🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1700. -- باب: رواية من روى الأمر بقضاء يوم مكانه في هذا الحديث
-- باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث میں اس دن کی جگہ ایک دن قضا کرنے کے حکم کو بیان کیا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8061
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزُّبَيْرِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ⦗٣٨٣⦘ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ:" صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ، قَالَ:" أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، فَقَالَ" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا أَجِدُ أَحْوَجَ إِلَى هَذَا مِنِّي وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِي، فَقَالَ:" كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُ بَيْتِكَ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ، وَاسْتَغْفَرِ اللهَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلام آزاد کر۔“ اس نے کہا: میں نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔“ اس نے کہا: میں اس کی قدرت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا۔“ اور اس نے کہا: میں نہیں پاتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ صاع کھجوریں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نہیں پاتا جو مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ اس کا محتاج ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کھا اور تیرے گھر والے کھائیں، اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھ لینا اور استغفار کر۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8061]
تخریج الحدیث: «منكر الاسناد۔ دارقطني»

الحكم على الحديث: منكر الاسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8062
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيُضْرَبُ نَحْرُهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا ذَاكَ؟" قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَاجْلِسْ"، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ، فَقَالَ:" خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ"، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ:" فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ" قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ هَكَذَا رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَطَاءٍ، وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ عَطَاءٍ بِزِيَادَةِ ذِكْرِ صَوْمِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْقَضَاءَ وَلَا قَدْرَ الْعَرَقِ، وَرُوِيَ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ، وَالِاعْتِمَادُ عَلَى الْأَحَادِيثِ الْمَوْصُولَةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو اپنے بال نوچ رہا تھا اور سینہ پیٹتا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بندہ ہلاک ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ اس نے کہا: رمضان میں میں اپنی بیوی کو جا پہنچا اور میں روزے سے تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ غلام آزاد کرے؟“ اس نے کہا: نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو استطاعت رکھتا ہے کہ اونٹ کی قربانی دے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر بیٹھ جا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”اسے لے جا اور صدقہ کر دے۔“ اس نے کہا: میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو کھا اور ایک دن کا روزہ رکھ اس کی وجہ سے جو تو نے کیا ہے۔“
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید رحمہ اللہ سے پوچھا کہ اس ٹوکرے میں کتنی کھجوریں تھیں تو انہوں نے کہا: پندرہ سے بیس صاع تک۔ داؤد بن ابی ہند نے اسے عطاء سے دو مہینے کے متواتر روزوں کے اضافے کے ساتھ بیان کیا ہے، مگر اس میں قضا اور ٹوکرے کی مقدار کا تذکرہ نہیں کیا۔
یہ سعید بن مسیب سے دیگر سندوں سے بھی مروی ہے اور ان پر حدیث کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے، اور اعتماد موصول احادیث پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8062]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه مالك»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1701. -- باب: رواية من روى في هذا الحديث لفظة لا يرضاها أصحاب الحديث
-- باب: اس راوی کی روایت کا بیان جس نے اس حدیث میں ایسا لفظ روایت کیا ہے جسے محدثین پسند نہیں کرتے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8063
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْأَرْغِيَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، حدَّثَنِي أَبِي، قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أنبأ عُمَرُ، وَالْوَلِيدُ، قَالُوا: أنبأ الْأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ، قَالَ:" وَيْحَكَ وَمَا شَأْنُكَ؟" قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" فَأَعْتِقْ رَقَبَةً" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ⦗٣٨٤⦘ ضَعَّفَ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ" وَأَهْلَكْتُ"، وَحَمَلَهَا عَلَى أَنَّهَا أُدْخِلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الْأَرْغِيَانِيِّ، فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ بِالْإِسْنَادِ الْأَوَّلِ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَرَوَاهُ دُحَيْمٌ وَغَيْرُهُ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ دُونَهَا، وَرَوَاهُ كَافَّةُ أَصْحَابِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ دُونَهَا، وَلَمْ يَذْكُرْهَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَكَانَ شَيْخُنَا يَسْتَدِلُّ عَلَى كَوْنِهَا فِي تِلْكَ الرِّوَايَةِ أَيْضًا خَطَأٌ، بِأَنَّهُ نَظَرَ فِي كِتَابِ الصَّوْمِ تَصْنِيفَ الْمُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ بِخَطٍّ مَشْهُوَرٍ فَوَجَدَ فِيهِ هَذَا الْحَدِيثَ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ، وَأَنَّ كَافَّةَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ رَوَوْهُ عَنْهُ دُونَهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا اور ہلاک کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس، تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: میں اپنی بیوی پر رمضان میں واقع ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو غلام آزاد کر۔“ اور حدیث پوری بیان کی۔
(ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ نے «وَأَهْلَكْتُ» ”اور میں نے ہلاک کر دیا“ کے الفاظ کو ضعیف قرار دیا ہے اور یہ رائے دی کہ یہ محمد بن مسیب ارغیانی کی روایت میں داخل کر دیے گئے ہیں، کیونکہ دوسروں نے اسے ان سے اور اوزاعی سے ان الفاظ کے بغیر روایت کیا ہے، اور زہری کے شاگردوں میں سے کسی نے انہیں ذکر نہیں کیا سوائے اس روایت کے جو ابوثور عن معلی بن منصور عن سفیان بن عیینہ عن زہری مروی ہے۔ ہمارے شیخ اس روایت میں بھی ان الفاظ کے خطا ہونے پر یہ استدلال کرتے تھے کہ انہوں نے معلی بن منصور کی تصنیف کتاب الصوم مشہور خط میں دیکھی تو اس میں یہ حدیث ان الفاظ کے بغیر پائی، اور سفیان کے تمام شاگردوں نے اسے ان کے بغیر روایت کیا ہے، واللہ اعلم۔) [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8063]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ دارقطني»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8064
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سُئِلَ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ رَجُلٍ جَامَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" ⦗٣٨٥⦘ عَلَيْهِمَا كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّ الصِّيَامَ عَلَيْهِمَا جَمِيعًا"، قِيلَ لَهُ: فَإِنِ اسْتَكْرَهَهَا؟ قَالَ:" عَلَيْهِ الصِّيَامُ وَحْدَهُ".
عباس بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی کہ اوزاعی رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے، تو انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں پر ایک ہی کفارہ ہے، سوائے روزے کے، مگر روزہ ان دونوں پر ہے؛ انہیں کہا گیا کہ اگر عورت نہ چاہتی ہو تو انہوں نے فرمایا کہ پھر مرد اکیلے پر روزہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8064]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1702. -- باب: التغليظ على من أفطر يوما من شهر رمضان متعمدا من غير عذر
-- باب: اس شخص پر سختی کا بیان جس نے ماہِ رمضان کا کوئی روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8065
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ، قَالَ حَبِيبٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ لَمْ يَقْضِ عَنْهُ وَإِنْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ" وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَبُو الْمُطَوِّسِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ الْمُطَوِّسِ، وَتَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَا أَدْرِي سَمِعَ أَبُوهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَمْ لَا، وَقَدْ أَخْرَجَ الْبُخَارِيُّ مَتْنَهُ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رمضان کا ایک روزہ کسی عذر کے بغیر چھوڑا جو اللہ تعالیٰ نے اسے رخصت دی تھی، تو وہ اس کی قضا نہیں دے سکتا اگرچہ وہ پورا سال روزے رکھے۔“
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ابو المطوس کا نام یزید بن مطوس ہے، وہ حدیث میں متفرد ہے، اور مجھے معلوم نہیں کہ ان کے والد نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے یا نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8065]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8066
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مِجْشَرٍ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ: حُدِّثْتُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ:" مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ حَتَّى يَلْقَى اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ" وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان کا ایک روزہ عذر کے بغیر چھوڑا تو اس کو پوری زندگی کے روزے فائدہ نہیں دیں گے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8066]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه اون نخرا»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8067
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مَنْ رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا مِنْ غَيْرِ عِلَّةٍ ثُمَّ قَضَى طُولَ الدَّهْرِ لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ" عَبْدُ الْمَلِكِ هَذَا أَظُنُّهُ ابْنَ حُسَيْنٍ النَّخَعِيِّ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان میں ایک روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑا، پھر لمبا عرصہ اسے قضا کرتا رہا تو اس سے قبول نہیں ہو گا۔
میرے خیال میں یہ عبدالملک، ابن حسین نخعی ہے، اور وہ قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8067]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8068
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فِي رَجُلٍ أَفْطَرَ مِنْ رَمَضَانَ يَوْمًا مُتَعَمِّدًا قَالَا:" مَا نَدْرِي مَا كَفَّارَتُهُ، يَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ، وَيَسْتَغْفِرُ اللهَ" ⦗٣٨٦⦘ وَرُوِيَ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَالشَّعْبِيِّ نَحْوُ قَوْلِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فِي أَنْ لَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.
ابراہیم (نخعی) اور سعید بن جبیر رحمہما اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے رمضان میں ایک دن کا روزہ عمداً افطار کیا: ہم نہیں جانتے کہ اس کا کفارہ کیا ہے، وہ اس کے عوض ایک دن کا روزہ رکھے اور توبہ و استغفار کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8068]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8069
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الَّذِي أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ بِكَفَّارَةِ الظِّهَارِ.
اسماعیل بن سالم، مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حکم دیا جس نے رمضان میں ایک دن کا روزہ چھوڑا کہ ”اس کا کفارہ ظہار کا کفارہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8069]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن عبدالبر»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8070
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَهَذَا اخْتِصَارٌ وَقَعَ مِنْ هُشَيْمٍ لِلْحَدِيثِ، فَقَدْ رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، وَمُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُفَسَّرًا فِي قِصَّةِ الْوَاقِعِ عَلَى أَهْلِهِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَهَكَذَا كُلُّ حَدِيثٍ كَانَ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ وَجْهٍ مُطْلَقًا، فَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُبَيَّنًا مُفَسَّرًا فِي قِصَّةِ الْوِقَاعِ، وَلَا يَثْبُتُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِطْرِ بِالْأَكْلِ شَيْءٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث اختصار کے ساتھ نقل فرماتے ہیں۔
جریر نے اس حدیث کو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ اس میں رمضان میں اپنی بیوی پر واقع ہونے والے واقعے کی تفسیر کو بیان کیا ہے اور دوسری سند سے بھی اسی قصے کو واضح بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے روزہ توڑنے والے کے کھانے میں کچھ ثابت نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8070]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظرقبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں