السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3267. -- باب: الولي لا يستبد بالقصاص دون الإمام
-- باب: مقتول کا وارث امام (حکمران کی اجازت) کے بغیر خود مختار ہو کر قصاص نہیں لے سکتا۔
حدیث نمبر: 16080
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ: {فَمَنِ اعْتَدَى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ} [البقرة: ١٩٤] ، وَقَوْلِهِ: {وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ} [الشورى: ٤١] ، وَقَوْلِهِ: {وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ} [النحل: ١٢٦] ، وَقَوْلِهِ: {وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا} [الشورى: ٤٠] ، فَهَذَا وَنَحْوُهُ نَزَلَ بِمَكَّةَ، وَالْمُسْلِمُونَ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ، لَيْسَ لَهُمْ سُلْطَانٌ يَقْهَرُ الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَتَعَاطَوْنَهُمْ بِالشَّتْمِ وَالْأَذَى، فَأَمَرَ اللهُ ⦗١٠٨⦘ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يُجَازِي مِنْهُمْ أَنْ يُجَازُوا بِمِثْلِ الَّذِي أَتَى إِلَيْهِ، أَوْ يَصْبِرُوا وَيَعْفُوا فَهُوَ أَمْثَلُ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَعَزَّ اللهُ سُلْطَانَهُ أَمَرَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْتَهُوا فِي مَظَالِمِهِمْ إِلَى سُلْطَانِهِمْ، وَلَا يَعْدُو بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ كَأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ: {وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا} [الإسراء: ٣٣] ، يَقُولُ: يَنْصُرُهُ السُّلْطَانُ حَتَّى يُنْصِفَهُ مِنْ ظَالِمِهِ، وَمَنِ انْتَصَرَ لِنَفْسِهِ دُونَ السُّلْطَانِ فَهُوَ عَاصٍ مُسْرِفٌ قَدْ عَمِلَ بِحَمِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ وَلَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ اللهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ﴾ [سورة البقرة: 194] اور اس فرمان ﴿وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولٰٓئِکَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیلٍ﴾ [سورة الشورى: 41] اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ﴾ [سورة النحل: 126] اور یہ فرمان ﴿وَجَزَاءُ سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا﴾ [سورة الشورى: 40] ، ان آیات اور ان جیسی دوسری آیات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئیں اور مکہ میں مسلمان تھوڑے تھے، ان کا کوئی امام نہیں تھا جو انہیں مشرکین کی تکالیف سے نجات دلاتا، تو مسلمانوں کو بھی حکم تھا کہ مشرکین جیسی تکلیف تمہیں دیں ویسا بدلہ تم خود اسے دو یا صبر کرتے ہوئے درگزر کر دو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ہجرت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہت کے ساتھ عزت بخشی تو مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ آپس کے معاملات اپنے بادشاہ کے سامنے لاؤ اور جاہلوں کی طرح ایک دوسرے کے دشمن نہ بنو، فرمایا: ﴿وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا فَلَا یُسْرِفْ فِی الْقَتْلِ اِنَّهُ کَانَ مَنْصُورًا﴾ [سورة الإسراء: 33] سلطان اس کی مدد کرے، ظالم سے انصاف دلائے اور جو بادشاہ کے بغیر اپنا فیصلہ خود کرلے وہ نافرمان ہے، اسراف کرنے والا ہے اور جاہلیت کا کام کرنے والا ہے جو اللہ کے فیصلے پر راضی نہ ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16080]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3268. -- باب: ما روي في عمد الصبي
-- باب: نابالغ بچے کے جان بوجھ کر (عمدًا) کیے گئے فعل (جرم) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16081
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا يَؤُمَّنَّ أَحَدٌ جَالِسًا بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمْدُ الصَّبِيِّ وَخَطَؤُهُ سَوَاءٌ، فِيهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ تَزَوَّجَتْ عَبْدَهَا فَاجْلِدُوهَا الْحَدَّ هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرَاوِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِإِسْنَادٍ فِيهِ ضَعْفٌ.
حکم فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی بیٹھ کر امامت نہ کروائے اور بچے کا عمداً یا خطاءً برابر ہے، اس میں کفارہ ہے اور جو بھی عورت اپنے غلام سے نکاح کرے تو اسے حد کے کوڑے مارو۔
یہ منقطع ہے اور اس کا راوی جابر جعفی ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی سند سے مروی ہے جس میں کمزوری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16081]
یہ منقطع ہے اور اس کا راوی جابر جعفی ہے، اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی سند سے مروی ہے جس میں کمزوری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16081]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16082
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَابُورَ الدَّقِيقِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْحَلَبِيُّ عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَمْدُ الْمَجْنُونِ وَالصَّبِيِّ خَطَأٌ.
حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بچے کا عمداً اور مجنوں کا عمداً بھی خطا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16082]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
3269. -- باب: أحد الأولياء إذا عدا على رجل فقتله بأنه قاتل أبيه
-- باب: جب ورثاء میں سے کوئی کسی شخص پر زیادتی کرتے ہوئے اسے یہ سمجھ کر قتل کر دے کہ وہ اس کے باپ کا قاتل ہے۔
حدیث نمبر: 16083
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَثَبَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَلَى الْهُرْمُزَانِ فَقَتَلَهُ، فَقِيلَ لِعُمَرَ: إِنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَتَلَ الْهُرْمُزَانَ، قَالَ: وَلِمَ قَتَلَهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَتَلَ أَبِي، قِيلَ: وَكَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: رَأَيْتُهُ قَبْلَ ذَلِكَ مُسْتَخْلِيًا بِأَبِي لُؤْلُؤَةَ، وَهُوَ أَمَرَهُ بِقَتْلِ أَبِي قَالَ عُمَرُ: مَا أَدْرِي مَا هَذَا؟ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ فَاسْأَلُوا عُبَيْدَ اللهِ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْهُرْمُزَانِ، هُوَ قَتَلَنِي، فَإِنْ أَقَامَ الْبَيِّنَةَ فَدَمُهُ بِدَمِي، وَإِنْ لَمْ يُقِمِ الْبَيِّنَةَ فَأَقِيدُوا عُبَيْدَ اللهِ مِنَ الْهُرْمُزَانِ فَلَمَّا وَلِيَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ لَهُ: أَلَا تُمْضِي وَصِيَّةَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي عُبَيْدِ اللهِ؟ قَالَ: وَمَنْ وَلِيُّ الْهُرْمُزَانِ؟ قَالُوا: أَنْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: فَقَدْ عَفَوْتُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو سیدنا عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہرمزان کو قتل کر دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات بتائی گئی تو پوچھا: تم نے اس کو کیوں قتل کیا؟ انہوں نے عرض کیا: اس نے میرے باپ کو قتل کیا ہے۔ پوچھا: وہ کیسے؟ کہنے لگے: میں نے اسے ابو لؤلؤ سے مشورہ کرتے دیکھا تھا، اسی نے میرے والد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے نہیں پتہ کہ کیا معاملہ ہے۔ دیکھو اگر میں شہید ہو جاؤں تو عبیداللہ سے اس بارے میں پوچھنا، اگر وہ کوئی گواہ پیش کر دیں تو ٹھیک ہے، ورنہ اس سے ہرمزان کا قصاص لے کر دینا۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی بنے تو انہیں کہا گیا کہ عبیداللہ کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت آپ قائم نہیں کریں گے؟ پوچھا: ہرمزان کا ولی کون ہے؟ کہنے لگے: آپ ہیں اے امیر المؤمنین! تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو معاف کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16083]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
3270. -- باب: القصاص بغير السيف
-- باب: تلوار کے علاوہ کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 16084
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً رُضِخَ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ؟ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَبُعِثَ إِلَى الْيَهُودِيِّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا اس نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا تو اس یہودی کو بلایا گیا، اس یہودی نے اعتراف کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16085
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، أنبأ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ فَعَظُمَتْ بُطُونُنَا، وَتَهَشَّمَتْ أَعْضَاؤُنَا فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا قَالَ: فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا حَتَّى صَلَحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَلْوَانُهُمْ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، زَادَ فِيهِ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ: وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عُرینہ قبیلے کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”ہمیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی، ہمارے پیٹ بڑھ گئے، اعضا کمزور ہو گئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ: ”اونٹوں کے چرواہے کے ساتھ رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب ملا کر پیو۔“ وہ چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، وہ صحیح ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ جب یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کروایا، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں۔
قتادہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کو حرہ (کی پتھریلی زمین) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16085]
قتادہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کو حرہ (کی پتھریلی زمین) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16086
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ أَبِي الثَّلْجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: إِنَّمَا سَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَهُمْ لِأَنَّهُمْ سَمَرُوا أَعْيُنَ الرِّعَاءِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ غَيْلَانَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں اس لیے پھروائیں کہ انہوں نے چرواہے کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16086]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 16087
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ، أَقَادَ رَجُلًا مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ بِعَصًا فَقَتَلَهُ بِعَصًا وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا مَثَّلَ بِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ، مُثِّلَ بِهِ ثُمَّ قُتِلَ.
عمر بن حسین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے ایک شخص کو دوسرے سے قصاص دلایا کہ اس نے لاٹھی سے قتل کیا تھا، تو اسے بھی لاٹھی سے مارا گیا اور شعبی رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ اگر وہ مثلہ کر کے قتل کرے تو اس کا بھی مثلہ کر کے قتل کیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16087]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
3271. -- باب: ما روي في أن لا قود إلا بحديدة
-- باب: ان روایات کا بیان کہ قصاص صرف لوہے (دھار دار ہتھیار) سے ہی لیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 16088
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قَيْسٌ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا قَوَدَ إِلَّا بِحَدِيدَةٍ" كَذَا أَتَى بِهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ جَابِرٍ وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ جَابِرٍ عَلَى اللَّفْظِ الَّذِي مَضَى فِي بَابِ شِبْهِ الْعَمْدِ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص صرف لوہے کے ساتھ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16088]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 16089
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا قَوَدَ إِلَّا بِالسَّيْفِ" قَالَ يُونُسُ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: عَمَّنْ أَخَذْتَ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَذْكُرُ ذَلِكَ.
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص صرف تلوار کے ساتھ ہے۔“ یونس کہتے ہیں: میں نے حسن رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ حدیث تم نے کس سے سنی ہے؟ تو جواب دیا: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنايات/حدیث: 16089]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف