🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2229. -- باب: اقتضاء الذهب من الورق
-- باب: چاندی کے بدلے سونے کا تقاضا (وصولی) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10513
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ أَوْ قَالَ: حِينَ خَرَجَ مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفَرَّقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ" وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کر رہا تھا۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا لیکن لیتا درہم، اور میں درہموں کے عوض فروخت کرتا لیکن وصول دینار کرتا۔ میرے دل میں اس کے متعلق شک پیدا ہوا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے یا کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ٹھہریے، میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا ہوں۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا ہوں اور درہم وصول کرتا ہوں اور میں درہموں کے عوض فروخت کرتا ہوں لیکن وصول دینار کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اگر اس دن کے بھاؤ کے مطابق ہو، جب تم دونوں میں جدائی نہ ہو اور تم دونوں کے درمیان کوئی چیز باقی نہ رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10513]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 3354»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَيَجْتَمِعُ عِنْدِي مِنَ الدَّرَاهِمِ فَأَبِيعُهَا مِنَ الرَّجُلِ بِالدَّنَانِيرِ، وَيُعْطِينِيهَا لِلْغَدِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا بَايَعْتَ الرَّجُلَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكُمَا لُبْسٌ" وَبِقَرِيبٍ مِنْ مَعْنَاهُ رُوِيَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، وَالْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِرَفْعِهِ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ بَيْنِ ⦗٤٦٧⦘ أَصْحَابِ ابْنِ عُمَرَ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا۔ میرے پاس درہم جمع ہو جاتے تھے۔ میں آدمی کو دیناروں کے عوض فروخت کر دیتا اور وہ مجھے صبح دیتا، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو کسی شخص سے سونے اور چاندی کے بدلے سودا کرے تو اس سے جدا نہ ہونا کہ تمہارے درمیان کچھ معاملہ یا التباس ہو۔“
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں سے اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے میں سماک بن حرب، سعید بن جبیر سے روایت کرنے میں، منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10514]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2230. -- باب: جريان الربا في كل ما يكون مطعوما استدلالا بما
-- باب: ہر اس چیز میں سود کے جاری ہونے کا بیان جو کھائی جاتی ہو، اس چیز سے استدلال کرتے ہوئے جو (وارد ہوئی ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10515
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ كَمَا مَضَى.
سیدنا معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”کھانا کھانے کے بدلے برابر برابر ہونا چاہیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10515]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 10507»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10516
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمِّ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، أنا أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: ذَكَرَ ذَلِكَ شِبَاكٌ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: ثنا عَلْقَمَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ". قَالَ: قُلْتُ: وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ، قَالَ: إِنَّمَا" نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ جَرِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي جُحَيْفَةَ.
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سود دینے اور سود کھانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اس کے دونوں گواہوں اور لکھنے والوں پر بھی؟ کہتے ہیں: ہم صرف وہ بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10516]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1597»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10517
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ ⦗٤٦٨⦘ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَالزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلًا، وَالزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلًا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھجور کے اوپر کے تولے ہوئے پھل ماپی ہوئی کھجور کے عوض فروخت کرنے، اور منقیٰ کو ماپے ہوئے انگور کے عوض، اور کھیتی کو ماپی ہوئی گندم کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10517]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1542»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2231. -- باب: من قال بجريان الربا في كل ما يكال ويوزن
-- باب: اس شخص کا قول جس نے ہر اس چیز میں سود کے جاری ہونے کا کہا جسے ناپا یا تولا جاتا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10518
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا؟" قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا نَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنَ الْجَمْعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ، أَوْ تَبِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ دُونَ قَوْلِهِ وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ وَرَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ.
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عدی انصار قبیلہ کے ایک شخص کو خیبر پر عامل بنایا، وہ عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا خیبر کی تمام کھجوریں اس طرح کی ہیں؟“ اس نے کہا: نہیں اللہ کے رسول! ہم ایک صاع دو صاعوں کے عوض لیتے ہیں ملی جلی کھجوروں سے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو، لیکن برابر برابر یا تم اس کو فروخت کر کے ان کی قیمت سے یہ خرید لیا کرو، اس طرح وزن ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10518]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 6918»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10519
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْعَدَوِيُّ أَبُو زُهَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ أَبُو مِجْلَزٍ وَأَنَا شَاهِدٌ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ حَتَّى لَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا تَتَّقِي اللهَ؟، حَتَّى مَتَى تُؤَكِّلُ النَّاسَ الرِّبَا؟ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَ زَوْجَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ:" إِنِّي أَشْتَهِي تَمْرَ عَجْوَةٍ" وَإِنَّهَا بَعَثَتْ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأُتِيَتْ بَدَلَهُمَا بِصَاعٍ مِنْ عَجْوَةٍ، فَقَدَّمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَهُ فَتَنَاوَلَ تَمْرَةً ثُمَّ أَمْسَكَ، فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟" قَالَتْ: بَعَثْتُ بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ عَتِيقٍ إِلَى مَنْزِلِ فُلَانٍ فَأَتَيْنَا بَدَلَهُمَا مِنْ هَذَا الصَّاعِ الْوَاحِدِ فَأَلْقَى التَّمْرَةَ مِنْ يَدِهِ وَقَالَ:" رُدُّوهُ رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ وَلَا نُقْصَانٌ، فَمَنْ زَادَ أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَرْبَى وَكُلُّ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَكَّرْتَنِي يَا أَبَا سَعِيدٍ أَمْرًا أُنْسِيتُهُ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، وَكَانَ يَنْهَى بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما صرف میں تفاضل کے قائل تھے، وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ فرماتے تھے، جب وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملے تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے ابن عباس! کیا آپ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ کب تک آپ لوگوں کو سود کھلاؤ گے؟ کیا آپ کو یہ خبر نہیں ملی کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجوہ کھجور کھانے کو میرا دل چاہتا ہے۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پرانی کھجوروں کے دو صاع ایک انصاری کے گھر بھیج دیے اور اس کے عوض ایک صاع عجوہ کھجور کا ان کو مل گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بڑی پسند آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور پکڑی، پھر رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں یہ کہاں سے ملی ہیں؟“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے دو صاع پرانی کھجوریں فلاں کے ہاں بھیجی تھیں تو اس کے بدلے یہ ایک صاع آیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے کھجور ڈال دی اور فرمایا: ”تم اس کو واپس کر دو، تم اس کو واپس کر دو، مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے، کھجور کے بدلے کھجور، گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جَو، سونے کے بدلے سونا، چاندی کے بدلے چاندی، برابر برابر اور نقد ہونا چاہیے، اس میں کمی یا زیادتی درست نہیں ہے، جس نے زیادہ یا کمی کی اس نے سود حاصل کیا، ہر وہ چیز جس کا وزن کیا جائے یا ماپی جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اے ابوسعید! آپ نے مجھے ایسا معاملہ یاد کروا دیا جو میں بھول گیا تھا، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں، اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10519]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الحاكم 2/ 49»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10520
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ أَبُو زُهَيْرٍ، قَالَ: سُئِلَ أَبُو مِجْلَزٍ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنِ الصَّرْفِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ:" لَا بَأْسَ بِمَا كَانَ مِنْهُ يَدًا بِيَدٍ" وَكَانَ يَقُولُ:" إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" حَتَّى لَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" عَيْنٌ بِعَيْنٍ مِثْلٌ بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ رِبًا" قَالَ:" وَكُلُّ مَا يُكَالُ أَوْ يُوزَنُ فَكَذَلِكَ أَيْضًا"، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" جَزَاكَ اللهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ عَنِّي الْجَنَّةَ، فَإِنَّكَ ذَكَّرْتَنِي أَمْرًا كُنْتُ نَسِيتُهُ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ"، وَكَانَ يَنْهَى عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مِجْلَزٍ تَفَرَّدَ بِهِ حَيَّانُ، قُلْتُ: حَيَّانُ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَيُقَالُ فِي قَوْلِهِ وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ أَنَّهُ مِنْ جِهَةِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَكَذَلِكَ هَذِهِ اللَّفْظَةُ إِنْ صَحَّتْ وَيُسْتَدَلُّ عَلَيْهِ بِرِوَايَةِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي احْتِجَاجِهِ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِقِصَّةِ التَّمْرِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ، فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أِيَّ تَمْرٍ شِئْتَ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا أَمِ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ؟ فَكَانَ هَذَا قِيَاسًا مِنْ أَبِي سَعِيدٍ لِلْفِضَّةِ عَلَى التَّمْرِ الَّذِي رُوِيَ فِيهِ قِصَّةٌ، إِلَّا أَنَّ بَعْضَ الرُّوَاةِ رَوَاهُ مُفَسَّرًا مَفْصُولًا، وَبَعْضُهُمْ رَوَاهُ مُجْمَلًا مَوْصُولًا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حیان بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ ابومجلز رحمہ اللہ سے صرف تبادلہ رقم کے متعلق سوال کیا گیا اور میں بھی موجود تھا، تو ابومجلز لاحق بن حمید رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی عمر کے ایک عرصہ میں کہا کرتے تھے کہ جب نقدی ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے، وہ فرماتے تھے کہ سود تو ادھار میں ہے، یہاں تک کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے اس طرح حدیث ذکر کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنس جنس کے بدلے برابر ہونی چاہیے، جس نے زیادتی کی وہ سود ہے اور ہر چیز جو تولی جائے یا ماپی جائے وہ بھی اسی طرح ہے“۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اے ابوسعید! «جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا» ”اللہ آپ کو جزائے خیر دے“، میری طرف سے جنت دے، آپ نے مجھے بھولا ہوا کام یاد کروا دیا ہے، میں «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» ”اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں“ اور اس کے بعد وہ سختی سے منع کرتے تھے۔
ابواحمد (ابن عدی) کہتے ہیں: ابومجلز سے یہ حدیث بیان کرنے میں حیان منفرد ہیں۔ اور حیان پر محدثین نے کلام کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10520]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10521
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ:" إِنَّ الرِّبَا إِنَّمَا هُوَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَفِيمَا يُكَالُ وَيُوزَنُ مِمَّا يُؤْكَلُ وَيُشْرَبُ".
زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: سود صرف سونے چاندی میں ہے یا پھر جو چیزیں ماپی تولی جاتی ہیں جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10521]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 14139»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2232. -- باب:: لا ربا فيما خرج من المأكول والمشروب والذهب والفضة
-- باب: ”کھانے پینے کی اشیاء، سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور چیز میں سود نہیں ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10522
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْنِيهِ" فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ؟، ⦗٤٧٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کرلی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے۔ اس کا سردار آیا اس کا ارادہ رکھتا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دو سیاہ غلاموں کے عوض خریدا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک پوچھا نہیں کہ کیا وہ غلام ہے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10522]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1602»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں