🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
770. -- باب: من سها فلم يذكر حتى استتم قائما لم يجلس وسجد للسهو
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اسے سیدھا کھڑا ہونے تک یاد نہ آیا تو وہ واپس نہ بیٹھے اور سجدہ سہو کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3851
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْعَدْلُ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَرَوَاهُ بَيَانٌ عَنْ قَيْسٍ، فَوَقَفَهُ عَلَى سَعْدٍ.
ایک اور سند سے اسی کے ہم معنی روایت مروی ہے۔
اور بیان نے اسے قیس سے روایت کیا تو اسے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث: «منكر۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3852
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِدٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيَّ يَقُولُ:" صَلَّى بِنَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ فَقَامَ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ، فَلَمْ يَجْلِسْ وَمَضَى عَلَى قِيَامِهِ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي سَمِعْتُكُمْ آنِفًا تَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللهِ، لِكَيْمَا أَجْلِسَ لَكِنَّ السُّنَّةَ الَّذِي صَنَعْتُ" ⦗٤٨٦⦘ وَرُوِّينَا ذَلِكَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حضرت عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ہمیں حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، انہیں بیٹھنا تھا لیکن وہ کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ»، «سُبْحَانَ اللَّهِ» ! تو وہ نہ بیٹھے اور کھڑے رہے۔ جب وہ نماز کے آخر میں تھے تو انہوں نے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کیے۔ جب سلام پھیرا تو فرمایا: ”میں نے تمہیں ابھی ابھی سبحان اللہ کہتے سنا ہے تاکہ میں بیٹھ جاؤں لیکن سنت طریقہ وہی ہے جو میں نے کیا۔“
اس بارے میں صحابہ کی ایک کثیر تعداد سے روایت کیا گیا ہے اور جو ہم نے ذکر کر دیا، یہی کافی ہے۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3852]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
771. -- باب: من سها فجلس في الأولى
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول کر پہلی رکعت میں بیٹھ گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3853
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمُطَّوِعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْعَنْسِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا سَهْوَ فِي وَثْبَةِ الصَّلَاةِ إِلَّا قِيَامٌ عَنْ جُلُوسٍ أَوْ جُلُوسٌ عَنْ قِيَامٍ" لَفْظُ حَدِيثِ الدَّارِمِيِّ، وَفِي حَدِيثِ الْأَيْلِيِّ: ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ وَهَذَا حَدِيثٌ يَنْفَرِدُ بِهِ أَبُو بَكْرٍ الْعَنْسِيُّ وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معمولی سا اوپر اٹھنے پر سجدہ سہو نہیں پڑتا بلکہ بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہونے سے یا کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ جانے سے سہو کا سجدہ لازم آتا ہے۔“
اس حدیث کو بیان کرنے میں ابوبکر عنسی منفرد ہیں اور وہ مجہول ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3853]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني في سننه 1/ 378/ 2»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3854
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" السَّهْوُ إِذَا قَامَ فِيمَا يَجْلِسُ فِيهِ، أَوْ قَعَدَ فِيمَا يُقَامُ فِيهِ، أَوْ سَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَإِنَّهُ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاتِهِ وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَتَشَهَّدُ فِيهِمَا وَيُسَلِّمُ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”سہو تب ہوتا ہے جب جہاں بیٹھنا چاہے وہاں کھڑا ہو جائے اور جہاں کھڑا ہونا تھا وہاں بیٹھ جائے یا دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے، لہٰذا وہ اپنی نماز سے فارغ ہوتے وقت بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرے، ان میں تشہد پڑھے اور سلام پھیر لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه عبدالرزاق 3491»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3855
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ الْفَقِيهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشَّرِيحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أنبأ ثَابِتٌ قَالَ: صَلَّى بِنَا أَنَسٌ فَقَامَ فِيمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقْعُدَ أَوْ قَعَدَ فِيمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقُومَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَحَدَّثَ عَنْ أَصْحَابِهِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ".
ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو جہاں انہیں بیٹھنا چاہیے تھا وہاں وہ کھڑے ہو گئے یا جہاں کھڑے ہونا تھا وہاں بیٹھ گئے، تو انہوں نے دو سجدے کیے اور انہوں نے اپنے ساتھیوں کے بارے میں بیان کیا کہ وہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن الجعد في مسنده 1372»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
772. -- باب: من سها فترك ركنا عاد إلى ما ترك حتى يأتي بالصلاة على الترتيب
-- باب: اس شخص کا بیان جو بھول گیا اور اس نے کوئی رکن چھوڑ دیا تو وہ اپنے چھوڑے ہوئے رکن کی طرف واپس لوٹے تاکہ نماز کو ترتیب کے ساتھ ادا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3856
فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ مُرَتَّبَةً، وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ:" صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ ترتیب کے ساتھ نماز ادا فرمائی ہے، اور سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q3856]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي ⦗٤٨٧⦘ قِلَابَةَ، ثنا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 631»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3857
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى فَجَعَلْنَا نَرْمُقُ صَلَاتَهُ لَا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" وَذَكَرَ ذَلِكَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ إِمَّا ثَلَاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلَاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى، يَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ اللهَ وَيُمَجِّدُهُ وَيَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا أَذِنَ اللهُ لَهُ فِيهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ فَيَسْتَوِيَ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يَأْخُذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ يُقِيمُ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ جَبْهَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَيَسْتَوِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ فَوَصَفَ الصَّلَاةَ هَكَذَا حَتَّى فَرَغَ" ثُمَّ قَالَ:" لَا تَتِمُّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ".
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اس نے نماز پڑھی۔ جب نماز مکمل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر لوگوں کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”جا دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ وہ چلا گیا اور جا کر نماز پڑھی تو ہم اس کی نماز کی طرف دھیان کرنے لگے ہمیں اس کی نماز میں کوئی عیب سمجھ نہ آیا۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کیا اور لوگوں کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز نہیں پڑھی۔“ انہوں نے یہ بات دو بار یا تین بار ذکر کی تو اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نہیں معلوم کہ آپ میری نماز میں کون سا عیب بتا رہے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کرے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے، اپنے چہرے کو دھوئے، دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے، اپنے سر کا اور اپنے دونوں پاؤں کا ٹخنوں تک مسح کرے۔ پھر (نماز کے لیے کھڑے ہوتے وقت) تکبیر کہے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور قرآن میں سے جتنا اللہ نے اسے اجازت دی پڑھے۔ پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی اپنی جگہ برابر ہو جائیں، پھر کہے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ اور سیدھا کھڑا ہو جائے حتیٰ کہ ہر عضو اپنی اصل جگہ پر آ جائے۔ پھر اپنی کمر کو بالکل سیدھا کر لے اس کے بعد تکبیر کہہ کر سجدہ کر لے تو اپنی جبین کو زمین پر ٹکا لے حتیٰ کہ اس کے جوڑ برابر ہو جائیں، پھر تکبیر کہتے ہوئے سجدے سے سر اٹھائے اور اپنے مقعد پر برابر ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی کمر سیدھی رکھے۔“
تو انہوں نے نماز کو اس طرح بیان کیا حتیٰ کہ وہ اس سے فارغ ہو جائے پھر فرمایا: ”تم میں سے کسی کی نماز اس وقت تک ہرگز مکمل نہ ہوگی جب تک کہ اس طرح نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم برقم 2635»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
773. -- باب: من شك في فعل ما أمر به
-- باب: اس شخص کا بیان جسے کسی ایسے کام کے کرنے میں شک ہو جائے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3858
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ عَلَى شَكٍّ مِنْ صَلَاتِهِ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَكُونَ عَلَى الشَّكِّ مِنَ الزِّيَادَةِ" وَقَدْ مَضَى مَعْنَاهُ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں کمی کوتاہی کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ اس طرح نماز پڑھے کہ شک پر زیادتی ہو۔“
اس کے ہم معنی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3858]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ البزار»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
774. -- باب: من كثر عليه السهو في صلاته فسجدتا السهو تجزيان عن ذلك كله
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر اس کی نماز میں سہو (بھول) کثرت سے طاری ہو تو سہو کے دو سجدے ان سب کی طرف سے کفایت کر جائیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3859
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَجَّاجٌ قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِحْدَى صَلَاتِي الْعِشَاءِ أَوِ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: الظُّهْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَقَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَمْ يَذْكُرْ حَجَّاجٌ وَهُوَ غَضْبَانُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَالُوا: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ وَفِي النَّاسِ رَجُلٌ كَانَ يَدْعُوهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ:" لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ" فَقَالَ: بَلَى نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ:" صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ" وَاللَّفْظُ لِسُلَيْمَانَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي الْعَصْرُ وَقَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز (ظہر یا عصر) پڑھائی۔ میرا غالب گمان ہے کہ انہوں نے ظہر کا نام لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد کے سامنے غصے کی حالت میں ایک لکڑی کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ حجاج نے غصہ کی حالت کا ذکر نہیں کیا۔ آپ نے اپنا ہاتھ اس لکڑی پر رکھا ہوا تھا۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ وہ دونوں بھی آپ کے سامنے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ لوگ جلدی جلدی نکلے تو کہنے لگے: ”کیا نماز کم ہو گئی؟“ لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالیدین کہا کرتے تھے، ذوالیدین نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں بھولا اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے۔“ تو اس نے عرض کیا: ”کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! بلکہ آپ بھول گئے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر (سجدے کے لیے) سر رکھا اور تکبیر کہی، پھر معمول کے سجدوں جیسا یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
(ب) بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی اور فرمایا: پھر آپ نے سلام پھیرا پھر تکبیر کہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 714۔ 715۔ 482»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں