🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3256. -- باب: من قال موجب العمد القود وإنما تجب الدية بالعفو عنه عليها
-- باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک قتلِ عمد کا تقاضا قصاص ہے اور دیت صرف اس صورت میں واجب ہوتی ہے جب قصاص معاف کر کے دیت پر صلح کر لی جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16044
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ، قَالَ:" مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ أَوْ رِمِّيَّةٍ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ أَوْ عَصًا، فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً روایت فرماتے ہیں کہ: ”جو اندھا دھند (لڑائی) میں یا پتھر، کوڑے یا عصا کی مار سے قتل ہو جائے تو اس کی دیت قتلِ خطا کی دیت ہے، اور جو جان بوجھ کر قتل کیا جائے تو اس میں قصاص ہے، اور جو اس (قصاص) کے درمیان حائل ہوا تو اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16044]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3257. -- باب: من قتل بعد أخذه الدية
-- باب: دیت وصول کر لینے کے بعد (قاتل کو) قتل کرنے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16045
قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 178] قَالَ مُجَاهِدٌ: مَنِ اعْتَدَى بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ، وَقَالَ عَطَاءٌ: فَإِنْ قَتَلَ بَعْدَمَا قَبِلَ الدِّيَةَ.
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ”پھر جو اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ [سورة البقرة: 178]
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو شخص دیت لینے کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
اور عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(یعنی) اگر وہ دیت قبول کرنے کے بعد قتل کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: Q16045]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16045
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا أُعَافِي رَجُلًا قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ" ⦗٩٦⦘ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا.
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دیت لے کر پھر قتل کرے، اسے میں کبھی معاف نہیں کروں گا۔“
یہ منقطع ہے اور یہ متصل سند سے بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16045]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ منقطع، مرسل»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16046
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أُعْفِي مَنْ قَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے معاف نہیں کروں گا جو دیت لے کر پھر قتل کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16046]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3258. -- باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص
-- باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q16047
قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ}.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ ”پھر جو شخص اس (قصاص) کو صدقہ (معاف) کر دے تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا۔“ [سورة المائدة: 45] “ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: Q16047]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16047
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَارِقٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ قَالَ فِي قَوْلِهِ:" فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ"، قَالَ: لِلَّذِي جُرِحَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ [سورة المائدة: 45] یہ اس کے لیے ہے جو زخمی کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16047]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16048
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ} [المائدة: ٤٥] قَالَ: يَهْدِمُ عَنْهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ مِنْ ذُنُوبِهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالرِّوَايَةُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنَّ الْعَفْوَ عَنِ الْقِصَاصِ كَفَّارَةٌ، أَوْ قَالَ شَيْئًا يُرَغِّبُ بِهِ فِي الْعَفْوِ عَنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ﴾ [سورة المائدة: 45] کے بارے میں فرماتے ہیں: یعنی اس کی مثل اس سے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قصاص سے درگزر کے بارے میں روایت ہے کہ ”یہ کفارہ بن جاتا ہے“ یا فرمایا کہ ”اس میں رغبت ہے کہ قصاص سے معاف کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16048]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16049
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِصَاصٌ قَطُّ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ:" مَنْ يَشُكُّ فِيهِ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ أَقُولُ عَنْ أَنَسٍ، فَقَالُوا لِي: لَا تَشُكَّ فِيهِ؟ فَقُلْتُ: لَا أَعْلَمُ، وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَقِّيًا كَيِّسًا.
عطاء بن ابی میمونہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پتہ چلا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس میں درگزری کا مشورہ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عفان رحمہ اللہ سے عرض کیا: ”اس میں کس کو شک ہے؟“ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں یہ کہتا تھا کہ «عَنْ أَنَسٍ» ”انس (رضی اللہ عنہ) سے““ تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں شک نہ کر۔“ میں نے کہا: ”میں اسے نہیں جانتا“ اور وہ نہایت ذہین اور فطین آدمی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16049]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16050
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ ⦗٩٧⦘ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رُفِعَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ قِصَاصٍ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معافی کا مشورہ نہ دیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16050]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16051
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا قَتَلَ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَتَلْتَهُ؟" فَقَالَ:" إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ" قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ:" كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟" قَالَ: كُنْتُ وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟" قَالَ: مَا لِيَ مَالٌ إِلَّا كِسَائِي، قَالَ:" فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟" قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ وَقَالَ:" دُونَكَ صَاحِبَكَ" فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" فَرَجَعَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ" وَمَا أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ؟" قَالَ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ كَذَاكَ" قَالَ: فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيِّ.
علقمہ بن وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں ان کے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا جو دوسرے سے قصاص کا طالب تھا، وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ اس نے کہا: اگر وہ اعتراف نہ کرے تو میں اس پر گواہ قائم کرتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسے قتل کیا؟“ تو جواب دیا کہ ہم دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا میں نے اس کے سر پر کلہاڑا مارا اور وہ مر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے پاس دیت دینے کے لیے کچھ ہے؟“ کہا: یہ میری چادر ہے۔ فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے کہ تیری قوم کے لوگ تجھے خرید لیں گے؟“ کہا: میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ حقیر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تسمہ اس شخص کے ہاتھ میں پکڑایا اور فرمایا: ”لے جاؤ اسے اور قصاص لے لو“، اس نے پکڑا اور چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اسے یہ قتل کر دے گا تو یہ بھی اس جیسا ہو گا“۔ تو قوم کا ایک شخص اس سے ملا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پہنچائی۔ وہ شخص پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں نے اسے آپ کے حکم سے پکڑا تھا اور اب آپ کی یہ بات پتہ چلی ہے، تو فرمایا: ”ہاں، کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرا گناہ اور تیرے بھائی کا گناہ اپنے سر لے لے؟“ کہنے لگا: کیوں نہیں اے اللہ کے نبی! تو فرمایا: ”پھر ایسے ہی ہو گا“، تو اس شخص نے اسے چھوڑ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16051]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں