🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2227. -- باب: جواز التفاضل في الجنسين، وأن البر والشعير جنسان مع تحريم النساء إذا جمعتهما علة واحدة في الربا
-- باب: دو مختلف جنسوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کے جواز اور اس بات کا بیان کہ گندم اور جَو دو الگ الگ جنسیں ہیں، نیز ادھار کی حرمت جب ان میں سود کی علتِ واحدہ جمع ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10503
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، أنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" التَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
(١٠٥٠٣) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھجور کھجور کے بدلے، گندم گندم کے عوض، جَو جَو کے عوض، نمک نمک کے بدلے برابر، برابر اور دست بدست نقد فروخت کرو۔ جس نے زیادہ کیا یا زیادہ طلب کیا۔ اس نے سود لیا لیکن جب ان کی رنگتیں ایک جیسی نہ ہوں۔ ابوالاشعث صنعانی حضرت عبادہ بن صامت سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ لوگوں کے پاس موجود تھے وہ عطیہ کے سونے اور چاندی کے برتنوں کی بیع کر رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10503]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1588»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10504
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا تَوْبَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ شَهِدَ النَّاسَ يَتَبَايَعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْأَعْطِيَةِ، فَقَالَ عُبَادَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" بِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى، فَإِذَا اخْتَلَفَ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوهَا يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ لَا بَأْسَ بِهِ الذَّهَبُ بِالْفِضَّةِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالْبُرُّ بِالشَّعِيرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ، وَالْمِلْحُ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ" ⦗٤٦٤⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ كَمَا مَضَى وَهَذِهِ رِوَايَةٌ صَحِيحَةٌ مُفَسَّرَةٌ..
(١٠٥٠٤) سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے عوض، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے عوض، کھجور کھجور کے عوض، نمک کے عوض، برابر برابر فروخت کرو۔ جس نے زیادہ کیا یا زیادہ طلب کیا اس نے سود لیا۔ جب یہ جنسیں مختلف ہوجائیں تو نقد بنقد جیسے چاہو فروخت کرو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ سونا چاندی کے عوض، نقد بنقد جیسے چاہو۔ گندم جو کے بدلے جیسے چاہو نقد بنقد اور نمک کھجور کے عوض جیسے چاہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10504]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1587»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10505
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ أَنَّهُ شَاهَدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ" وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الشَّعِيرِ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا".
(١٠٥٠٥) ابواشعت صنعانی فرماتے ہیں کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر تھے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث کو بیان کر رہے تھے کہ جو کو گندم کے بدلے فروخت کرنا جب جَو زیادہ بھی ہو کوئی حرج نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10505]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10506
وَرَوَاهُ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ هَمَّامٍ، وَقَالَ، فِي الْحَدِيثِ:" وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الذَّهَبِ بِالْفِضَّةِ، وَالْفِضَّةُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، فَأَمَّا النَّسِيئَةُ فَلَا، وَلَا بَأْسَ بِبَيْعِ الْبُرِّ بِالشَّعِيرِ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، وَأَمَّا النَّسِيئَةُ فَلَا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ فَذَكَرَهُ.
(١٠٥٠٦) حضرت بشر بن عمر ہمام سے نقل فرماتے ہیں کہ سونے کے بدلے چاندی خریدنا جبکہ چاندی مقدار میں زیادہ بھی ہو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سودا نقدہو اور ادھار کی صورت میں جائز نہیں ہے، اس طرح گندم کے عوض جو لینا اور جَو مقدار میں زیادہ بھی ہوں۔ سودا نقدی ہو لیکن ادھار میں جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10506]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 3349»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10507
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَالِدٍ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ، قَالَ: بِعْ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ يَأْخُذُ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ" وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ شَعِيرًا قِيلَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، فَهَذَا الَّذِي كَرِهَهُ مَعْمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ خَوْفَ الْوُقُوعِ فِي الرِّبَا احْتِيَاطًا مِنْ جِهَتِهِ لَا رِوَايَةً، وَالرِّوَايَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَّةً تَحْتَمِلُ الْأَمْرَيْنِ جَمِيعًا أَنْ يَكُونَ أَرَادَ الْجِنْسَ الْوَاحِدَ دُونَ الْجِنْسَيْنِ، أَوْ هُمَا مَعًا، لَمَّا جَاءَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بِقَطْعِ أَحَدِ الِاحْتِمَالَيْنِ نَصًّا وَجَبَ الْمَصِيرُ إِلَيْهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(١٠٥٠٧) معمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے غلام کو ایک صاع گندم کا دے کر روانہ کیا کہ جاؤ اس کو فروخت کر کے پھر جَو خرید لینا۔ غلام گیا اس نے ایک صاع اور کچھ زیادہ لے لیا۔ جب معمر آئے تو غلام نے خبر دی۔ معمر کہنے لگے: تو نے ایسا کیوں کیا؟ جاؤ اس کو واپس کرو صرف برابر، برابر لینا۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ کھانا کھانے کے بدلے برابر، برابرہو اور ان دنوں ہمارا کھانا جَو تھا۔ کہا گیا: یہ اس کی مثل نہیں ہے۔ فرمانے لگے: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ اس کے مشابہہ نہ ہو۔
اس کو معمر بن عبداللہ نے پسند کیا کہ کہیں وہ سود میں نہ پڑجائیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عام روایت ہے، وہ دو احتمالوں کو شامل ہے: 1 صرف ایک جنس ہی مراد ہو۔ 2 یا دونوں اکٹھی ہوں۔
اس لیے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ دو احتمالوں میں سے ایک کو باقی رکھا، اسی کی جانب لوٹا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10507]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1592»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2228. -- باب: التقابض في المجلس في الصرف، وما في معناه من بيع الطعام بعضه ببعض
-- باب: بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) میں اسی مجلس میں قبضہ کرنے، اور اسی کے ہم معنی کھانے پینے کی اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثٌ، وَأنا أَبُو بَكْرٍ، أنا الْفِرْيَابِيُّ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ⦗٤٦٥⦘ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ؟، فَقَالَ طَلْحَةُ: أَرِنَا الذَّهَبَ حَتَّى يَأْتِيَ الْخَازِنُ، ثُمَّ تَعَالَ فَخُذْ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، أَوْ لَتَنْقُدَنَّهُ وَرِقَهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" وَقَالَ قُتَيْبَةُ: فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
(١٠٥٠٨) مالک بن اوس فرماتے ہیں کہ میں نے متوجہ ہو کر کہا: کون درہم خریدے گا، طلحہ کہنے لگے: سونا ہمیں دکھاؤ یہاں تک کہ ہمارا خزانچی آجائے۔ پھر آکر اپنی چاندی لے لینا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم! البتہ تو ضرور لوٹا اس کا سونالوٹا یا اس کی چاندی اس کے حوالے کر۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ سونا چاندی کے بدلے فروخت کرنا سود ہے، گندم گندم کے بدلے فروخت کرنا سود ہے۔ جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے ماسوائے نقد لین دین کے۔ قتیہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، فرماتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10508]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2062»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10509
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: أَتَيْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ أَبْغِي بِهَا صَرْفًا، فَقَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ: عِنْدَنَا صَرْفٌ انْتَظِرْ يَأْتِي خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ وَأَخَذَ مِنِّي الْمِائَةَ الدِّينَارِ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ، فَقَالَ لِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تُفَارِقْهُ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" وَقَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا جَاءنا الزُّهْرِيُّ تَفَقَّدْتُهُ فَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا"، فَذَكَرَهُ مِثْلَهُ سَوَاءً، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا، يَعْنِي فِي الصَّرْفِ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِيهِ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا.
(١٠٥٠٩) مالک بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں سو دینار لے کر آیا۔ میں رقم کا تبادلہ چاہتا تھا تو حضرت طلحہ بن عبیداللہ کہنے لگے: ہمارے پاس سکے ہیں، لیکن آپ ہمارے خزانچی کا انتظار کریں وہ غابہ سے آنے والا ہے اور طلحہ نے مجھ سے سو دینار لے لیے۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ ان سے جدا نہ ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ سونا چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے ما سوائے نقد لین دین کے۔ سفیان کہتے ہیں کہ جب ہم زہری کے پاس آئے تو میں نے ان کو موجود نہ پایا۔ انھوں نے یہ کلام ذکر نہ کی۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے مالک بن اوس بن حدثان سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا چاندی کے عوض فروخت کرنا سود ہے۔ لیکن برابر، برابر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10509]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 355»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10510
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ قَالَ: أَرَدْتُ صَرْفًا، فَقَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ: أَنَا أَصْرِفُكَ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ:" الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ" وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ كَمَا مَضَى.
(١٠٥١٠) مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں رقم کا تبادلہ چاہتا تھا تو طلحہ بن عبیداللہ کہنے لگے کہ میں رقم کا تبادلہ کردیتا ہوں لیکن میرا خزانچی غابہ سے واپس آجاتے۔ مالک کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ چاندی چاندی کے بدلے، سونا سونے کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے، ماسوائے نقد لین دین کے۔
اسی طرح اس روایت میں ہے کہ چاندی چاندی کے بدلے، سونا سونے کے بدلے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10510]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10511
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ⦗٤٦٦⦘ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالْآخَرُ نَاجِزٌ، وَإنِ اسْتَنْظَرَكَ حَتَّى يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ هَاتِ، وَهَذَا إِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الرِّبَا".
(١٠٥١١) ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، فروخت کرو برابر، برابر اور چاندی کو سونے کے عوض فروخت نہ کرو کہ ایک ادھار اور دوسری نقد ہو۔ اگر وہ آپ سے گھر میں داخل ہونے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دینامگر نقد بنقد۔ یہ دس وجہ سے ہے کہ میں تم کو سود سے ڈرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10511]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 812»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10512
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَبَّادٌ الْعَدَنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا ابْنُ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا وَكِيعٌ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
(١٠٥١٢) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے۔ جَوجَو کے بدلے، نمک نمک کے بدلے۔ برابر، برابر فروخت کرو۔ جب یہ اصناف مختلف ہوجائیں تو جیسے چاہو فروخت کرو۔ جب کہ سودا نقد ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10512]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1584»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں