السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
148. -- باب: الوضوء من مس المرأة فرجها
-- باب: عورت کا اپنی شرمگاہ کو چھونے پر وضو ٹوٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 638
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ قُتَيْبَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَا: ثنا إِدْرِيسُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هُوَ حَدِيثٌ مِنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرٍو. قَالَ الشَّيْخُ: وَخَالَفَهُمْ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرٍو، فِي إِسْنَادِهِ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
عمرو بن شعیب اپنے دادا (رضی اللہ عنہما) سے اسی سند سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔
(ب) ابواحمد کہتے ہیں کہ حدیث ابن ثوبان عن ابیہ عن عمرو غریب ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں: مثنی بن صباح نے عمرو سے اس کی سند بیان کرنے میں ان کی مخالفت کی ہے اور وہ قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 638]
(ب) ابواحمد کہتے ہیں کہ حدیث ابن ثوبان عن ابیہ عن عمرو غریب ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں: مثنی بن صباح نے عمرو سے اس کی سند بیان کرنے میں ان کی مخالفت کی ہے اور وہ قوی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 638]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 639
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي كِنَانَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي أَحَدِنَا تَمَسُّ فَرْجَهَا، وَالرَّجُلُ يَمَسُّ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَتَوَضَّأُ يَا بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ" قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مَرْوَانَ أَرْسَلَ إِلَيْهَا لِيَسْأَلَهَا فَقَالَتْ: دَعْنِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَأَمَرَنِي بِالْوُضُوءِ.
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا جو بنی کنانہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں ہم سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوتی ہے یا کوئی مرد اپنی شرمگاہ کو وضو کرنے کے بعد چھوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بسرہ بنت صفوان! وہ عورت وضو کرے۔“
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان نے ان کی طرف ایک شخص کو بھیجا کہ ان سے سوال کرے، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فلاں فلاں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وضو کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 639]
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مروان نے ان کی طرف ایک شخص کو بھیجا کہ ان سے سوال کرے، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فلاں فلاں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو وضو کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 639]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 640
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ ⦗٢١١⦘ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِذَا مَسَّتِ الْمَرْأَةُ فَرْجَهَا تَوَضَّأَتْ". وَهَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ”جب کوئی عورت اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وضو کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 640]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم 1/223»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
149. -- باب: ترك الوضوء من مس الفرج بظهر الكف
-- باب: ہاتھ کی پشت سے شرمگاہ کو چھونے سے وضو ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 641
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ الْأُشْنَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسَ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ لَيْسَ دُونَهَا حِجَابٌ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ وُضُوءُ الصَّلَاةِ" وَهَكَذَا رَوَاهُ مَعْنُ بْنُ عِيسَى وَجَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيِّ، فَقَالَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ. قَالَ الشَّيْخُ: وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ أَصْلٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جائے اس کے درمیان پردہ نہ ہو تو اس پر نماز کا وضو واجب ہے۔“
(ب) یزید بن عبدالملک پر کلام کیا گیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یزید بن عبدالملک نوفلی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ کے ایک شیخ ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی اصل موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 641]
(ب) یزید بن عبدالملک پر کلام کیا گیا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے یزید بن عبدالملک نوفلی کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ کے ایک شیخ ہیں، ان میں کوئی حرج نہیں۔
(ج) شیخ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کی اصل موجود ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الطبراني في الاوسط 110»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 642
فَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِي وَهْبٍ، سَمِعَ جَمِيلَ بْنَ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى فَرْجِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ" هَكَذَا مَوْقُوفٌ وَقِيلَ، عَنْ جَمِيلٍ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جس شخص کا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگ جائے تو وہ وضو کرے۔“ یہ روایت موقوف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جمیل ابو وہب سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه البخاري التاريخ الكبير 2/216»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 643
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي ⦗٢١٢⦘ وَهْبٍ، عَنْ جَمِيلٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَمَنْ مَسَّهُ يَعْنِي مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ وُضُوءٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے اور جس نے کپڑے کے اوپر سے چھوا اس پر وضو نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابو نعيم في الحلية 9/44»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 644
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَفْضَى أَحَدُكُمْ بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ فَلْيَتَوَضَّأْ" وَزَادَ ابْنُ نَافِعٍ فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَسَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ يَرْوُونَهُ لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ جَابِرًا، وَزَادَ أَبُو سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْإِفْضَاءُ بِالْيَدِ إِنَّمَا هُوَ بِبَطْنِهَا، كَمَا يُقَالُ أَفْضَى بِيَدِهِ مَبَايِعًا، وَأَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا، وَإِلَى رُكْبَتَيْهِ رَاكِعًا.
(الف) محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جائے تو وہ وضو کر لے۔“
(ب) دوسری روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے حفاظ سے سنا، لیکن انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 644]
(ب) دوسری روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے حفاظ سے سنا، لیکن انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الشافعي 35»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 645
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدًا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ بَدَوِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا تَرَى فِي مَسِّ الرَّجُلِ ذَكَرَهُ بَعْدَمَا يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ:" وَهَلْ هُوَ إِلَّا بَضْعَةٌ أَوْ مُضْغَةٌ مِنْكَ" فَهَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ مُلَازِمُ بْنُ عُمَرَ وَهَكَذَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِيُّ: مُلَازِمٌ فِيهِ نَظَرٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْيَمَامِيُّ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. وَرَوَاهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ طَلْقًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَهُ. وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ أَمْثَلُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ قَيْسٍ، وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي تَعْدِيلِهِ، غَمَزَهُ ⦗٢١٣⦘ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ جِدًّا، وَأَمَّا قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، فَقَدْ رَوَى الزَّعْفَرَانِيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْنَا عَنْ قَيْسٍ فَلَمْ نَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ بِمَا يَكُونُ لَنَا قَبُولُ خَبَرِهِ وَقَدْ عَارَضَهُ مَنْ وَصَفْنَا ثِقَتَهُ وَرَجَاحَتَهُ فِي الْحَدِيثِ وَتَثَبُّتَهُ فِيمَا. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ثنا رَجَاءُ بْنُ مُرَجَّا الْحَافِظُ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ: فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: قَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَقِيهُ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قَالَ: ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، سَأَلْتُ أَبِي، وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ هَذَا فَقَالَا: قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ مِمَّنْ تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ، وَوَهَّنَاهُ وَلَمْ يُثَبِّتَاهُ، ثُمَّ إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَحَّ فِي ابْتِدَاءِ الْهِجْرَةِ حِينَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْنِي مَسْجِدَهُ، وَسَمَاعُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ مِمَّنْ رُوِّينَا عَنْهُ فِي ذَلِكَ كَانَ بَعْدَهُ وَهُوَ فِيمَا.
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم وفد کی شکل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک دیہاتی شخص آیا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو اس کے جسم کا ایک حصہ یا ٹکڑا ہے۔“ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ محمد بن جابر یمامی اور ایوب بن عتبہ قیس بن طلق سے روایت کرتے ہیں اور دونوں ضعیف ہیں۔
ابوبکر احمد بن اسحاق صبغی نے کہا: ملازم کے بارے میں نظر ہے۔ عکرمہ بن عمار نے اسے قیس سے مرسل روایت کیا ہے، اور وہ قیس سے روایت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، لیکن ان کی تعدیل میں اختلاف ہے: یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل نے ان پر جرح کی ہے اور امام بخاری نے انہیں سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ رہے قیس بن طلق، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے قیس کے بارے میں پوچھا تو ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو انہیں اس طرح جانتا ہو کہ ہم ان کی روایت قبول کر سکیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا: قیس بن طلق کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے کہا: قیس بن طلق ان میں سے نہیں جن سے حجت قائم ہو، اور انہوں نے اسے کمزور قرار دیا اور ثابت نہیں مانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 645]
ابوبکر احمد بن اسحاق صبغی نے کہا: ملازم کے بارے میں نظر ہے۔ عکرمہ بن عمار نے اسے قیس سے مرسل روایت کیا ہے، اور وہ قیس سے روایت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں، لیکن ان کی تعدیل میں اختلاف ہے: یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل نے ان پر جرح کی ہے اور امام بخاری نے انہیں سخت ضعیف قرار دیا ہے۔ رہے قیس بن طلق، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے قیس کے بارے میں پوچھا تو ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو انہیں اس طرح جانتا ہو کہ ہم ان کی روایت قبول کر سکیں۔ یحییٰ بن معین نے کہا: قیس بن طلق کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے کہا: قیس بن طلق ان میں سے نہیں جن سے حجت قائم ہو، اور انہوں نے اسے کمزور قرار دیا اور ثابت نہیں مانا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 182»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 646
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ فَقَالَ:" اخْلِطِ الطِّينَ فَإِنَّكَ أَعْلَمُ بِخَلْطِهِ" فَسَأَلْتُهُ أَوْ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ ⦗٢١٤⦘ الرَّجُلَ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَمَسُّ ذَكَرَهُ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ". ثُمَّ قَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَلَى مَسِّهِ إِيَّاهُ بِظَهْرِ كَفِّهِ.
قیس بن طلق اپنے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ مسجد بنا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مٹی کو ملاؤ، یہ کام تم زیادہ جانتے ہو۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا کسی شخص نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو وضو کرتا ہے پھر اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرے بدن ہی کا حصہ ہے۔“
پھر ہمارے بعض اصحاب نے اس کو اپنی ہتھیلی کے ظاہری حصے کے چھونے پر محمول کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 646]
پھر ہمارے بعض اصحاب نے اس کو اپنی ہتھیلی کے ظاہری حصے کے چھونے پر محمول کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 647
فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ لَنَا مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ يُقَالُ لَهُ قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُهُ فَقَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي فَذَهَبْتُ أَحُكُّ فَخِذِي، فَأَصَابَتْ يَدِي ذَكَرِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ" وَالظَّاهِرُ مِنْ حَالِ مَنْ يَحُكُّ فَخِذَهُ وَأَصَابَتْ يَدُهُ ذَكَرَهُ أَنَّهُ إِنَّمَا يُصِيبُهُ بِظَهْرِ كَفِّهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
قیس بن طلق اپنے والد سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا کسی شخص نے سوال کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اس دوران میں اپنی ران پر خارش کرنا شروع ہوا تو میرا ہاتھ میری شرم گاہ کو لگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تیرا ہی حصہ ہے۔“ (ب) جو شخص اپنی ران پر خارش کر رہا ہو اور اس کا ہاتھ شرم گاہ کو لگ جائے تو اس کی ظاہری حالت یہی ہے کہ ہاتھ کی پشت ہی لگتی ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الطهارة/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابن ماجه 483»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ