السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
143. -- باب: الوضوء من الملامسة
-- باب: عورت کو چھونے (ملامسہ) سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 608
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" قُبْلَةُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَجَسُّهَا بِيَدِهِ مِنَ الْمُلَامَسَةِ، فَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ أَوْ جَسَّهَا بِيَدِهِ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ. فَهَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ. وَخَالَفَهُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَحَمَلَ الْمُلَامَسَةَ الْمَذْكُورَةَ فِي الْكِتَابِ الْعَزِيزِ عَلَى الْجِمَاعِ، وَلَمْ يرَ فِي الْقُبْلَةِ وُضُوءًا.
(الف) سالم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی کا اپنی بیوی کو بوسہ دینا اور اس کے جسم کو اپنے ہاتھ سے چھونا «مُلَامَسَة» میں سے ہے، اور جو شخص اپنی بیوی کو بوسہ دے یا ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو ہے۔
(ب) ابن بکیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس پر وضو واجب ہے۔
(ج) یہ قول سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کتاب اللہ میں مذکور «مُلَامَسَة» کو جماع پر محمول کیا ہے اور وہ بوسہ لینے سے وضو کے قائل نہیں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 608]
(ب) ابن بکیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس پر وضو واجب ہے۔
(ج) یہ قول سیدنا عمر، سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کتاب اللہ میں مذکور «مُلَامَسَة» کو جماع پر محمول کیا ہے اور وہ بوسہ لینے سے وضو کے قائل نہیں تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك 95»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا اللَّمْسَ فَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْمَوَالِي: لَيْسَ مِنَ الْجِمَاعِ. وَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ: هِيَ مِنَ الْجِمَاعِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" مَعَ أَيِّهِمْ كُنْتَ؟" قُلْتُ: مَعَ الْمَوَالِي. قَالَ:" غُلِبَتِ الْمَوَالِي إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمُبَاشَرَةَ مِنَ الْجِمَاعِ، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُكَنِّي مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ، وَقَوْلُ مَنْ يُوَافِقُ قَوْلُهُ ظَاهِرُ الْكِتَابِ أَوْلَى".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے «اللَّمْسِ» (چھونے) کا ذکر کیا تو موالی میں سے بعض لوگوں نے کہا: یہ جماع نہیں ہے اور اہل عرب نے کہا: یہ جماع ہے۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: تم کن کے ساتھ ہو؟ میں نے کہا: موالی کے ساتھ، تو انہوں نے فرمایا: موالی کی بات ٹھیک نہیں ہے۔ بیشک چھونا اور مباشرت کرنا جماع میں سے ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کنایہ ذکر کیا جس سے اس نے چاہا۔ ان کا قول ظاہری کتاب کے موافق ہونے میں زیادہ اولیٰ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 610
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَا: نا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْكَ وَسَلَّمَ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يُصِيبُهُ الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ إِلَّا وَقَدْ أَصَابَهُ مِنْهَا إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا؟ ⦗٢٠٠⦘ فَقَالَ:" تَوَضَّأْ وُضُوءًا حَسَنًا، ثُمَّ قُمْ فَصَلِّ". قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ {أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] الْآيَةَ. فَقَالَ: أَهِيَ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ فَقَالَ:" بَلْ هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً". وَهَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، وَأَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ. وَفِيهِ إِرْسَالٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو ایسی عورت پر واقع ہوا جو اس کے لیے حلال نہیں ہے اور اس نے جماع کے سوا ہر کام کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی طرح وضو کرے پھر کھڑا ہو اور نماز پڑھے۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] ، پوچھا گیا: یہ اس کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔“
اس کی سند میں ارسال ہے، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 610]
اس کی سند میں ارسال ہے، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون أمره بالوضوء، اخرجه الحاكم 1/229»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 611
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، نا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، وَذَكَرَ لَهُ حَدِيثَ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبٍ. عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: أَمَا إِنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا، زَعَمَ أَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ شَيْئًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا۔
(ب) سفیان ثوری اس روایت کو زیادہ جانتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ حبیب نے عروہ سے سماع نہیں کیا۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں: حبیب نے ہمیں صرف عروہ مزنی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 611]
(ب) سفیان ثوری اس روایت کو زیادہ جانتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ حبیب نے عروہ سے سماع نہیں کیا۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔
(د) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں: حبیب نے ہمیں صرف عروہ مزنی سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 178»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 612
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ، ثُمَّ لَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ"، وَقَالَتْ:" ثُمَّ يُصَلِّي". فَهَذَا مُرْسَلٌ. إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ، قَالَهُ أَبُو دَاودَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُ وَأَبُو رَوْقٍ لَيْسَ بِقَوِيٍّ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَغَيْرُهُ. وَرَوَاهُ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصَةَ. وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ وَلَا مِنْ حَفْصَةَ. قَالَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ، وَقَدْ رُوِّينَا سَائِرَ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَبَيَّنَّا ضَعْفَهَا فِي الْخِلَافِيَّاتِ وَالْحَدِيثُ الصَّحِيحُ ⦗٢٠٢⦘ عَنْ عَائِشَةَ فِي قُبْلَةِ الصَّائِمِ، فَحَمَلَهُ الضُّعَفَاءُ مِنَ الرُّوَاةِ عَلَى تَرْكِ الْوُضُوءِ مِنْهَا وَلَوْ صَحَّ إِسْنَادُهُ لَقُلْنَا بِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وضو کے بعد بوسہ لے لیا کرتے تھے، پھر دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر نماز پڑھتے تھے (یہ روایت مرسل ہے)۔
(ب) یحییٰ بن معین نے ابو روق کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(ج) امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزہ کی حالت میں بوسہ لینے والی روایت صحیح ہے، بعض لوگوں نے اس کو ترک وضو پر محمول کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 612]
(ب) یحییٰ بن معین نے ابو روق کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(ج) امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزہ کی حالت میں بوسہ لینے والی روایت صحیح ہے، بعض لوگوں نے اس کو ترک وضو پر محمول کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/141»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
144. -- باب: ما جاء في لمس الصغار وذوات المحارم
-- باب: کم سن بچیوں اور محرم خواتین کو چھونے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 613
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٢٠٣⦘ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ إِمْلَاءً وَأَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَا: نا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، نا أَحْمَدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، نا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ:" بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ، يَحْمِلُهَا عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ كِلَاهُمَا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ.
عمرو بن سلیم زرقی نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت ابی العاص بن ربیع رضی اللہ عنہما کو اٹھایا ہوا تھا۔ ان کی والدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا تھیں اور وہ کم سن تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اس کو زمین پر لٹا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اٹھا لیتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچی کے ساتھ ایسے ہی کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 494»
الحكم على الحديث: صحيح
145. -- باب: ما جاء في الملموس
-- باب: جس عورت کو چھوا جائے اس (کے وضو کے حکم) کا بیان
حدیث نمبر: 614
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَالْتَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ دُونَ قَوْلِهِ وَهُوَ سَاجِدٌ. وَرَوَاهُ وَهَيْبٌ، وَمُعْتَمِرٌ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ دُونَ ذِكْرِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي إِسْنَادِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا، میں نے آپ کو ہاتھ سے تلاش کیا تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر لگے تو وہ زمین پر کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے: «اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» ”اے اللہ! میں تیری معافی کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری رضا کے ذریعے تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری ہی پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثنا (تعریف) کا احاطہ نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا تو نے خود اپنی ثنا فرمائی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 486»
الحكم على الحديث: صحيح
146. -- باب: ما جاء في غمز الرجل امرأته من غير شهوة أو من وراء حائل
-- باب: آدمی کا اپنی بیوی کو بغیر شہوت کے یا کسی آڑ (کپڑے وغیرہ) کے پیچھے سے چھونے یا دبانے کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 615
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ⦗٢٠٤⦘ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارٍ الزَّاهِدُ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحِيرٍ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، نا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" بِئْسَ مَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يُصَلِّي وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلِيَّ فَقَبَضْتُهُمَا". لَفْظُ حَدِيثِ عَمْرٍو. وَفِي حَدِيثِ الْمُقَدَّمِيِّ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلِيَّ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ: حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ مَسَّنِي بِرِجْلِهِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي، فَقَبَضْتُ رِجْلِيَّ. وَفِي رِوَايَةِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ.
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: برا ہے جو تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے ساتھ ملا دیا ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکا مارتے، میں انھیں سمیٹ لیتی۔
(ب) مقدمی کی حدیث میں اس طرح ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی، جب آپ سجدے کا ارادہ کرتے میرے پاؤں کو کچوکا مارتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔
(ج) عبد الرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو چھوتے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو مجھے کچوکا مارتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔
(ھ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بیدار کر دیتے اور میں بھی وتر پڑھتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 615]
(ب) مقدمی کی حدیث میں اس طرح ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی، جب آپ سجدے کا ارادہ کرتے میرے پاؤں کو کچوکا مارتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔
(ج) عبد الرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو چھوتے۔
(د) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو مجھے کچوکا مارتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔
(ھ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بیدار کر دیتے اور میں بھی وتر پڑھتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 489»
الحكم على الحديث: صحيح
147. -- باب: الوضوء من مس الذكر
-- باب: شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 616
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ فَتَذَاكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ الْوُضُوءُ. فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَمْ يَقُولُ:" إِذَا مَسَّ أَحَدُكُمْ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".
سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس گیا، ہم نے پوچھا: کس چیز سے وضو واجب ہوتا ہے؟ مروان نے کہا: شرمگاہ کو چھونے سے۔ عروہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا۔ مروان کہتے ہیں: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”جب کوئی شرمگاہ کو چھوئے تو وضو کرے۔“ صحیح أخرجہ مالک [89] [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 616]
حدیث نمبر: 617
وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَزَادَ، فِيهِ:" فَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَاهُ مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 617]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن حبان 1116»
الحكم على الحديث: صحيح