السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3261. -- باب: ما جاء في قتل الغيلة في عفو الأولياء
-- باب: دھوکے سے قتل کرنے (قتلِ غیلہ) میں مقتول کے ورثاء کے معاف کرنے کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16061
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، فِي ذِكْرِ مَنْ قُتِلَ بِأُحُدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: وَمِجْذَرُ بْنُ زِيَادٍ قَتَلَهُ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدٍ غِيلَةً، وَكَانَ مِنْ قِصَّةِ مِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ قَتَلَ سُوَيْدَ بْنَ الصَّامِتِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ، وَمِجْذَرُ بْنُ زِيَادٍ، فَشَهِدَا بَدْرًا، فَجَعَلَ الْحَارِثُ يَطْلُبُ مِجْذَرًا لِيَقْتُلَهُ بِأَبِيهِ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَجَالَ الْمُسْلِمُونَ تِلْكَ الْجَوْلَةَ أَتَاهُ الْحَارِثُ مِنْ خَلْفِهِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى حَمْرَاءِ الْأَسَدِ، فَلَمَّا رَجَعَ أَتَاهُ جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ قَتَلَ مِجْذَرَ بْنَ زِيَادٍ غِيلَةً، وَأَمَرَهُ بِقَتْلِهِ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قُبَاءَ، فَلَمَّا رَآهُ دَعَا عُوَيْمَ بْنَ سَاعِدَةَ فَقَالَ:" إِذَا قَدِمَ الْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدٍ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ بِالْمِجْذَرِ بْنِ زِيَادٍ، فَإِنَّهُ قَتَلَهُ يَوْمَ أُحُدٍ غِيلَةً" فَأَخَذَهُ عُوَيْمٌ، فَقَالَ الْحَارِثُ: دَعْنِي أُكَلِّمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى عَلَيْهِ عُوَيْمٌ فَجَابَذَهُ يُرِيدُ كَلَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَهَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَ، فَجَعَلَ الْحَارِثُ يَقُولُ: قَدْ وَاللهِ قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، وَاللهِ مَا كَانَ قَتْلِي إِيَّاهُ رُجُوعًا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَلَا ارْتِيَابًا فِيهِ، وَلَكِنَّهُ حَمِيَّةُ الشَّيْطَانِ، وَأَمْرٌ وُكِلْتُ فِيهِ إِلَى نَفْسِي، فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِ اللهِ، وَأُخْرِجُ دِيَتَهُ وَأَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، وَأُعْتِقُ رَقَبَةً، وَأُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا، إِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللهِ وَجَعَلَ يُمْسِكُ بِرِكَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَبَنُو مِجْذَرٍ حُضُورٌ، لَا يَقُولُ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، حَتَّى إِذَا اسْتَوْعَبَ كَلَامَهُ قَالَ:" قَدِّمْهُ يَا عُوَيْمُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ" فَضَرَبَ عُنُقَهُ.
واقدی شہداءِ احد کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجذر بن زیاد رضی اللہ عنہ کو حارث بن سوید نے دھوکے سے قتل کیا۔ ان کا واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ مجذر رضی اللہ عنہ نے اس کے والد سوید بن صامت کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو مجذر اور حارث بن سوید رضی اللہ عنہما مسلمان ہو گئے اور بدر میں شریک ہوئے تو حارث نے اس دن بھی مجذر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن نہ کر سکا۔ جب احد کا دن ہوا اور مسلمان پسپا ہونے لگے تو حارث پیچھے سے آیا اور مجذر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے پھر حمراء الاسد کی طرف نکلے۔ جب واپس لوٹے تو جبرائیل علیہ السلام نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ مجذر رضی اللہ عنہ کو حارث نے قتل کیا ہے اور وہ بھی دھوکے سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں آئے تو وہاں حارث کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور حکم دیا: ”حارث مسجد کے دروازے کی طرف آ رہا ہے، اسے مجذر بن زیاد رضی اللہ عنہ، جسے اس نے احد کے دن دھوکے سے قتل کیا تھا، کے بدلے میں قتل کر دو۔“ عویم رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ کہنے لگا: ”ایک مرتبہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر لینے دو۔“ عویم رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہونے کے لیے جانے لگے تو وہ کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! میں نے اسے قتل کیا ہے اے اللہ کے رسول! اور میں نے اسلام سے مرتد ہو کر یا اس میں شک کرتے ہوئے اسے قتل نہیں کیا بلکہ شیطانی حمیت کی وجہ سے میں نے اسے قتل کیا ہے۔ اب میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں، اس کی دیت دیتا ہوں، غلام آزاد کرتا ہوں، دو مہینے کے روزے رکھتا ہوں، ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاتا ہوں اور میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔“ اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام کو پکڑ لیا۔ بنو مجذر رضی اللہ عنہم بھی وہاں موجود تھے لیکن وہ خاموش تھے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا تھا۔ جب اس کی بات زیادہ لمبی ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”عویم! اسے پکڑو اور قتل کر دو۔“ تو عویم رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن مار دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16061]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 16062
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغِلَانِيُّ، وَهُوَ يَذْكُرُ مَنْ عُرِفَ بِالنِّفَاقِ فِي عَهْدِ ⦗١٠٢⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالْحَارِثُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ صَامِتٍ، مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ الَّذِي قَتَلَ الْمِجْذَرَ يَوْمَ أُحُدٍ، غِيلَةً فَقَتَلَهُ بِهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مفضل بن غسان غلابی رحمہ اللہ ان منافقین کے بارے میں فرماتے ہیں جو نفاق کے ساتھ عہدِ رسالت میں مشہور تھے کہ حارث بن سوید، جو بنی عمرو بن عوف سے تھا اور بدر میں شریک ہوا، اس نے مجذر رضی اللہ عنہ کو احد کے دن قتل کیا تو اسے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاصاً قتل کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16062]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3262. -- باب: ميراث الدم والعقل
-- باب: قصاص (خون) اور دیت کی وراثت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16063
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أًبُو دَاوُدُ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُرَيْحٍ الْكَعْبِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الْقَتِيلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ بَعْدَ مَقَالَتِي هَذِهِ قَتِيلٌ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ: بَيْنَ أَنْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ، وَبَيْنَ أَنْ يَقْتُلُوا.
سیدنا ابو شریح کعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خزاعہ کے نوجوانو! تم نے ہذیل کا یہ جو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کر رہا ہوں۔ جس نے میری اس بات کے بعد اگر کوئی قتل کیا تو اس کے اہل دو معاملوں میں سے ایک کے اختیار کے حامل ہوں گے، چاہے دیت لے لیں یا پھر قتل کر دیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16063]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16064
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ لَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا، حَتَّى قَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ: كَتَبَ إِلِيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا، فَرَجَعَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ فِيهِ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْأَعْرَابِ لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ.
سعید فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے کہ دیت سے بیوی کو کچھ نہ ملے گا، یہاں تک کہ سیدنا ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ ”میں اشیم ضابی کی عورت کو اس کے خاوند کی دیت سے حصہ دوں“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجوع کر لیا۔
احمد بن صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اعرابیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16064]
احمد بن صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اعرابیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16064]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16065
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا شَيْبَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ شَيْبَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ، هُوَ ابْنُ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى قَرَابَتِهِمْ، فَمَا فَضَلَ فَلِلْعَصَبَةِ" قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ عَقْلَ الْمَرْأَةِ بَيْنَ عَصَبَتِهَا مَنْ كَانُوا لَا يَرِثُونَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا مَا فَضَلَ عَنْ وَرَثَتِهَا، وَإِنْ قُتِلَتْ فَعَقْلُهَا بَيْنَ وَرَثَتِهَا، وَهُمْ يَقْتُلُونَ قَاتِلَهَا.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت مقتول کے ورثاء کے درمیان وراثت ہو گی اور جو بچے وہ عصبہ کے لیے ہے۔“ اور فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: ”عورت (کے جرم) کی دیت اس کے عصبہ پر ہے، وہ جو بھی ہوں، جو اس کی وراثت میں سے صرف وہی پاتے ہیں جو اس کے ورثاء سے بچ جائے۔ اور اگر وہ قتل کی گئی ہے تو اس کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان ہے اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16065]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 16066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: عَقْلُ الرَّجُلِ الْحُرِّ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَتِهِ، مَنْ كَانُوا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ عَلَى فَرَائِضِهِمْ، كَمَا كَانُوا يَقْسِمُونَ مِيرَاثَهُ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَقْلُ الْمَرْأَةِ الْحُرَّةِ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَتِهَا مَنْ كَانُوا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ كَمَا يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ مِيرَاثُهَا، وَيَعْقِلُ عَنْهَا عَصَبَتُهَا إِذَا قَتَلَتْ قَتِيلًا أَوْ جَرَحَتْ جَرِيحًا، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْأَخِ مِنَ الْأُمِّ هَلْ يَرِثُ مِنَ الدِّيَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ أَبِيهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ وَرَّثَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَشُرَيْحٌ، وَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ: إِنَّمَا دِيَتُهُ بِمَنْزِلَةِ مِيرَاثِهِ.
جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آزاد آدمی کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان وراثت ہوگی اور وہ ان کے درمیان فرضی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے اور آزاد عورت کی دیت بھی وراثت ہے جو اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی اور اگر عورت قتل کرے یا کسی کو زخمی کرے تو اس کے عصبہ اس کی دیت ادا کریں گے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔ عمرو بن ہرم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: کیا اخیافی بھائی، جو باپ کی طرف سے نہ ہو، دیت کا وارث ہوگا؟ فرمایا: ہاں، سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما اور شریح رحمہ اللہ اسے وارث بناتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کی دیت اس کی میراث کے قائم مقام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16066]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 16067
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مَنْ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" لَقَدْ ظَلَمَ مَنْ لَمْ يُوَرِّثِ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس نے ظلم کیا جو ماں کی طرف سے (اخیافی) بھائیوں کو دیت میں سے کچھ بھی حصہ نہیں دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16067]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16068
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" الدِّيَةُ تُقْسَمُ عَلَى فَرَائِضِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَيَرِثُ مِنْهَا كُلُّ وَارِثٍ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: دیت اللہ کے فرض کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی اور ہر وارث کو اس سے حصہ ملے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16068]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3263. -- باب: من زعم أن للكبار أن يقتصوا قبل بلوغ الصغار
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بڑے (بالغ ورثاء) چھوٹے ورثاء کے بالغ ہونے سے پہلے قصاص لینے کا حق رکھتے ہیں۔
حدیث نمبر: Q16069
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَتَلَ ابْنَ مُلْجَمٍ بِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو يُوسُفَ: وَكَانَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْلَادٌ صِغَارٌ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: إِنَّمَا اسْتَبَدَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَقَتْلِهِ قَبْلَ بُلُوغِ الصِّغَارِ مِنْ وَلَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ قَتَلَهُ حَدًّا لِكُفْرِهِ لَا قِصَاصًا،.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے، اس نے ابو جعفر سے روایت کیا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ابن ملجم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بدلے میں قتل کیا۔“
امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کچھ چھوٹے (نابالغ) بچے بھی تھے۔“
ہمارے بعض اصحاب نے کہا: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی چھوٹی اولاد کے بالغ ہونے سے پہلے اکیلے ہی اسے قتل کرنے کا فیصلہ صرف اس لیے کیا کہ انہوں نے اسے اس کے کفر کی وجہ سے بطورِ حد قتل کیا تھا، نہ کہ بطورِ قصاص۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: Q16069]
امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کچھ چھوٹے (نابالغ) بچے بھی تھے۔“
ہمارے بعض اصحاب نے کہا: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی چھوٹی اولاد کے بالغ ہونے سے پہلے اکیلے ہی اسے قتل کرنے کا فیصلہ صرف اس لیے کیا کہ انہوں نے اسے اس کے کفر کی وجہ سے بطورِ حد قتل کیا تھا، نہ کہ بطورِ قصاص۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: Q16069]
حدیث نمبر: 16069
وَاحْتَجُّوا فِي ذَلِكَ بِمَا: ⦗١٠٤⦘ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَكْوًى لَهُ اشْتَكَاهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَكْوَاكَ هَذَا فَقَالَ: لَكِنِّي وَاللهِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَى نَفْسِي مِنْهُ؛ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ:" إِنَّكَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَةً هَاهُنَا، وَضَرْبَةً هَاهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى صُدْغَيْهِ، فَيَسِيلُ دَمُهَا حَتَّى يَخْضِبَ لِحْيَتَكَ، وَيَكُونُ صَاحِبُهَا أَشْقَاهَا كَمَا كَانَ عَاقِرُ النَّاقَةِ أَشْقَى ثَمُودَ".
ابو سنان دؤلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک بیماری میں ان کی عیادت کی اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! آپ کی اس تکلیف کا ہمیں خوف ہے (کہ اسی تکلیف میں آپ شہید نہ ہوجائیں) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ”واللہ! مجھے تو اپنے نفس کا کوئی خوف نہیں؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن رکھا ہے کہ ”عنقریب تجھے یہاں یہاں مارا جائے گا“ — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ کنپٹی کی طرف تھا — ”اور داڑھی خون سے تر ہوجائے گی اور تیرا صاحب سب سے زیادہ بدبخت ہوگا جس طرح قومِ ثمود میں اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا بدبخت ترین انسان تھا۔““ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16069]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف