السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
774. -- باب: من كثر عليه السهو في صلاته فسجدتا السهو تجزيان عن ذلك كله
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر اس کی نماز میں سہو (بھول) کثرت سے طاری ہو تو سہو کے دو سجدے ان سب کی طرف سے کفایت کر جائیں گے
حدیث نمبر: 3860
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ الرَّقِّيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَجْدَتَا السَّهْوِ تَجْزِيَانِ مِنْ كُلِّ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانٍ" لَفْظُ حَدِيثِ الْمَالِينِيِّ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدَانَ:" سَجْدَتَا السَّهْوِ لِكُلِّ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانِ" وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعَدُّ مِنْ إِفْرَادِ حَكِيمِ بْنِ نَافِعٍ الرَّقِّيِّ، وَكَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يُوَثِّقُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سہو کے دو سجدے ہر کمی اور زیادتی سے کفایت کر جاتے ہیں۔“
(ب) ابن عبدان کی حدیث میں ہے: ”ہر کمی اور زیادتی کے لیے سہو کے دو سجدے ہیں۔“
یہ حدیث حکیم بن نافع رقی کی منفرد روایات میں شمار ہوتی ہے، اور یحییٰ بن معین انہیں ثقہ قرار دیتے تھے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3860]
(ب) ابن عبدان کی حدیث میں ہے: ”ہر کمی اور زیادتی کے لیے سہو کے دو سجدے ہیں۔“
یہ حدیث حکیم بن نافع رقی کی منفرد روایات میں شمار ہوتی ہے، اور یحییٰ بن معین انہیں ثقہ قرار دیتے تھے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3860]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابويعلي: 4592۔ 4684»
الحكم على الحديث: ضعيف
775. -- باب: من ترك شيئا من تكبيرات الانتقالات لم يسجد سجدتي السهو
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے تکبیرات انتقال (ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف جاتے وقت کی تکبیرات) میں سے کوئی چیز چھوڑ دی تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3861
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ" وَهَذَا عِنْدَنَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهَا عَنْهُ فَلَمْ يَسْجُدْ لَهُ.
ابن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کو مکمل نہیں کرتے تھے۔
(ب) ہمارے نزدیک اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہنا بھول گئے۔ اس لیے آپ نے سجدہ نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3861]
(ب) ہمارے نزدیک اس کو اس پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہنا بھول گئے۔ اس لیے آپ نے سجدہ نہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3861]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطيالسي 1278»
الحكم على الحديث: ضعيف
776. -- باب: من سها عن القراءة
-- باب: اس شخص کا بیان جو قراءت کرنا بھول گیا
حدیث نمبر: 3862
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ فَلَمْ يَقْرَأْ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قِيلَ لَهُ: مَا قَرَأْتَ قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ؟ قَالُوا: حَسَنًا قَالَ: فَلَا بَأْسَ إِذًا" وَهَذَا عَلَى قَوْلِ الشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ مَحْمُولٌ عَلَى الْقِرَاءَةِ الْوَاجِبَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ سَجَدَ لِلسَّهْوِ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلَاةَ، فَإِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ بَيْنَ ظَهْرِي الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهُوَ مَحْمُولٌ عِنْدَنَا عَلَى قِرَاءَةِ السُّورَةِ أَوْ عَلَى الْإِسْرَارِ بِالْقِرَاءَةِ فِيمَا كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَجْهَرَ بِهَا، ثُمَّ قَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ أَعَادَهَا وَذَلِكَ يَرِدُ فِي بَابِ أَقَلِّ مَا يُجْزِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی تو اس میں قراءت نہ کی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: آپ نے قراءت نہیں کی، تو انہوں نے فرمایا: رکوع و سجود کیے تھے؟ اس نے کہا: بہت اچھے۔ انہوں نے فرمایا: تو پھر کوئی حرج نہیں۔
یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قدیم قول پر ہے اور اس کو قراءت واجبہ پر محمول کیا جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہاں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ انہوں نے سہو کے لیے سجدہ کیا اور نماز نہیں لوٹائی اور یہ انہوں نے مہاجرین و انصار کی موجودگی میں کیا ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ (سورہ فاتحہ کے علاوہ) زائد سورت پر محمول ہے یا جن نمازوں میں جہری قراءت کرنی چاہیے ان میں سری قراءت پر محمول ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز دوبارہ پڑھی۔ اس موضوع پر احادیث ”باب اقل ما یجزی“ میں آئیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3862]
یہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قدیم قول پر ہے اور اس کو قراءت واجبہ پر محمول کیا جائے گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہاں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ انہوں نے سہو کے لیے سجدہ کیا اور نماز نہیں لوٹائی اور یہ انہوں نے مہاجرین و انصار کی موجودگی میں کیا ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ (سورہ فاتحہ کے علاوہ) زائد سورت پر محمول ہے یا جن نمازوں میں جہری قراءت کرنی چاہیے ان میں سری قراءت پر محمول ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز دوبارہ پڑھی۔ اس موضوع پر احادیث ”باب اقل ما یجزی“ میں آئیں گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3862]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في الام 7/ 238»
الحكم على الحديث: ضعيف
777. -- باب: من جهر بالقراءة فيما حقه الإسرار لم يسجد سجدتي السهو
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اس نماز میں بلند آواز سے قراءت کی جس میں آہستہ پڑھنا حق تھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3863
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:"" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ"".
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے تھے اور بعض اوقات ہمیں ایک آیت سنا دیتے۔ آپ پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری چھوٹی کرتے اور مغرب کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3863]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 759۔ 776»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ يَحْيَى وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ فِي الثَّالِثَةِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِهَذِهِ الْآيَةِ {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ} [آل عمران: ٨] .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ دو سورتیں پڑھتے تھے اور بعض اوقات ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیا کرتے تھے، آپ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔
سیدنا ابوعبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کی روایت ہم بیان کرچکے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مغرب کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور یہ آیت پڑھتے سنا: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ”اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت عطا کر دی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر، بیشک تو سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3864]
سیدنا ابوعبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کی روایت ہم بیان کرچکے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مغرب کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور یہ آیت پڑھتے سنا: ﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة آل عمران: 8] ”اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت عطا کر دی ہے اور ہمیں اپنی خصوصی رحمت عطا کر، بیشک تو سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3864]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3865
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا عِنْدَنَا لَا يُوجِبُ سَهْوًا.
(ا) عبداللہ بن زیاد فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ظہر اور عصر میں قراءت کرتے ہوئے سنا ہے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ بھول کر واجب نہیں کرتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3865]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ بھول کر واجب نہیں کرتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3865]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافي في الام 7/ 188»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3866
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، شَكَّ دَاوُدُ، فَسَبَّحَ النَّاسُ فَمَضَى فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" إِنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةً، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ خِلَافُ السُّنَّةِ، وَلَكِنِّي قَرَأْتُ نَاسِيًا فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْطَعَ الْقِرَاءَةَ" وَيُذْكَرُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ جَهَرَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَلَمْ يَسْجُدْ، وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ بِنَحْوٍ مِنْ ذَلِكَ وَرُوِيَ فِيهِ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ظہر یا عصر کی نماز میں جہری قراءت کی۔ لوگ سبحان اللہ کہنے لگے مگر انہوں نے اپنی قراءت جاری رکھی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ہر نماز کی قراءت ہوتی ہے اور مجھے ایسا کرنے پر سنت کی مخالفت نے نہیں ابھارا بلکہ میں نے بھول کر قراءت شروع کر دی تھی، لیکن میں نے قراءت کو منقطع کرنا اچھا نہ سمجھا۔
قتادہ رحمہ اللہ کے واسطے سے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ظہر اور عصر کی نماز میں جہری قراءت کی اور سجدہ سہو نہیں کیا۔
اسی کی مثل سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور اس بارے میں سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3866]
قتادہ رحمہ اللہ کے واسطے سے بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ظہر اور عصر کی نماز میں جہری قراءت کی اور سجدہ سہو نہیں کیا۔
اسی کی مثل سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور اس بارے میں سیدنا عمر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3866]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
778. -- باب: من التفت في صلاته لم يسجد سجدتي السهو
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں ادھر ادھر دیکھا تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3867
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي ذَهَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَمَجِيءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَصْفِيقِ النَّاسِ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لِيَ رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيحَ؟ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ التُفِتَ إِلَيْهِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ" وَرُوِّينَا فِيمَا مَضَى، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بنو عمرو بن عوف کی طرف جانے میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نماز پڑھانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آجانے اور لوگوں کے تالیاں بجانے کے بارے میں جو روایت منقول ہے اس میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر نہیں جھانکتے تھے، جب لوگوں نے زیادہ تالیاں بجائیں تو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے التفات کیا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس قدر تالیاں کیوں بجائیں؟ اگر کسی کو نماز میں کوئی مسئلہ پیش آجائے تو وہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ» ”سبحان اللہ“ کہے کیونکہ جب وہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ» ”سبحان اللہ“ کہے گا تو اس کی طرف توجہ ہو جائے گی۔ تالیاں بجانا تو صرف خواتین کے لیے۔“
گزشتہ اوراق میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3867]
گزشتہ اوراق میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3867]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 784»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3868
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نمازِ صبح کی تکبیر ہو چکی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور گھاٹی کی طرف بھی دیکھ رہے تھے۔ ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت نگہبانی کے لیے گھاٹی کی طرف ایک سوار بھیجا تھا (جسے آپ دیکھ رہے تھے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3868]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 916»
الحكم على الحديث: صحيح
779. -- باب: من فكر في صلاته أو حدث نفسه بشيء لم يسجد سجدتي السهو
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنی نماز میں کچھ سوچا یا اپنے دل میں کوئی بات کی تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 3869
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ الْمِصْرِيُّ ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوَفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُجُوِّزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ وَغَيْرِهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت سے اس بارے میں کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی جو اس کے دل میں وسوسے پیدا ہوں یا جو وہ اپنے دل میں باتیں کرے جب تک کہ اس بات کا تکلم نہ کرلے یا اس پر عمل نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 3869]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري2528»
الحكم على الحديث: صحيح