🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2236. -- باب: اعتبار التماثل فيما كان موزونا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بالوزن وفيما كان مكيلا على عهده بالكيل إذا بيع الجنس الواحد فيما يجري فيه الربا بعضه ببعض
-- باب: نبی ﷺ کے عہدِ مبارک میں وزن کی جانے والی اشیاء کا وزن کے اعتبار سے، اور ماپی جانے والی اشیاء کا ماپ کے اعتبار سے برابر ہونا ضروری ہے، جب ان چیزوں میں سے ایک ہی جنس کی ایک دوسرے کے عوض بیع کی جائے جن میں سود جاری ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10543
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟" قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
(١٠٥٤٣) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا، وہ عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا خیبر کی تمام کھجوریں اس طرح کی ہیں؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس طرح کی نہیں ہیں۔ بلکہ ہم دو صاع دے کر ایک صاع وصول کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو۔ ردی کو فروخت کر کے پھر عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10543]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 4001»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10544
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ فَكُنَّا نَبِيعُ الصَّاعَيْنِ بِالصَّاعِ، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ".
(١٠٥٤٤) ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ملی جلی کھجوروں کا رزق دیے گئے یعنی وہ ملی جلی ہی ہوتی تھیں تو ہم دو صاع کے بدلے ایک صاع لے لیتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ایک درہم دو درہم کے عوض بھی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10544]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1974»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10545
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ.
(١٠٥٤٥) عبیداللہ بن موسیٰ شیبان سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ملی تو فرمایا: کھجور کے دو صاع کے بدلے ایک صاع ہو نہ گندم کے دو صاع کے بدلے ایک صاع اور نہ ہی دو درہم کے بدلے ایک درہم لینا جائز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10545]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2237. -- باب:: لا خير في التحري فيما في بعضه ببعض ربا
-- باب: ”ان اشیاء کے تبادلے میں اندازہ لگانے میں کوئی بھلائی نہیں جن میں سے بعض کا بعض کے ساتھ تبادلہ سود کا باعث بنتا ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10546
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١٠٥٤٦) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کے ڈھیر کو فروخت کرنے سے منع فرمایا جس کا ماپ معلوم نہ ہو، ایسی کھجور کے عوض جن کا ماپ معلوم ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10546]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1530»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2238. -- باب:: لا يباع المصوغ من الذهب والفضة بجنسه بأكثر من وزنه استدلالا بما مضى من الأحاديث الثابتة في الربا
-- باب: ”سونے اور چاندی کے بنے ہوئے زیورات کو ان کی جنس کے عوض ان کے وزن سے زیادہ پر فروخت نہیں کیا جائے گا“، سود کے باب میں گزر چکی ثابت احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10547
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
(١٠٥٤٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر وزن ایک جیسا اور چاندی چاندی کے عوض برابر وزن جس نے زیادہ کیا یا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10547]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1588»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10548
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ، ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلَ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي فيه فَنَهَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّتِهِ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ حَيْثُ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَنَهَاهُ أَبُو الدَّرْدَاءَ وَمَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ.
(١٠٥٤٨) مجاہد فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھوم رہا تھا، ایک سنار آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سونے کے زیور بناتا ہوں۔ پھر میں کچھ فروخت کرتا ہوں، اس کے وزن سے زائد پر تو میں اس میں اپنی مزدوری لے لیتا ہوں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو منع فرما دیا۔ سنار بار بار اپنا مسئلہ دہرا رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کو منع کر رہے تھے۔ یہاں تک وہ مسجد کے دروازے یا اپنی سواری کے پاس آئے۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ہو، ان میں تفاضل نہیں ہے۔ یہ تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہماری طرف عہد تھا اور ہمارا عہد تمہاری طرف یہی ہے۔
(ب) معاویہ کی حدیث گزر چکی جب انھوں نے پانی پینے کا برتن سونے یا چاندی کا زیادہ وزن میں فروخت کیا تو ابودرداء نے منع کردیا تھا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی نہی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10548]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1300»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10549
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَجْلِسُ عِنْدِي فَيُعَلِّمُنِي الْآيَةَ فَأَنْسَاهَا فَأُنَادِيهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ نُسِّيتُهَا فَيَرْجِعُ فَيُعَلِّمُنِيهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ فَأَبِيعُهُ بِوَزْنِهِ وَآخُذُ لِعُمَالَةِ يَدِي أَجْرًا، قَالَ: لَا تَبِعِ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَلَا تَأْخُذْ فَضْلًا.
(١٠٥٤٩) ابورافع فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس بیٹھتے، وہ مجھے آیت سیکھاتے۔ وہ مجھے بھول گئی، میں ان کو آواز دیتا: اے امیرالمومنین! میں بھول گیا ہوں۔ وہ واپس آئے اور مجھے وہ آیت سکھائی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں سونے کے زیورات بناتا ہوں میں اس کے وزن کے ساتھ فروخت کردیتا ہوں۔ کیا میں اپنی مزدوری لے لیا کروں؟
انھوں نے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، برابر وزن میں فروخت کرو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن میں۔ زائد وصول نہ کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10549]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2239. -- باب:: لا يباع ذهب بذهب مع أحد الذهبين شيء غير الذهب
-- باب: ”سونے کی سونے کے عوض اس طرح بیع نہیں کی جائے گی کہ دونوں میں سے کسی ایک سونے کے ساتھ کوئی اور چیز بھی شامل ہو“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ⦗٤٧٨⦘ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقَلَائِدَ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ فَنُزِعَ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١٠٥٥٠) فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہار لائے گئے، جن میں موتی اور سونا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں تھے، یہ غنیمت کا مال فروخت کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سونے کے متعلق حکم دیا جو ہار میں تھا کہ اتار لیا جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر وزن کے ساتھ بیچو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10550]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1591»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10551
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَى الْمَعَافِرِيَّ، أَخْبَرَهُمَا، عَنْ حَنَشٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوٍ فَصَارَتْ لِي، أَوْ قَالَ: فَطَارَتْ لِي، وَلِأَصْحَابِي قَلَائِدُ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، فَقَالَ: انْزِعْ ذَهَبَهَا، فَاجْعَلْهُ فِي كِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَكَ فِي كِفَّةٍ، ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
(١٠٥٥١) حضرت حنش فرماتے ہیں کہ ہم فضالہ بن عبید کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے، حنش کہتے ہیں کہ مجھے یا میرے ساتھیوں کو ایسے ہار ملے جس میں سونا، چاندی اور موتی تھے۔ میں نے اس کو فروخت کرنے کا ارادہ کیا، میں نے فضالہ بن عبید سے اس کے بارے میں سوال کیا تو فضالہ فرمانے لگے: اس کا سونا اتار کر ایک پلڑے میں رکھ اور سونا اتار کر ایک پلڑے میں رکھ پھر برابر برابر لینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ان کو برابر برابر ہی لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10551]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1591»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10552
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، بِنَيْسَابُورَ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ الْغَزَّالُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُمْ بِبَغْدَادَ، قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ مُعَلَّقَةٌ بِذَهَبٍ ابْتَاعَهَا رَجُلٌ بِسَبْعَةِ دَنَانِيرَ أَوْ بِتِسْعةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَتَّى يُمَيَّزَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا" قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَةَ، قَالَ:" لَا حَتَّى يُمَيَّزَ بَيْنَهُمَا" قَالَ: فَرَدَّهُ حَتَّى مُيِّزَ بَيْنَهُمَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَرِوَايَةُ ابْنِ الْمُبَارَكِ تُوَافِقُ مَا مَضَى مِنَ الرِّوَايَتَيْنِ فِي الْحُكْمِ وَإِنْ كَانَ بَعْضُ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ تَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ فَخَالَفَ ابْنَ الْمُبَارَكِ فِي مَتْنِهِ.
(١٠٥٥٢) فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہار لائے گئے جن میں سونے کے موتی لگے ہوئے تھے، ایک آدمی نے سات یا نودینار کا وہ ہار خرید لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہاں تک کے دونوں کے درمیان تمیز ہوجائے۔ کہتے ہیں: میرا ارادہ پتھروں کا تھا۔ فرمایا: نہیں، یہاں تک کہ دونوں کے درمیان تمیز ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے واپس کردیا یہاں تک ان کے درمیان تمییز کردی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10552]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1591»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں