیند کی وجہ سے) جھکے ہوئے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
(ب) بے ہوشی میں غسل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحب سمجھا اگرچہ وضو بھی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 604]
(ب) بے ہوشی میں غسل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحب سمجھا اگرچہ وضو بھی کافی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 655»
الحكم على الحديث: صحيح
143. -- باب: الوضوء من الملامسة
-- باب: عورت کو چھونے (ملامسہ) سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: Q605
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ} [النساء: ٤٣] وَاسْمُ اللَّمْسِ يَقَعُ عَلَى مَا دُونَ الْجِمَاعِ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ، وَنَهْيُهُ عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ، وَقَوْلُهُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ:" وَالْيَدُ زِنَاهَا اللَّمْسُ". وَقَوْلُ عَائِشَةَ: قَلَّ يَوْمًا أَوْ مَا كَانَ مَنْ يوْمٍ إِلَّا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا، فَيُقَبِّلُ وَيَلْمِسُ مَا دُونَ الْوِقَاعِ. وَهَذِهِ الْأَحَادِيثِ بِأَسَانِيدِهِنَّ مُخَرَّجَةٌ فِي مَوَاضِعِهِنَّ.
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ ”یا تم عورتوں کو چھو لو۔“ [سورة النساء: 43]
اور لفظ «اللَّمْسُ» (چھونا) کا اطلاق جماع کے علاوہ دیگر افعال پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے «الْمُلَامَسَةِ» (چھو کر بیع کرنے) کی ممانعت ہے،
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ”اور ہاتھ کا زنا چھونا ہے۔“
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ: ”شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس تشریف نہ لائے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے اور جماع کے بغیر چھوتے تھے۔“
اور یہ تمام احادیث اپنی سندوں کے ساتھ اپنے اپنے مقامات پر تخریج کی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: Q605]
اور لفظ «اللَّمْسُ» (چھونا) کا اطلاق جماع کے علاوہ دیگر افعال پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”شاید تم نے بوسہ لیا ہو یا چھوا ہو۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے «الْمُلَامَسَةِ» (چھو کر بیع کرنے) کی ممانعت ہے،
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بعض روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: ”اور ہاتھ کا زنا چھونا ہے۔“
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ: ”شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس تشریف نہ لائے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے اور جماع کے بغیر چھوتے تھے۔“
اور یہ تمام احادیث اپنی سندوں کے ساتھ اپنے اپنے مقامات پر تخریج کی گئی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: Q605]
حدیث نمبر: 605
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، نا جَدِّي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" إِنَّ الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّئُوا مِنْهَا".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بوسہ، چھونے کی طرح ہے، لہٰذا تم اس سے وضو کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لغيرهٖ أخرجه الحاكم 1/229»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 606
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَارِقٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ:" فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ} [النساء: ٤٣] قَوْلًا مَعْنَاهُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ".
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ کے اس فرمان ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ [سورة النساء: 43] کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ اس کا معنی جماع کے علاوہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 1/221»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 607
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" الْقُبْلَةُ مِنَ اللَّمْسِ وَمِنْهَا الْوُضُوءُ، وَاللَّمْسُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ" هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بوسہ چھونے سے ہے اور اس میں وضو ہے اور «اللَّمْسُ» جماع کے علاوہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ