السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
768. -- باب: من سها فصلى خمسا
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں
حدیث نمبر: 3841
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعِشَاءِ فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ" ثُمَّ أَقْبَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ النَّهْشَلِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کی کوئی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پھرے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہاری طرح انسان ہوں، جس طرح تم یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں اور جس طرح تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔“
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3841]
پھر واپس مڑے اور سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3842
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حَفْصٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا: ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ" ⦗٤٨٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَذَلِكَ أَنَّهُ إِنَّمَا ذَكَرَ السَّهْوَ بَعْدَ الْكَلَامِ فَسَأَلَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَنَ أَنَّهُ قَدْ سَهَا سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَالَ الشَّيْخُ: وَذَلِكَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، ثُمَّ فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ ثُمَّ فِي رِوَايَةِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام اور کلام کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی رحمہ اللہ کی روایت حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پھر حضرت اسود رحمہ اللہ کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3842]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو کا سجدہ باتیں کرنے کے بعد یاد آیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی بھولے ہیں تو آپ نے سہو کے دو سجدے کیے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ کی حدیث میں واضح ہے جو وہ حضرت ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم بن سوید نخعی رحمہ اللہ کی روایت حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے پھر حضرت اسود رحمہ اللہ کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3842]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تم قبله وبرقم 3838»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3843
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" ثُمَّ تَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مِنْجَابِ بْنِ الْحَارِثِ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ وَفِي حَدِيثِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ أَنَّ سُجُودَهُ كَانَ بَعْدَ قَوْلِهِ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ" وَقَدْ مَضَى فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ أَوَّلًا ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ وَقَالَ مَا قَالَ، وَقَدْ مَضَى فِي هَذَا الْبَابِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ مِثْلُ ذَلِكَ وَهُوَ أَوْلَى أَنْ يَكُونَ صَحِيحًا مِنْ رِوَايَةِ مَنْ تَرَكَ التَّرْتِيبَ فِي حِكَايَتِهِ.
(ا) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو اس میں کمی یا زیادتی کی۔ حضرت ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ وہم (کمی یا بیشی کے بارے میں) میری طرف سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی چیز زیادہ ہوگئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی انسان ہوں تمہاری طرح بھول جاتا ہوں۔ جب تم میں سے کوئی نماز میں بھول جائے تو اس کو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلینے چاہئیں،“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے اور دو سجدے کیے۔
(ب) اس حدیث میں اور اسود رحمہ اللہ کی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بعد تھے: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» ”میں تو بس ایک انسان ہی ہوں“۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول منصور رحمہ اللہ کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا، پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر جو فرمانا تھا فرمایا۔
(د) اس باب میں ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ سے بواسطہ علقمہ رحمہ اللہ اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3843]
(ب) اس حدیث میں اور اسود رحمہ اللہ کی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بعد تھے: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» ”میں تو بس ایک انسان ہی ہوں“۔
(ج) ابراہیم رحمہ اللہ سے منقول منصور رحمہ اللہ کی روایت گزر چکی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سجدہ کیا، پھر سلام پھیرا، پھر سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر جو فرمانا تھا فرمایا۔
(د) اس باب میں ابراہیم بن سوید رحمہ اللہ سے بواسطہ علقمہ رحمہ اللہ اسی طرح کی روایت گزر چکی ہے اور وہ صحیح ہونے کے زیادہ قابل ہے، اس روایت سے جس میں راوی نے بیان کرنے میں ترتیب کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3843]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
769. -- باب: من سها فقام من اثنتين ثم ذكر قبل أن يستتم قائما عاد فجلس وسجد للسهو
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول کر دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہو گیا پھر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ گیا تو وہ واپس لوٹ کر بیٹھ گیا اور اس نے سجدہ سہو کیا
حدیث نمبر: 3844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، ثنا جَابِرٌ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُبَيْلٍ الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ الْإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِنِ اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام دو رکعتوں کے بعد (بغیر تشہد پڑھے بھول کر) کھڑا ہو جائے تو اگر اسے سیدھا ہونے سے پہلے یاد آ جائے تو بیٹھ جائے اور اگر سیدھا کھڑا ہو گیا ہے تو نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3844]
حدیث نمبر: 3845
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ فَجَلَسَ فَلَمَّا فَرَغَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَسَجَدْنَا مَعَهُ" وَهَذَا عِنْدَنَا عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَنْتَصِبْ قَائِمًا وَرُوِّينَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ تَحَرَّكَ لِلْقِيَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ فَسَبَّحُوا بِهِ فَجَلَسَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ.
(ا) عامر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ دو رکعتیں پڑھ کر اٹھنے لگے۔ لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا تو وہ بیٹھ گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور ہم نے بھی ان کے ساتھ سجدے کیے۔
(ب) ہمارے نزدیک یہ اس پر محمول ہے کہ وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ ہمیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے لگے تھے تو لوگ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنے لگ گئے تو وہ بیٹھ گئے، پھر انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3845]
(ب) ہمارے نزدیک یہ اس پر محمول ہے کہ وہ سیدھے کھڑے نہیں ہوئے تھے۔ ہمیں یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہونے لگے تھے تو لوگ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنے لگ گئے تو وہ بیٹھ گئے، پھر انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3845]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مداره علي جابر الجعفي»
الحكم على الحديث: ضعيف
770. -- باب: من سها فلم يذكر حتى استتم قائما لم يجلس وسجد للسهو
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اسے سیدھا کھڑا ہونے تک یاد نہ آیا تو وہ واپس نہ بیٹھے اور سجدہ سہو کرے
حدیث نمبر: 3846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ سَلَّمَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ ابْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے بغیر کھڑے ہو گئے (تشہد نہیں پڑھا)، نمازی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3846]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3847
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ فِي اثْنَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ فَلَمْ يَجْلِسْ فِيهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ.
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے اور ان میں (تشہد کے لیے) نہیں بیٹھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو دو سجدے کیے، پھر اس کے بعد سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 3813»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3848
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلَاتِهِ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلَاةِ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ.
حضرت عبداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھول کر دو رکعتوں کے بعد قعدہ کیے بغیر کھڑے ہو گئے تو اپنی نماز جاری رکھی، جب اپنی نماز کے اختتام کے قریب تھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3848]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3849
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَامِرٍ قَالَ:" صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ فَلَمْ يَجْلِسْ فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ" وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ مِثْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ بُحَيْنَةَ فِي السُّجُودِ قَبْلَ السَّلَامِ أَصَحُّ مِنْ ذَلِكَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت عامر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو دو رکعتوں کے بعد بیٹھے بغیر سیدھے کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا، وہ نہ بیٹھے۔ پھر جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کیے، پھر فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔“
سلام سے پہلے سجدہ کرنے کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3849]
سلام سے پہلے سجدہ کرنے کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3849]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم برقم 3824»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 3850
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ:" صَلَّى بِنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَنَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحَ بِهِ النَّاسُ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ: صَنَعْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ" وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حِينَ انْصَرَفَ.
(ا) قیس بن ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہمیں سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو وہ دو رکعتوں کے بعد فوراً سیدھے کھڑے ہو گئے۔ لوگ سبحان اللہ کہنے لگے، لیکن انہوں نے اپنی نماز جاری رکھی، پھر سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: میں نے اسی طرح کیا ہے، جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔
(ب) یہ روایت یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ نے ابو معاویہ رحمہ اللہ سے نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا، انہوں نے نماز سے سلام پھیرتے وقت سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3850]
(ب) یہ روایت یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ نے ابو معاویہ رحمہ اللہ سے نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا، انہوں نے نماز سے سلام پھیرتے وقت سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3850]
تخریج الحدیث: «منكر۔ مرفوع والموقوف وهو الصحيح»
الحكم على الحديث: منكر